میاں محمد بخش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میاں محمد بخش
قبر میاں محمد بخش
قبر میاں محمد بخش

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1830[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 22 جنوری 1907 (76–77 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں سیف الملوک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر

میاں محمد بخش قادری پنجابی زبان کے معروف شاعر تھے۔ انہیں رومی کشمیر کہا جاتا ہے۔

پیدائش[ترمیم]

پیدائش 1830ء بمطابق 1246ھ: کھڑی کے ایک گاؤں چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق گجر فیملی سے ہے۔

نام و نسب[ترمیم]

میاں محمد بخش والد کا نام میاں شمس الدین قادری تھا اور دادامیاں دین محمد قادری تھا ان کے آباؤاجدادچک بہرام ضلع گجرات سے ترک سکونت کر کے میر پور میں جا بسے ان کا حسب نسب 4 پشتوں کے بعد پیرا شاہ غازی دمڑی والی سرکار سے جا ملتا ہے۔ نسبا آپ فاروقی ہیں سلسلہ نسب فاروق اعظم پر ختم ہوتا ہے دربار کھڑی شریف کی مسند کافی مدت تک آپ کے خاندان کے زیر تصرف رہی۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

ابتدائی تعلیم کھڑی کے قریب سموال کی دینی درسگاہ میں حاصل کی جہاں آپ کے استاد غلام حسین سموالوی تھے آپ نے بچپن میں ہی علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی اور ابتدا ہی سے بزرگان دین سے فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے سیر و سیاحت کی کشمیر کے جنگلوں میں کئی ایک مجاہدے کیے شیخ احمد ولی کشمیری سے اخذ فیض کیا ۔چکوتری شریف گئے جہاں دریائے چناب کے کنارے بابا جنگو شاہ سہروردی مجذوب سے ملاقات کی ان کی بیعت میاں غلام محمد کلروڑی شریف والوں سے تھی۔

سلسلہ طریقت[ترمیم]

آپ کا سلسلہ طریقت قادری قلندری اور حجروی ہے

شادی[ترمیم]

آپ نے زندگی بھر شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی بسر کی

وفات[ترمیم]

وفات 1904ء بمطابق 1324ھ اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میر پورمیں ہوئی اور وہاں پر ہی مزار بھی ہے

پنجابی شاعری[ترمیم]

میاں محمد بخش کی شخصیت ایک ولی کامل اور صوفی بزرگ تھے آپ نے اپنے کلام میں سچے موتی اور ہیرے پروئے ہیں ایک ایک مصرعے میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ان کی شاعری زبان زد عام ہے۔

مطبوعہ کلام[ترمیم]

  • سیف الملوک ان کی شاہکار نظم ہے۔ جس کا اصل نام سفر العشق ہے اور معروف نام سیف الملوک و بدیع الجمال ہے
  • تحفہ میراں کرامات غوث اعظم
  • تحفہ رسولیہ معجزات جناب سرور کائنات
  • ہدایت المسلمین
  • گلزار فقیر
  • نیرنگ عشق
  • سخی خواص خان
  • سوہنی میہنوال،
  • قصہ مرزا صاحباں،
  • سی حرفی سسی پنوں
  • قصہ شیخ صنعان
  • نیرنگ شاہ منصور
  • تذکرہ مقیمی
  • پنج گنج جو سی حرفیوں کی کتاب ہے جس میں پانچ سی حرفیاں اور سی حرفی مقبول شامل ہے۔[3][4]
  • ان کی شاعری کی کچھ مثالیں:

عاماں بے اخلاصاں کولوں فیض کسے نہ پایا

ککر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا

خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی

دودھ دی کھیر پکا محمد ـ کتیاں اگے دھرنی

  • میاں محمد بخش کی اولاد نہ تھی اس بارے میں فرماتے ہیں:

عیداں تے شبراتاں آسن روحاں جآسن گھرنوں

تیری روح محمد بخشا تکسی کیڑے در نوں

اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا

اس دا نام چتارن والا ہر میدان نہ ہردا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/1898758 — بنام: Muḥammad Bak̲h̲sh — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/1898758 — بنام: Muḥammad Bak̲h̲sh — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. کلام محمد بخش، میاں محمد بخش، ناشر چوہدری برادرز دینہ جہلم
  4. تذکرہ مشائخ قادریہ محمد دین کلیم قادری،صفحہ 227 تا 229،مکتبہ نبویہ لاہور۔ اگست 1975