امام بیہقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
البيهقي.png

امام بیہقی:امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، مشہور ائمۃ الحدیث اور صاحب تصنیف ہیں

نام[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبداللہ بن موسیٰ خسروجردی، بیہقی، خراسانی ہے۔انہیں ابوبکر بیہقی بھی لکھا جاتا ہے

ولادت[ترمیم]

آپ شعبان 384ھ 994ء میں خسرو جرد نامی بستی میں پیدا ہوئے جو بیہق(نیشاپور) کے نواح میں واقع ہے ۔

وفات[ترمیم]

امام بیہقی کی وفات کے سلسلے میں امام ذہبی لکھتے ہیں کہ آخر عمر میں وہ نیشاپور اُٹھ گئے تھے اور وہاں اپنی کتب کے درس میں مشغول ہو گئے، لیکن جلد ہی وقتِ رحلت آن پہنچا اور 10 جمادی الاولیٰ 458ھ- 1066ء میں نیشاپور میں ہی داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور بیہقی میں لاکر آپ کو سپرد خاک کیا گیا

اساتذہ[ترمیم]

اساتذہ کرام میں انتہائی شہرت کے حامل یہ حضرات ہیں: ابو الحسن محمد بن حسین العلوی، امام ابو عبداللہ الحاکم، ابو اسحاق، اسفرائینی، عبداللہ بن یوسف اصبھانی، ابو علی الروزباری، امام بزاز، ابو بکر ابن فورک وغیرہ۔

تلامذہ[ترمیم]

کسی بھی عالم کے علمی مقام کا جہاں ان کی کتب سے اندازا ہوتا ہے وہاں اس سے بھی بڑھ کر اس کا تعارف اس کے وہ ارشد تلامذہ ہوتے ہیں جنھیں وہ انتہائی محنت اور جانفشانی سے تیار کرتا ہے۔ بالکل ایسے ہی امام بیہقی اگر اپنی گراں قدر تصانیف نہ بھی عالمِ وجود میں چھوڑ کر جاتے تو ان کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے تلامذہ ہی کافی تھے۔ جنھوں نے آپ کی کتب کو آئندہ نسلوں کی طرف منتقل کیا اور ہمیشہ آپ کی ملازمت اختیار کی ہے، ان میں ابو عبداللہ محمد بن الفضل الفرادی، ابو عبداللہ محمد عبدالجبار بن محمد بن احمد البیہقي الخواری، ابو نصر علی بن مسعود بن محمد الشجاعی، ابو عبداللہ بن ابو مسعود الصاعدی، فرزندِ حضرت ِامام اسماعیل بن احمد البیہقي اور آپ کے پوتے ابو الحسن عبید اللہ بن محمد بن احمد شامل ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

  • السنن الكبرى - 10 جلدوں میں ہے
  • السنن الصغرى
  • المعارف
  • الاسماء والصفات
  • دلائل النبوة
  • الآداب - حديث میں ہے
  • الترغيب والترہيب
  • المبسوط
  • الجامع المصنف في شعب الإيمان
  • مناقب الامام الشافعی
  • معرفة السنن والآثار
  • القراءة خلف الامام
  • البعث والنشور
  • الاعتقاد
  • فضائل الصحابہ 10 جلدوں میں ہے[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خیرالدین زرکلی، الاعلام، ج1، ص116.