سویڈن میں اردو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سویڈن میں اردو زبان کی آمد اور اردو کی ادبی سرگرمیوں کا آغاز اس ملک میں پاکستانی تاریکین وطن کے ساتھ 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں سے شروع ہوا۔[1]

ادبی ذوق[ترمیم]

سویڈن میں اردو ادب اور شاعری کا ذوق رکھنے والوں کی ایک تعداد موجود ہے۔ مگر دیگر اصناف ادب جیسے افسانہ، ناول، انشائیہ وغیرہ کا بھی اردو کے اہل ادب رغبت رکھتے ہیں۔جن میں سائیں سُچّا، باسط میر، احمد فقیہ، عرفان ملک، زبیر وارثی، عارف محمود کسانہ اور جمیل احسن کے علاوہ خواتین میں سعیدہ بانو بیگ کے نام سرفہرست ہیں۔[1]

سویڈن میں اردو کے معروف کالم نگار، صحافی اور ادیب عارف محمود کسانہ دو دہائیوں سے اردو ادب کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کا ہفتہ وار کالم  افکار تازہ کے نام سے روزنامہ اوصاف کے ادارتی صفحہ پر شائع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سویڈن میں اردو کا آن لائن اخبار اردو قاصد اور دیگر اخبارات اور آن لائن پورٹل بھی اس کالم کو شائع کرتے ہیں۔ عارف کسانہ سویڈن میں واحد پاکستانی ہیں جو سویڈش وزارت خارجہ کے تحت فارن پریس ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔[حوالہ درکار]

ان کا کالموں کا مجموعہ افکار تازہ کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔ انہوں نے بچوں کے لیے ادب بھی تخلیق کیا ہے۔ بچوں کے لیے ان کی دو کتابیں سبق آموز کہانیاں اور سبق آموز کہانیاں 2 کو نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ یہ کتابیں بہت مقبول ہوئی ہیں اور ان کے تراجم بہت سی زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں انگریزی، عربی، فارسی، فرانسیسی، ہندی، بنگالی، نارویجین، سویڈش، ڈینش، جرمن اور گوجری شامل ہیں۔[حوالہ درکار] مزید کئی زبانوں میں ترجمہ ہو رہا ہے۔ سبق آموز کہانیاں بچوں کے لیے اردو کی واحد کتاب ہے جو اتنی زیادہ زبانوں میں شائع ہوئی ہے۔ اور اس کی تقاریب رونمائی جاپان، چین، ناروے، سویڈن، ڈنمارک، ہالینڈ، بیلجئیم، ماریشس، ایران اور جموں میں ہوچکی ہے۔ اس کتاب پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے دو طلبہ نے پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے ہیں۔[حوالہ درکار] اس کتاب کا آٹھ زبانوں میں موبائل ایپ بھی موجود ہے۔[حوالہ درکار]

اشاعتی میدان میں ایک اہم سنگ میل[ترمیم]

1983ء میں ولید میر نے سگتونا، سٹاکہوم میں ’’کتابیات‘‘ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ اپنے رفقا کی مدد سے قائم کیا۔ اس ادارے نے پاکستان کے فوجی حکمران صدر محمد ضیاء الحق سے ناراض تارکین وطن کی نگارشات کو شائع کرنے کا ذمہ اپنے سر لیا تھا، حالانکہ اور بھی تخلیقات یہاں سے شائع ہوتی رہی ہیں۔ چند مخصوص مطبوعات جو اس ادارے سے شائع ہوئیں:[1]

قلم کار ادبی تخلیق
حبیب جالب گنبد بے در (مجموعہ کلام)
فارغ بخاری آئینے صداؤں کے (مجموعہ کلام)
فیض احمد فیض مجموعہ کلام کے سویڈش تراجم
رام لعل افسانوں کا مجموعہ

اردو لائف ڈاٹ کام[ترمیم]

سویڈن کے شہر گوٹنبرگ سے امجد شیخ نے اردو دنیا کے لیے ایک ویب سائٹ شروع بنائی ہے۔ اس میں اردو اہل قلم کی نگارشات کو دنیا سے روشناس کرنے علاوہ اردو اور دیگر یورپی زبانوں کو قریب لانے کے لیے، شاعری کے تراجم کی سہولت پیش کی گئی ہے۔ کئی شعرا کی شاعری بزبان شاعر ویب سائٹ پر محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ صارفین کو اردو زبان میں براہ راست بغیر کسی مشکل کے ایک میل لکھنے اور آگے بھیجنے کی سہولت مہیا کرتی ہے۔[1]

لُنڈ شہر میں اردو[ترمیم]

لُنڈ شہر سے زبیر فاروقی اپنا ایک سہ ماہی جریدہ ’’زاویہ‘‘ بھارت کے ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کے تعاون سے شائع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے لُند شہر میں پاکستانی ہندوستان سے آکر بسنے والوں کی خاصی تعداد کو دیکھتے ہوئے اردو کتب خانہ قائم کرنے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔[1]

اردو کی تنظمیں[ترمیم]

اِنی شیئیٹیو ایشیا (Initiative Asia) نام کی ایک تنظیم سویڈن میں 2011ء میں قائم ہوئی تھی لیکن اب اس تنظیم کا وجود باقی نہیں۔ اس وقت اردو ادب کے حوالے سے سویڈن میں سب سے فعال تنظیم پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹی PICS ہے۔ جو ادرو کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ اس کے صدر شہزاد انصاری ہیں۔ جب کہ دیگر عہدہ داران میں صاحب دیوان شاعر شکیل خان شکو، شہاب قادری، غزال مہدی، نوید میمن اور اشعر شامل ہیں۔ یہ تنظیم اردو ادب کے حوالے سے مختلف تقریبات کا انعقاد کرتی ہے۔ اور ایک آن لائن پورٹل اردو قاصد کے نام سے بھی جاری کیا ہوا ہے۔اسٹاک ہوم اسٹڈی سرکل کے تحت 2011ء سے باقاعدہ نشستیں منعقد ہوتی ہیں۔ جن میں دوسری سرگرمیوں کے علاوہ، فکر اقبال، اردو ادب کے فروغ اور کتابوں پر تبصرہ شامل ہوتا ہے۔

۔

اردو کے لیے سویڈن کے عوام کا مثبت رویہ[ترمیم]

سویڈن کے نواح میں بالتھورپ نامی چھوٹے سے قصبے کی لائبریری نے اپنے علاقے میں بسنے والے واحد پاکستانی نژاد شہری کے لیے اردو کی کتابیں مہیا کرکے 2015ء میں ایک نئی مثٓال قائم کی۔ اس کتب خانے کے منتظم کے مطابق ایک شہری نے ہم سے اردو کی کتابوں کے لیے پوچھا جس کے لیے ہم نے اسے ریمورٹ لون سسٹم کے تحت کچھ کتابیں مہیا کیں اور اس قاری کو فراہم کی۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]