کسائی مروزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کسائی مروزی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 953  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ماری، ترکمانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1002 (48–49 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

دور قدیم کا ایک فارسی شاعر"مجدالدين ابوالحسن" يا "ابو اسحاق كسائى مروزى" قرن چہارم كے نصف اواخر اور قرن پنجم كے اوائل سے تعلق ركهتا ہے۔

پیدائش[ترمیم]

اس نے 341ھ ميں اس جہان فانى ميں قدم ركها۔ اس نے اپنى تاريخ پيدايش كا تذكره مندرجہ ذيل اشعار ميں كيا ہے:

بسيصد و چہل و يك رسيد نوبت سال
چہار شنبہ و سہ روز باقى از شوال
بيامدم بجہان تا چہ گويم و چہ كنم
سرود گويم و شادى كنم بنعمت ومال

ان ابيات كى بنا پر اس بات ميں كسى شك كى گنجايش نہيں رہ جاتى كہ وہ رودکی كا معاصر نہيں تها، بلكہ اس كى وفات كے بعد پيدا ہوا۔ اس كے اشعار سے اس بات كى بهى وضاحت ہوتى ہے كہ اس نے طويل عمر پائى. وہ كہتا ہے :

پيرى مرا بزرگرى افگنداى شگفت
بى گاہ و دود از دم و ہموارہ سرف
زرگر فروفشاند كرف سیہ بسيم
من باز بر نشانم سيم سرہ بكرف

دوسرے مقام پر كہتا ہے :

نورد بودم تا ورد من مورّد بود
براى ورد مرا ترك من ہمى پرود
كنون گران شدم و سرد و نانورد شدم
ازان سبب كہ بخيرى ہمى بپوشم ورد

مندرجہ بالا اشعار سے ثابت ہوتا ہے كہ اس نے سامانيوں كا آخرى دور اور غزنويوں كا ابتدائى زمانہ ديكھا۔ اسى وجہ سے محمد عوفى اسے شعراے آل سبکتگین ميں شمار كرتا ہے۔

تخلص[ترمیم]

اس كے" كسائى "تخلص اختيار كرنے كى وجہ ہدايت كے قول كے مطابق كسوت زہد زيب تن كرنا اور كلاہ فقر پہننا ہے۔ كسائى نے اپنى شاعرى كا آغاز مدح پردازى سے كيا۔ سب سے پہلے اس نے نوح بن منصور كى شان ميں قصائد لكھے، بعد ازاں غزنی چلا گيا اور سلطان محمود غزنوی كى مدح كى. سلاطين كے علاوہ اس نے آل سامان كے وزير عتبى كى بهى مدح كى. اس وزير نے كسائى پر كئى احسانات كيے تھے اور ہميشہ اسے انعامات سے نوازتا رہتا تها۔ اس كا نام عبيد اللّہ بن احمد بن حسين تها اور یہ نوح بن منصور كا وزير رہا اور 372 ہجرى ميں قتل كرديا گيا۔

شاعرانہ حثیت[ترمیم]

افسوس كى بات یہ ہے كہ اس شاعر رنگيں نوا كے بہت كم اشعار آج دستياب ہيں۔ اس كے كلام پر تبصرہ كرتے ہوئے ڈاکٹر دبير سياقى لكهتے ہيں: "از مجدالدين كسائى جز اندك مایہ سخن آبدار و شعر رنگين بہ دست نداريم اما آنچہ داريم ممتاز است و لطيف ‘ خيال انگيز و پر نكتہ و درخور بزرگداشت و مغتنم و در رديف اشعار طراز اوّل زبان فارسى ."

ڈاکٹر ذبيح اللّہ صفا رقم طراز ہيں:

"از اشعار موجود كسائى بخوبى ميتوان دريافت كہ او از استادان مسلّم عہد خود بود و در ابداع مضامين و بيان معانى و توصيفات و ايراد تشبيہات لطيف طبيعى مہارت و قدرت بسيار داشتہ است۔ گذاشتہ از توصيفات و مدايح شيوايى كہ ساختہ، در موعظہ و حكمت ہم نخستين شاعريست كہ توانست بمراحل مہمى از پيشرفت نايل شود و در حقيقت اين نوع از شعر را در اواخر قرن چہارم بكمال رساند و مقدمہء ظهور شاعرانى از قبيل ناصر بن خسرو قباديانى شود۔"

نمونہ کلام[ترمیم]

كسائى نے اپنے قطعات ميں مختلف موضوعات كو بيان كيا ہے۔ اہم بات يه ہے كہ ان سے اس كى شخصيت كے مختلف پہلوؤں پر روشنى پڑتى ہے، مثلاً یہ كہ وہ مذہباّ شيعہ تها: مدحت كن و بستايى كسى را كہ پيمبر
بستود و ثنا كرد و بدو داد ہمہ كار
آن كيست بدين حال و كہ بودست و كہ باشد
جز شير خداوند جہان حيدر كرار
اين دين ہدى را بمثل دايرہ يى دان
پيغمبر ما مركز و حيدر خط پرگار
علم ہمہ عالم بعلى داد پيمبر
چون ابر بهارى كہ دہد سيل بہ گلزار
كسائى مروزى كا كمال اس كى شاعرانہ مصورى ہے۔ وہ عالم فطرت كو خوب صورت اور رنگين الفاظ كے قالب ميں دٌهال ديتا ہے۔ محسوسات كى تشبيہات ميں بڑا باريك بيں ہے اور اس كى زيادہ تر شاعرانہ تصويريں محسوسات كى ہيں۔ ايك قطعے ميں معشوق كے حسن و جمال كى تعريف كرتے ہوئے كہتا ہے: ازو بوى دزديدہ كافور و عنبر
وزو رنگ بردہ عقيق يمانى
بماند گل سرخ ہموارہ تازہ
اگر قطرہء زد بگل بر چكانى

معشوق كى تعريف ميں اس كے كچه قطعات اور بهى ملتے ہيں . ايك قطعے ميں وہ نہايت لطيف مگر سليس اشعار معشوق كى تعريف كرتے ہوئے كہتا ہے:

اى ز عكس رخ تو آينہء ماہ
شاہ حسنى و عاشقانت سپاہ
ہر كجا بنگرى دمد نرگس
ہر كجا بگذرى بر آيد ماہ
روى و موى تو نامہ و خوبيست
چہ بود نامہ جز سپيد و سياہ
بلب و چشم راحتى و بلا
برخ و زلف توبہ يى و گناہ
دست ظالم ز سيم كوتہ بہ
اى بہ رخ سيم،زلف كن كوتاہ

مذكورہ بالا قطعہ امين احمد رازى نے ہفت اقليم ميں بهى نقل كيا ہے، ان دونوں ميں حسب ذيل اختلافات پائے جاتے ہيں:# ہفت اقليم ميں شعر نمبر 2 تيسرے نمبر پر ہے۔# "نامہء خوبيست" كے بجاے "تامہء خونيست" لكها گيا ہے۔# "راحتى و بلا" كے بجاے "حتى اى و بلا" ہے۔# امين احمد كے يہاں اشعار كى تعداد چار ہے۔ پانچواں شعر موجود نہيں ہے۔ كسائى كى شاعرانہ خوبيوں كے مد نظر ڈاکٹر دبير سياقى اسے فردوسى اور رودكى كا ہم مرتبہ قرار ديتے ہيں۔ اس كى وصف نگارى اس قدر اعلى درجے كى ہے كہ وہ منوچہرى اولى نظر آتا ہے۔ مندرجہ ذيل قطعے كے مضامين منوچہرى كے قصيدے "وصف قطرات باران" كے مثل ہيں، ملاحظہ كيجيے: بر پيلگوش قطرہء باران نگاہ كن
چون اشك چشم عاشق گريان ہمى شدہ
كويى كہ پر باز سپيد است برگ او
منقار باز لؤلؤ ناسفتہ بر چدہ

جيسا كہ لكها جا چكا ہے كہ كسائى نے اپنى شاعرى كا آغاز مدح پردازى سے كيا، مگر عمر كے آخرى دور ميں اس نے اظہار پشيمانى كرتے ہوئے كہا:

جوانى رفت و پندارى بخواہد كرد پدرودم
بخواہم سوختن دانم كہ ہم آنجا بہ پيهودم
بمدحت كردن مخلوق روح خويش بشخودم
نكوہش را سزاوارم كہ جز مخلوق نستودم

ڈاکٹر صفا كا اسى بنياد پر خيال ہے كہ مواعظ كسائى كا تعلق عمر كے اسى آخرى دور سے ہوگا . مگر راقم حروف كى راے ميں یہ قياس درست نہيں ہے۔ اس كے كسائى تخلص اختيار كرنے كى وجہ سے یہ گمان ہوتا ہے كہ وہ جوانى ہى سے زہد و ورع كى طرف مايل ہوگا، مگر ساتھ ہى حكام وقت كى مدح بهى كرتا ہوگا اور اس زمانے ميں یہ معيوب بهى نہيں تها۔ كئى جليل القدر شعرا نے، جن كى زندگياں متصوفانہ و ناصحانہ اشعار لكهتے ہوئے گزرى ہيں، حكام وقت كى مدح و ستايش كى ہے۔ جب اسے يہ احساس ہوا كہ مخلوق كى ستايش اور زهد و ورع كا دعوا دونوں ايك ساتھ نہيں چل سكتے، تو اس نے اپنے طرز عمل كى اصلاح كى.

اب چند ايسے قطعات نقل كيے جا رہے ہيں، جو لغت فرس اور مجمع الفصحا ميں آئے ہيں اور جنهيں ڈاکٹر صفا نے جمع كيا ہے . ايك قطعے ميں كہتا ہے كہ شاہراہ نياز يعنى عاشقى ميں سختياں جهيلنا پرڑتى ہيں :

بشاہراہ نياز اندرون سفر مسگال
كہ مرد كوفتہ گردد بدان رہ اندر سخت
وگر خلاف كنى طمع را و ہم بروى
بدرّد ار بمثل آہنين بود ہم لخت

ايك دوسرے قطعے ميں معشوق كى تعريف ميں كہتا ہے:

دستش از پردہ برون آمد چون عاج سپيد
گفتى از ميغ ہمى تيغ زند زهرہ و ماہ
پشت دستش بمَثَل چون شكم قاقم نرم
چون دُم قاقُم كردہ سَر انگشت سياہ

كسائى كا حسب ذيل قطعہ شراب كى مذمت ميں ہے:

اى طبع ساز و ار چہ كردم ترا چہ بود
با من ہمى نسازى و دايم ہمى ژكى
ايدون فروكشى بخوشى آن مى حرام
گويى كہ شير مام ز پستان ہمى مكى

حوالہ جات[ترمیم]

  • محمد امین ریاحی۔ کسایی مروزی، زندگی، اندیشہ و شعر او۔ انتشارات علمی۔ Unknown parameter |localtion= ignored (معاونت) آئی ایس بی این: ISBN 964-404-702-4
  • بدیع الزمان فروزانفر، سخن و سخنوران
  • ذبیح اللہ صفا، تاریخ ادبیات در ایران، جلد اول
  • محمد دبیر سیاقی، پیشاہنگان شعر پارسی، شرکت انتشارات علمی و فرهنگی
  • محمد رضا شفیعی کدکنی، صور خیال در شعر فارسی