الہام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

الہام کے معنی کسی کے دل میں کوئی بات القا کردینا کے ہیں ۔ لیکن یہ لفظ ایسی بات کے القاء کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملا اعلیٰ کی جانب سے کسی کے دل میں ڈالی جاتی ہے ۔اللہ کی طرف سے انبیاء یا اولیاء کو جو اطلاع یا ہدایت روحانی طور پر دی جاتی ہے۔ اس کو الہام کہتے ہیں۔ اس میں مرد اورعورت کی تخصیص نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو موسیٰ علیہ السلام کی حفاظت اور سلامتی کے متعلق الہام خداوندی ہوا تھا، جس کا قرآن میں ذکر ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کو بھی الہام ہوتا تھا۔ الہام سوتے اور جاگتے دونوں حالتوں میں ہوسکتا ہے۔ لیکن صرف خدا کے برگزیدہ بندوں کو ہی ہوتا ہے۔ اس لیے صفائی قلب ، اعمال حسنہ اور یقین کی درستی کے ساتھ تائید توفیق الہی ضروری ہے۔ اسی کی ایک قسم کشف ہے۔ وحی انبیا کے لیے مخصوص ہے۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے جب اللہ عزوجل کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تواسے دین میں فقیہ بنا دیتا ہے اور رشد وہدایت الہام فرما دیتا ہے۔ '[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. 'مسند امام احمد بن حنبل [مکمل حوالہ درکار]