میر جعفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
میر جعفر (بائیں) اور اس کا بڑا بیٹا، میر میراں

میر جعفر نام جعفر علی خان نواب سراج الدولہ کی فوج میں ایک سردار تھا۔بعد میں ترقی کرتے ہوئے سپہ سالار کے عہدے تک پہنچ گیا یہ نہایت بد فطرت آدمی تھا۔اس کی نگاہیں تخت بنگال پر تھیں یہ چاہتاتھا کہ نوجوان نواب کو ہٹاکر خود نواب بن جائے اس لئے اس نے نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے ان کی شکست اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا جس کے بعد بنگال پر انگریزوں کا عملاً قبضہ ہو گیا۔انہوں نے میر جعفرکو 1757ء برائے نام بنگال کا نواب مقرر کیا یہ ایک کٹھ پتلی حکمران تھا اصل اختیارات لارڈ کلائیو کے ہاتھ میں تھے اس لئے انگریزوں کو لوٹ مار کی آزادی تھی انہوں نے بنگالی عوام کو جی بھر لوٹا ان کے قالین کے کاروبار تباہ ہوگئے انگریز نے اسے معزول کر کے پنشن مقرر کر دی اوراس کے داماد میر قاسم علی خان کونواب بنایا یہ انگریزوں کا مخالف تھا اس نےانگریزوں سے جنگ کی تو انگریزوں نے میر جعفر کو دوبارہ نواب بنایا اسی وجہ سے بنگال سے اسلامی حکومت ختم ہوئی میر جعفر کی وفات 5فروری 1765ء میں ہوئی[1] علامہ اقبال نے کہا تھا
جعفر از بنگال و صدق از دکن
ننگ آدم ننگ دین ننگ وطن
وہ نواب سراج الدولہ کو حسرت سے یاد کرتے تھے انگریزوں کے ہر ناجائز مطالبے کو ماننے کی وجہ سے بنگالی عوام میر جعفر کو “لارڈ کلائیو کا گدھا “ کہتے تھے ۔ پاکستان کےپہلے صدر اسکندر مرزا اس کی نسل سے تھےحوالہ درکار؟۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. The Cambridge History of India, Vol V.P.174