بنگلہ دیش میں اردو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

1971ء تک بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا اور اس کی پہچان مشرقی پاکستان کے طور پر تھی۔ اردو کو یہاں کی مقامی بنگالی زبان کی طرح سرکاری حمایت حاصل تھی۔ تاہم 1971ء کے بعد کے واقعات جن کے بعد جب یہ ملک وجود میں آیا، اردو زبان کو یہاں کی پہچان سے متصادم سمجھا گیا اور یہاں کی بہاری آبادی جو اردوگو ہے، غیر شہری سمجھا گیا۔ موجودہ دور میں اردو داں آبادی کی تعداد چار لاکھ بتائی گئی ہے۔[1]

آزادی کے بعد اردو تعلیم کی مسدودی[ترمیم]

1971ء کے فوری بعد اسکولی سطح پر اردو تعلیم عملاً ختم ہو گئی۔ کالج کی سطح پر یہ سلسلہ 2002ء میں ختم ہوا کیونکہ اردو کے اساتذہ دست یاب نہیں تھے۔ تاہم دینی مدارس میں اردو کی پڑھائی آج بھی جاری رہی۔[1]

ادب و ثقافت سے اردو کی دوری[ترمیم]

بنگلہ دیش میں گزشتہ چار پانچ دہوں سے کہیں بھی کوئی اردو ڈراما پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی اردو تمثیل نگاری کوئی زندہ فن کے طور پر وہاں موجود ہے۔ اسی طرح سے نثری ادب مثلاً ناول نگاری اور افسانہ نویسی کا کوئی یہاں پر وجود ہے۔ تاہم شعروشاعری کے شعبے کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔[1]

دستوری عدم امتیاز کی دفعہ اور لسانی برابری[ترمیم]

بنگلہ دیش دستور کی دفعہ 28 کی رو سے جنس، مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر مساوات کی طمانیت دی گئی ہے۔ تاہم اس میں لسانی برابری کی بات نہیں کہی گئی ہے۔[1]

2008ء کا عدالتی حکم[ترمیم]

ایک طویل قانونی رسہ کشی کے بعد بنگلہ دیش کی عدالت نے 2008ء میں احکام جاری کیے کہ اردو داں بہاری لوگوں کو بنگلہ دیش کی شہریت دی جائے۔ اس کا فوری نتیجہ یہ دیکھا گیا کہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی جماعتیں جدید ترین شہریت یافتہ اردوگو بہاریوں کو اپنی جانب مبذول کرنے کے لیے اردو میں ورقیے چھپوائے تھے۔[2]

بازآبادکاری کی جدوجہد[ترمیم]

حالانکہ بیشتر اردو داں اصحاب کو 2008ء کے بعد شہریت دے دی گئی تھی، پھر بھی ان کی اکثریت پناہ گزیں کیمپوں میں زبوں حالی کی زندگی جی رہی ہے۔ اس لیے اب یہ لوگ نئے رہائشی انتظام اور مفت اسکولی تعلیم کی کوشش کر رہے ہیں۔[3] غالبًا ان بہاریوں کی بازآبادکاری کے بعد اس ملک میں اردو کے بہتر حالات کی بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]