ابو بکر بیہقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امام بیہقی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ابو بکر بیہقی
ابو بکر بیہقی

معلومات شخصیت
پیدائش 1 ستمبر 994[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
خراسان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 اپریل 1066 (72 سال)[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نیشاپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن سابزیوار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاد ابن طاہر البغدادی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
قابل ذکر طلبا خواجہ عبد اللہ انصاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

امام بیہقی (پیدائش: ستمبر 994ء— وفات: 9 اپریل 1066ء) مشہور ائمۃ الحدیث اور صاحب تصنیف ہیں۔

نام[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ خسروجردی، بیہقی، خراسانی ہے۔ انہیں امام بیہقی بھی لکھا جاتا ہے

ولادت[ترمیم]

آپ شعبان 384ھ 994ء میں خسرو جرد نامی بستی میں پیدا ہوئے جو بیہق(نیشاپور) کے نواح میں واقع ہے ۔

وفات[ترمیم]

امام بیہقی کی وفات کے سلسلے میں امام ذہبی لکھتے ہیں کہ آخر عمر میں وہ نیشاپور اُٹھ گئے تھے اور وہاں اپنی کتب کے درس میں مشغول ہو گئے، لیکن جلد ہی وقتِ رحلت آن پہنچا اور 10 جمادی الاولیٰ 458ھ- 1066ء میں نیشاپور میں ہی داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور بیہقی میں لاکر آپ کو سپرد خاک کیا گیا

اساتذہ[ترمیم]

اساتذہ کرام میں انتہائی شہرت کے حامل یہ حضرات ہیں : ابو الحسن محمد بن حسین العلوی، امام ابو عبد اللہ الحاکم، ابو اسحاق، اسفرائینی، عبد اللہ بن یوسف اصبھانی، ابو علی الروزباری، امام بزاز، ابو بکر ابن فورک وغیرہ۔

تلامذہ[ترمیم]

کسی بھی عالم کے علمی مقام کا جہاں ان کی کتب سے اندازہ ہوتا ہے وہاں اس سے بھی بڑھ کر اس کا تعارف اس کے وہ ارشد تلامذہ ہوتے ہیں جنھیں وہ انتہائی محنت اور جانفشانی سے تیار کرتا ہے۔ بالکل ایسے ہی امام بیہقی اگر اپنی گراں قدر تصانیف نہ بھی عالمِ وجود میں چھوڑ کر جاتے تو ان کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے تلامذہ ہی کافی تھے۔ جنھوں نے آپ کی کتب کو آئندہ نسلوں کی طرف منتقل کیا اور ہمیشہ آپ کی ملازمت اختیار کی ہے، ان میں ابو عبد اللہ محمد بن الفضل الفرادی، ابو عبد اللہ محمد عبد الجبار بن محمد بن احمد البیہقي الخواری، ابو نصر علی بن مسعود بن محمد الشجاعی، ابو عبد اللہ بن ابو مسعود الصاعدی، فرزندِ حضرت ِامام اسماعیل بن احمد البیہقي اور آپ کے پوتے ابو الحسن عبید اللہ بن محمد بن احمد شامل ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

  • السنن الكبرى – 10 جلدوں میں ہے
  • السنن الصغرى
  • المعارف
  • الاسماء والصفات
  • دلائل النبوة
  • الآداب - حديث میں ہے
  • الترغيب والترہيب
  • المبسوط
  • الجامع المصنف في شعب الإيمان
  • مناقب الامام الشافعی
  • معرفة السنن والآثار
  • القراءة خلف الامام
  • البعث والنشور
  • الاعتقاد
  • فضائل الصحابہ 10 جلدوں میں ہے[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12539447v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6k97b4s — بنام: Al-Bayhaqi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/147857 — بنام: Aḥmad ibn al-Ḥusayn Bayhaqī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب بنام: Abu Bakr Aḥmed al-Baihaqi — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/174374 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12539447v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. خیرالدین زرکلی، الاعلام، ج1، ص116.

<link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:خراسان_کی_شخصیات" />