بطلیموس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بطلیموس
(یونانی میں: Κλαύδιος Πτολεμαῖος ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
PSM V78 D326 Ptolemy.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 100[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 170 (69–70 سال)[3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسکندریہ[4]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش اسکندریہ  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت قدیم روم  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ریاضی دان، جغرافیہ دان، ماہر فلکیات، منجم، موسیقی کا نظریہ ساز، فلسفی، مصنف، ماہر موسیقیات  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان قدیم یونانی[5]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلکیات، نجوم، ریاضی، میکانیات، بصریات، جغرافیہ، نظریہ موسیقی  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت کتب خانہ اسکندریہ، اسکندریہ  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں المجسطی  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ارسطو  ویکی ڈیٹا پر مؤثر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بطلیموس

بطلیموس (Ptolemy) دوسری صدی عیسوی کا مشہور یونانی ماہر فلکیات، جغرافیہ دان اور ریاضی دان۔ اسکندریہ مصر میں پیدا ہوا۔ اس نے نظام شمسی کا زمین مرکزی (Earth-centered) نظریہ پیش کیا۔ اس موضوع پر اُس کی کتا ب ’’المجستی‘‘ بہت مشہور ہے۔ جو تیرہ جلدوں یا مقالات پر مشتمل ہے۔ اور جس کا موضوع فلکیات ہے۔ پہلے دو تمہیدی مقالوں میں فلکیات کے مبادیات اور ریاضی کے طریقوں کی شرح کی گئی ہے۔ مقالہ سوم میں ایک سال کے طول اور سورج کی حرکت پر بحث کی گئی ہے۔ مقالہ چہارم مہینوں کے طول اور چاند کے گھٹنے بڑھنے پر ہے۔ مقالہ پنجم میں سورج، چاند اور زمین کا قطر، ان کے ابعداد اور سورج کے فاصلے کا بیان ہے۔ ’’المجستی‘‘ فلکیات کا، جس حد تک یہ علم 150ء کے قریب انسان کی دسترس میں تھا اس کا مفصل جائزہ ہے۔

اس میں بطلیموس نے اپنا فلکیاتی نظام قائم کیا جو ڈیڑہ ہزار سال تک صحیح سمجھا جاتا رہا۔ علمی دنیا میں یہ ’’بطلیموسی نظام‘‘ کے نام سے مشہور ہے جس کے مطابق زمین ساکت اور قائم ہے اور سورج، چاند اور دیگر سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔ 1400ء میں پولینڈ کے ماہر فلکیات کو پرنیکس، گلیلیو اور کپلر کی تحقیقات نے اس نظریے کو غلط ثابت کر دیا اب ساری دنیا میں کوئی اس کو ماننے والانہیں۔ بطلموس کی ایک اورعظیم تصنیف ’’ جغرافیۂ بطلیموس ‘‘ 8 جلدوں میں ہے۔ اس کتاب کی بھی قریب قریب وہی وقعت ہے جو المجستی کی۔ جس طرح المجستی پورے حسابی فلکیات پر حاوی ہے اسی طرح جغرافیہ بھی پورے حسابی یا ہندسی جغرافیے کا احاطہ کرتا ہے۔ اور اس نے علم جغرافیہ پر ایسا ہی گہرا اثر ڈالا ہے۔ جیسا المجستی نے فلکیات پر ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11920750r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118641786 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. https://data.bnf.fr/en/11920750/claude_ptolemee/ — اخذ شدہ بتاریخ: 8 مارچ 2019 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. http://www-history.mcs.st-andrews.ac.uk/Biographies/Ptolemy.html — اخذ شدہ بتاریخ: 8 مارچ 2019 — خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11920750r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ