یوسف سلیم چشتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یوسف سلیم چشتی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1895  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بریلی،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 فروری 1984 (88–89 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور،  پنجاب،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یوسف سلیم چشتی (پیدائش: 1895ء— وفات: 11 فروری 1984ء) محقق، مؤرخ اور مفسر کلام اقبال تھے۔

سوانح[ترمیم]

بریلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1918ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفے میں بی۔ اے آنرز اور 1924ء میں احمد آباد یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا۔ پہلے کانپور کے ایک کالج اور پھر ایف سی کالج لاہور میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ علامہ اقبال اور غلام بھیک نیرنگ کی مساعی میں لاہور میں اشاعت اسلام کے پرنسپل رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ کالج بند ہو گیا تو ریاست منگرو اور بعد ازاںکوروائی چلے گئے۔ 1948ء میں کراچی آکر تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کیا۔ چشتی کو 16 سال محمد اقبال کی صحبت کا شرف حاصل رہا۔ آپ نے اقبال کی تمام اردو اور فارسی کتابوں کی شرحیں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ مذہب ،فلسفہ، تصوف، تاریخ اور سوانح پر متعدد کتابیں کے مصنف ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

  • اسرارِشرح خودی (1981)
  • شرح رموزِ بے خودی
  • شرح پیام مشرق
  • شرح بانگ درا
  • شرح زبور عجم
  • شرح جاوید نامہ
  • شرح بال جبریل
  • شرح ضرب کلیم
  • شرح مثنوی چہ باید کرد اے اقوام مشرق مع مسافر
  • شرح ارمغان حجاز
  • شرح دیوان غالب
  • تعلیمات اقبال
  • علامہ اقبال مرحوم، حیات، فلسفہ، پیغام
  • تاریخ تصوف
  • ملفوظات اقبال
  • اقبال اور پیام حریت


وفات[ترمیم]

یوسف سلیم چشتی کا 11 فروری 1984ء کو لاہور میں انتقال ہو گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]