ابوعبید قاسم بن سلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابوعبید قاسم بن سلام
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 774  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ہرات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 دسمبر 838 (63–64 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ماہرِ لسانیات،  وعالم،  وفقیہ،  ومحدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں کتاب الاموال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر مالک بن انس،  ومحمد بن ادریس شافعی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابوعبید قاسم بن سلام الہروی (پیدائش: 774ء— وفات: 838ء) عالم، فقیہ، محدث، امام الجرح والتعدیل تھے۔ابوعبید قاسم کی وجہ ٔ شہرت اقتصادِ اسلامی پر اُن کی تصنیف کتاب الاموال ہے۔

کتاب غریب الحدیث کے قلمی مخطوطہ کا عکس

سوانح[ترمیم]

159ھ مطابق 774ء میں ہرات میں ہوئی۔سنہ پیدائش میں تذکرہ نگاروں کا اختلاف ہے، ابو الفرج ابن جوزی نے سال 150ھ اور ابوبکر زبیدی نے 154ھ لکھا ہے۔شمس الدین الذہبی نے سال 157ھ لکھا ہے۔ابوعبید کے والد سلام الہروی روسی نژاد تھے جو اچھی طرح عربی زبان نہیں بول سکتے تھے لیکن اُنہوں نے ابوعبید کے لیے عربی زبان میں تعلیم دِلوانے کی خاطر کافی کوشش کی۔

تحصیل علم[ترمیم]

ابوعبید نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر ہرات میں حاصل کی۔ نوجوانی کے عہد میں وہ بصرہ اور کوفہ تحصیل علم کے لیے روانہ ہوئے اور اُنہیں خلافت عباسیہ کے ان ناموار اُساتذہ سے شرفِ تلمیذی حاصل ہوا جو فقہ، حدیث اور دینی علوم کے لیے مستند خیال کیے جاتے تھے۔[1] کہا جاتا ہے کہ اُن کے والد اُنہیں عربی زبان کے اُستاد کے پاس لے گئے اور ناپختہ الفاظ میں یوں کہا: ’’علمی القاسم فانھا کیسۃ‘‘ (آپ قاسم کو پڑھائیے کہ وہ بڑا ہوشیار ہے)۔[2] یہ علمی اشارے ابوعبید کے مستقبل کو ظاہر کر رہے تھے کہ وہ آئندہ زمانے میں عربی زبان و عربی ادب کے مستند عالم اور علوم عربیہ کے امام ثابت ہوئے۔تحصیل علم کے لیے بغداد میں طویل سکونت اختیار کی جہاں اُنہوں نے عربی ادب، علوم صرف و نحو، قرأت، حدیث اور فقہ کی تعلیم مکمل کی۔

مناظرانہ زندگی اور فارس واپسی[ترمیم]

عراق میں طویل قیام کے دوران وہ اپنے مناظرانہ مزاج کے باعث مشہور ہوئے۔ سنی عقائد کی ترویج کے معاملے میں اُن کے اہل تشیع علما کے ساتھ مناظرے ہوئے جن سے عراق میں ابوعبید کی شہرت پھیل گئی۔ یہ جاننا ذرا مشکل ہے کہ ابوعبید نے اپنے ارتقائی ماحول اور ابتدائی آزادانہ علمی کاوشوں کو کب چھوڑا؟۔ اِس کے متعلق حقائق، وجوہات اور قطعی اُمور معلوم نہیں ہو سکے کہ آخر کن وجوہات کے باعث ابوعبید نے اپنے مناظرانہ ماحول کو ترک کر دیا تھا۔ بہرحال ابوعبید بغداد کی سکونت ترک کرکے اصفہان چلے آئے[3] اور مشہور عباسی سپہ سالار ہرثمہ کے خاندان میں بطور اتالیق ملازمت پر مامور ہوئے۔ہرثمہ کا دار الحکومت نیشاپور تھا، علاوہ ازیں ابوعبید کا نیشاپور میں قیام مستقل یا دیرپا ثابت نہ ہو سکا کیونکہ ملکی سیاسی حالات ابتر تھے اور چہار اطراف سیاسی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ اِس سیاسی بگاڑ اور ناساز ماحول کو ترک کردینا ابوعبید کی ضرورت بن گیا اور اِس کے لیے اُنہوں نے غالباً 192ھ مطابق 808ء میں شاید طاہر بن الحسین کی سفارش پر طرسوسشہر کی قضاۃ کا عہدہ قبول کر لیا۔[4] [5] طاہر بن الحسن ابوعبید کا دوست تھا۔

طرسوس میں قیام[ترمیم]

192ھ مطابق 808ء میں طرسوس کے قاضی مقرر ہوئے اور اِس عہدے پر 18 سال فائز رہے۔اِن اٹھارہ سالوں کے درمیان اُن کے طرسوس کے حاکم ثابت بن نصر سے دوستانہ تعلقاات رہے۔ اِس تعلق کی بنا پر ابوعبید ثابت بن نصر کے بیٹے کا مخلص دوست اور مشیر رہا۔[6] طرسوس میں قاضی کے عہدے پر فائز رہنے اور مصروف زندگی کی بنا پر وہ علمی کام نہ کرسکے اور غالباً 210ھ مطابق 826ء میں وہ اِس عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔[7]

بغداد آمد[ترمیم]

طرسوس میں سبکدوشی کے بعد ابوعبید مصر چلے گئے۔ امام ابن حجر عسقلانی نے 213ھ مطابق 828ء/ 829ء میں ابوعبید کی دَرس و تدریس کا تذکرہ کیا ہے۔ اِس کے چند دِنوں کے بعد ابوعبید بغداد واپس آگئے جو اُس وقت اسلامی دنیا کا ثقافتی و مذہبی مرکز بن چکا تھا۔ بغداد میں خراسان کے حاکم عبد اللہ بن طاہر کے حلقے میں اُن کا خیرمقدم کیا گیا۔ غالباً قیاس کیا جاسکتا ہے کہ شاید ابوعبید واپس نیشاپور چلے گئے ہوں جہاں اُن کا علم دوست مربی عبد اللہ بن الحسین موجود تھا، لیکن اِس بیان کے متعلق کوئی حتمی شواہد نہیں ملتے۔ ابن الانباری نے بیان کیا ہے کہ مقام کرج میں ابوعبید نے ابودُلف سے ملاقات کی تھی۔[8]

آخری ایام[ترمیم]

زندگی کے آخری ایام میں ابوعبید نے ضعیفی کی حالت میں رات کا ایک تہائی حصہ عبادت، ایک تہائی آرام و استراحت اور ایک تہائی حصہ اپنی تصنیف و تالیف میں مختص کر لیا تھا۔[9][10] اواخر عمر میں ابوعبید حج اداء کرنے کے لیے مکہ مکرمہ چلے گئے اور وہیں تادمِ وفات مقیم رہے۔

وفات[ترمیم]

ماہِ محرم 224ھ مطابق دسمبر 838ء میں ابوعبید کا انتقال 224ھ مطابق 838ء میں 65 سال قمری (63 سال شمسی) کی عمر میں مکہ مکرمہ میں ہوا۔

تصانیف[ترمیم]

ابن ندیم نے اپنی تصنیف الفہرست میں 20 کتابوں کے نام گنوائے ہیں۔ ابو عثمان عمر بن بحر بن محبوب كنانی بصری الجاحظ (متوفی 868ء) جیسے بلند پایہ ادیب و انشا پرداز کو بھی ان کی تصانیف کی خوبیوں کا اعتراف ہے۔ جاحظ نے لکھا ہے کہ: ’’لم یکتب الناس أصح من کتبه ولا أکثر فائدة ( ان سے زیادہ صحیح، عمدہ اور مفید کتابیں لوگوں نے نہیں لکھیں)۔

كتاب الاموال[ترمیم]

یہ کتاب ابوعبید کی مشہور تصنیف ہے۔ یہ کتاب اقتصادیات کے موضوع پر نایاب ترین کتب میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کتاب میں بنیادی طور پر ان احادیث کو جمع کیا گیا ہے جو اقتصادیات کے متعلق ہیں۔ اس کتاب میں امام نے کل آٹھ ابواب قائم فرمائے ہیں۔ کتاب الاموال کی سند بھی محفوظ ہے جو ایک عالمہ فاضلہ خاتون "فخرالنساء شہدہ بنت احمد الابری" کے واسطے سے طراد بن محمد الزینبی سے روایت کی ہے۔[11] حدیث کے علاوہ فقہی اور اجتہادی حیثیت سے بھی اس کتاب کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. یاقوت الحموی: الارشاد الاریب، جلد 6 ، صفحہ 162۔
  2. کتاب الاموال: دیباچہ بابت مصنف ابوعبید، صفحہ 27۔ مطبوعہ اسلام آباد
  3. ابن ندیم: الفہرست، صفحہ 70۔
  4. خطیب بغدادی: تاریخ بغداد، جلد 12، صفحہ 405۔
  5. ابن قتیبہ دینوری: المعارف، صفحہ 272۔
  6. تاج الدین السبکی: طبقات، جلد 1، صفحہ 271۔
  7. خطیب بغدادی: تاریخ بغداد، جلد 2، صفحہ 413۔
  8. ابن الانباری: نزھۃ ، صفحہ 190۔
  9. یحییٰ بن شرف نووی: تہذیب، صفحہ 746۔
  10. ابن خلکان: وفیات الاعیان، جلد 3، صفحہ 488۔
  11. كتاب الاموال مؤلف : ابو عبيد القاسم بن سلام، ناشر : دار الفكر۔ - بيروت