مندرجات کا رخ کریں

میر جعفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
میر جعفر
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1691ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کومیلا   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 فروری 1765ء (73–74 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنگال   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جعفر گنج قبرستان   ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد اشرف علی خان ،  نجابت علی خان ،  نجم الدین علی خان   ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
نواب بنگال اور مرشدآباد (6  )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
2 جولا‎ئی 1757  – 20 اکتوبر 1760 
سراج الدولہ  
میر قاسم  
نواب بنگال اور مرشدآباد (6  )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
25 جولا‎ئی 1763  – 5 فروری 1765 
میر قاسم  
نجم الدین علی خان  
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میر جعفر (بائیں) اور اس کا بڑا بیٹا، میر میراں
جنگ پلاسی میں فیروزمندی کے بعد میر جعفر رابرٹ کلائیو کے ساتھ ملقات کرتے ہوئے۔

میر جعفر نواب سراج الدولہ کی فوج کا سپہ سالار تھا، جس نے 1757ء جنگ پلاسی کے دوران نواب سراج الدولہ کے ساتھ غداری کرکے غدار کے لقب سے شہرت پائی۔ میر جعفر کا پورا نام میر جعفر علی خان بہادر تھا جو متحدہ ہندوستان کی ریاست متحدہ بنگال میں غداری کے ذریعے نواب بنا، ہندوستان کی بھی تقسیم سے پہلے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک بنگال پاکستان کے حصے میں آیا جو آج بنگلہ دیش بن چکا ہے جب کہ دوسرا بنگال جسے مغربی بنگال کہتے ہیں وہ آج بھی بھارت کی اہم ترین ریاست ہے۔

میر جعفر کے دادا سید حسین طباطبائی عراق کے شہر نجف سے ہجرت کرکے مغل بادشاہ اورنگزیب کی دعوت پر دلی آئے اور قاضی مقرر ہوئے، طباطبائی نے اورنگزیب کی بھتیجی سے شادی کی ، میر جعفر کی پھوپھی بنگال کے نواب علی وردی خان کی اہلیہ تھیں۔ نواب علی وردی خان کے نواسے سراج الدولہ بعد میں بنگال کے نواب بنے اور انہی کے ساتھ میر جعفر نے غداری کی تھی۔[2] جعفر علی خان نواب سراج الدولہ کی فوج میں ایک سردار تھا۔ بعد میں ترقی کرتے ہوئے سپہ سالار کے عہدے تک پہنچ گیا۔ یہ نہایت بد فطرت آدمی تھا۔ اس کی نگاہیں تخت بنگال پر تھیں۔ یہ چاہتا تھا کہ نوجوان نواب کو ہٹا کر خود نواب بن جائے، اس لیے اس نے نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے ان کی شکست اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا، جس کے بعد بنگال پر انگریزوں کا عملاً قبضہ ہو گیا۔

اس خدمت کے صلے میں انگریزوں نے میر جعفر کو 1757ء میں برائے نام بنگال کا نواب مقرر کر دیا۔ یہ ایک کٹھ پتلی حکمران تھا، اصل اختیارات لارڈ رابرٹ کلائیو کے ہاتھ میں تھے۔ چنانچہ انگریزوں کو لوٹ مار کی کھلی آزادی تھی۔ انھوں نے بنگالی عوام کو جی بھر لوٹا۔ پنگالیوں کے قالین کے کاروبار تباہ ہو گئے۔

میر جعفر کی لالچ اور غداری کی وجہ سے بنگال سے اسلامی حکومت ختم ہو گئی اور برصغیر پہ انگریزوں کے قبضے کا راستہ ہموار ہو گیا، جو اگلے 190 سال تک برقرار رہا۔

بعد ازاں انگریز نے میر جعفر (اکتوبر 1760)کو معزول کر کے اس کی پنشن مقرر کر دی اور اس کے داماد میر قاسم علی خان کو نواب بنا دیا۔میر قاسم 1763 تک تخت پر براجمان رہا، انگریزوں نے دوبارہ 25 جولائی 1763 کو میر جعفر کو بنگال کا نواب بنا دیا۔جو میر جعفر جنوری 1763 اپنی وفات تک تخت پر نواب رہا۔

میر جعفر کی وفات 5 فروری 1765ء میں ہوئی[3]

علامہ اقبال نے بطور غدار میر صادق کے ساتھ اس کا بھی تذکرہ کیا.

جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن
میر جعفر کا پڑپوتا پاکستان کا پہلا صدر رہ چکا ہے میجر جنرل اسکندر مرزا جو پاکستان میں پہلی مرتبہ مارشل لا لگانے کا محرک بنا تھا اور پھر اس کے بعد تو مارشل لاؤں کی جیسے لائن ہی لگ گئی تھی۔ میر جعفر نے برصغیر کو غلامی کی دلدل میں پھنسانے کا دروازہ کھولا تو اس کے پڑپوتے نے پاکستان میں آمریت کا در کھولنے میں پہل کی[4] آج مرشد آباد کے اس محل کو نمک حرام ڈیوڑھی کہتے ہیں، جہاں کبھی میر جعفر رہتا تھا[5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Mir-Jafar — بنام: Mir Ja'far — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. روزنامہ پاکستان 19 جون 2022ء
  3. The Cambridge History of India, Vol V.P.174
  4. روزنامہ ایکسپریس ،26 نومبر 2023
  5. https://www.raahnuma.com/7844/