سفر کربلا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سفر کربلا امام حسین اور ان کے ساتھیوں کا سفر جو مدینہ سے مکہ اور وہاں سے کربلا اور واقعہ کربلا کے بعد شام اور پھر کربلا سے ہوتے ہوئے مدینہ واپسی کا سفر تھا۔

مدینہ تا کربلا سفر کے ایام[ترمیم]

امام حسین کا قیام، ـ 3 شعبان 60 ھ میں یزید کی بیعت کے انکار سے 10 محرم الحرام 60 ھ عاشور کے دن آپ کی شہادت تک ـ 175 دن تک جاری رہا:

اگر سفر اسراء اور قیام شام نیز 20 صفر 61 ھ تک واپس کربلا آمد کے مجموعی کم از کم 40 دن اور واپس مدینہ پہونچنے کے 20 ایام اضافہ کیے جائیں تو قافلہ حسینی کا کل سفر کم از کم 235 دن سے زیادہ کا ہو گا۔

مکہ تا کوفہ منازل کی تعداد[ترمیم]

امام حسین نے مکہ سے کوفہ تک 18 منزلیں طے کیں۔ ایک منزل یا منزلگاہ سے دوسری منزل تک کا فاصلہ 3 فرسخ (= 18.72 کلومیٹر) تھا۔

مکہ سے کربلا منزل بہ منزل کی تفصیل بہت سی کتب میں موجود ہے۔ جو 18 سے 40 منازل تک کے اختلاف کو پیش کرتی ہیں۔

مکہ مکرمہ سے احرام حج توڑ کر عمرہ انجام دیا اور ذوالحجہ 60 ھ میں مکہ سے امام علیہ السلام کی روانگی ہوئی۔

1-بستان بنی عامر،

2-تنعیم (یمن میں یزیدی کارگزار بحیر بن ریسان حمیری کی طرف سے شام کی طرف بھیجے ہوئے صفایا کے منتخب جنگی غنائم کے قافلے کو اپنی تحویل میں لیا)،

3-صفاح (امام(علیہ السلام) کی فرزدق شاعر سے ملاقات)،

4-ذات العرق (امام (علیہ السلام) کی بشر بن غالب نیز عون بن عبد اللہ بن جعفر سے ملاقات)،

5-وادی عقیق،

6-غمرہ،

7-ام خرمان،

8-سلح،

9-افیعیہ،

10-معدن فزان،

11-عمق،

12-سلیلیہ،

13-مغیثہ ماوان،

14-نقرہ،

15-حاجز (امام (علیہ السلام) نے یہیں سے قیس بن مسہر کو کوفہ روانہ کیا)،

16-سمیراء،

17-توز،

18-اجفر ( یہاں امام علیہ السلام کا سامنا عبد اللہ بن مطیع عدوی سے ہوا جس نے امام علیہ السلام کو واپسی کا مشورہ دیا)،

19-خزیمیہ،

20-زرود ( اس مقام پر 9 ذی الحجہ، زہیر بن قین کا قافلہ، قافلۂ حسینی سے جا ملا اور مسلم ع اور عروہ کی شہادت کی خبر کی ملی،

21-ثعلبیہ،

22-بطان،

23-شقوق،

24-زبالہ ( اس منزل پر امام علیہ السلام کو قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر موصول ہوئی اور نافع بن ہلال سمیت چند افراد کا قافلہ، حسینی قافلے میں شامل ہوا)،

25-بطن العقبہ (امام (علیہ السلام) کی عمرو بن لوزان سے ملاقات اور عمرو کا آپ (علیہ السلام) کو واپسی کا مشورہ)

26-عمیہ،

27-واقصہ،

28-شراف،

29-تالاب ابومسک،

30-جبل ذی حم (امام عالی مقام علیہ السلام کا حُر کے لشکرّ سے سامنا ہوا)

31-بیضہ ( اس مقام پرامام (علیہ السلام) نے اپنے اصحاب اور حر کو مشہور خطبہ دیا)،

32-مسیجد،

33-حمام،

34-مغیثہ،

35-ام قرون،

36-عذیب (کوفہ کا راستہ عذیب سے قادسیہ اور حیرہ کی جانب تھا۔ لیکن امام (علیہ السلام) نے راستہ بدل دیا اور کربلا کی طرف سے گئے)

37-قصر بنی مقاتل (امام (علیہ السلام) کی عبید اللہ بن حرّ جعفی سے ملاقات ابن حر نے امام (علیہ السلام) کی طرف سے نصرت کی دعوت رد کردی)

38-قطقطانہ،

کربلائے معلی یعنی (وادی طَفّ) آخری منزل تھی۔

دو محرم الحرام سنہ61 ہجری کو امام عالی مقام علیہ السلام اپنے اصحاب و عیال کو لیکر کربلا میں اترے۔.!!!

سفر اسیری کی منزلیں[ترمیم]

کوفہ سے شام تک کی ان منزلوں کی تعداد 14 تھی جو اہل بیت علیہم السلام نے اسیری کی حالت میں طے کیں۔

شام میں قیام اور عزاداری کے دن[ترمیم]

شام میں ایک مہینہ یا 45 دن تک قیام پر مبنی روایات میں کچھ زیادہ قوت نہیں ہے کیونکہ ان اقوال کے قائلین متفرد (اور تنہا) ہیں اور چونکہ خاندان معاویہ کی عورتوں نے اہل بیت علیہم السلام کی عزاداری کو دیکھا اور ان کی حقانیت کا ادراک کیا تو انہوں نے بھی پانچویں دن عزاداری کی اس مجلس میں شرکت کرنا شروع کردی چنانچہ یہی نتیجہ لیا جاسکتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام نے دمشق پہنچنے سے لے کر مدینہ واپس روانگی تک، شام میں 10 روز سے زیادہ قیام نہیں کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج5، ص133۔
  2. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص122۔
  3. طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص475۔
  4. ابن سعد، وہی مآخذ، ص192۔
  5. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص353۔
  6. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص81۔
  7. ابن عساکر، ترجمۃ الامام الحسین(علیہ‌السلام)، ص338۔
  8. سبط ابن جوزی، وہی مآخذ، ج2، ص199۔
  9. ابن کثیر، البدایۃ و النہایہ، ج8، ص212۔
  10. محمد باقر مجلسی، جلاء العیون، ص405۔
  11. ابوحنیفہ نعمان بن محمد تمیمی مغربی، شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار، ج3، ص269۔
  12. سید بن طاؤوس، الاقبال بالأعمال، ج3، ص101۔
  13. طبری، الکامل للبہائی فی السقیفہ، ج2، ص302۔
  14. مجلسی، بحار الانوار، ج45، ص196۔
  15. مجلسی، جلاء العیون، ص409۔