کپلر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جون کپلر
(جرمن میں: Johannes Keplericusخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
جون کپلر
جون کپلر

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (جرمن میں: Johannes Keplerخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 27 دسمبر 1571[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 نومبر 1630 (59 سال)[3][4][1][2][5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ریجینسبورج[7][8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن ریجینسبورج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
رہائش جرمنی
شہریت Banner of the Holy Roman Emperor with haloes (1400-1806).svg مقدس رومی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ گوٹنگن
تعلیمی اسناد فاضل الفنیات[4]،ماسٹر آف آرٹس[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی سند (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ منجم،الٰہیات دان،ریاضی دان،ماہر فلکیات،طبیعیات دان،موسیقی کا نظریہ ساز،مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان لاطینی زبان[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل ریاضیات، طبیعیات، فلکیات اور نجوم
وجۂ شہرت کیپلر کے سیاروں کی حرکت کے قوانین، کیپلر گمان
دستخط
کپلر

جان کیپلر (Johannes Kepler) ایک جرمن ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھا۔ وہ 27 دسمبر 1571ء کو جرمنی میں پیدا ہوا۔ وہ سترھویں صدی کے سائنسی انقلاب کی ایک بہت اہم سخصیت تھا۔ اس نے جرمنی کی ایک مشہور اور قدیم جامعہ جامعہ گوٹنگن سے تعلیم حاصل کی۔ وہ سیاروں کی حرکت کے قوانین دریافت کرنے کے لیے مشہور تھا جس کی بعد میں آنے والے ماہر فلکیات نے تصدیق کی۔ اس کے کام نیوٹن کے کام اور خصوصا کشش ثقل کی بنیاد بنا۔

پیشے کے اعتبار سے وہ آسٹریا کے شہر گراز میں ریاضی کا استاد تھا۔ 15 نومبر 1630ء کو 58 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس نے بصریات (optics) پر بھی کام کیا اور دوربین کی ساخت کو بہتر بنایا۔ اس نے اپنے ہمعصر گلیلیو کے دریافت کی ہوئی دوربین کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے زمانے میں فلکیات اور نجوم کے درمیان میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تھا ہاں البتہ فلکیات اور طبیعیات کے درمیان میں کافی واضح فرق تھا۔ وہ اپنے کام میں مذہہبی دلائل بھی لے آتا تھا۔ اس کا یہ یقین تھا کہ خدا نے یہ دنیا نہایت ہی ذہین منصوبے سے بنائی ہے [9]۔ اس نے اپنی فلکیات کو فلکی طبیعیات (celestial physics) کا نام دیا [10]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11909597m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ 2.0 2.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11909597m — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2017 — خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  3. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  4. ^ 4.0 4.1 4.2 ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — مصنف: Arthur Berry — عنوان : A Short History of Astronomy — ناشر: John Murray Cite error: Invalid <ref> tag; name "51e9b2ce443d9376663dc87b117e7926a15fef99" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "51e9b2ce443d9376663dc87b117e7926a15fef99" defined multiple times with different content
  5. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Johannes-Kepler — بنام: Johannes Kepler — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  6. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6qr51bq — بنام: Johannes Kepler — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  8. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2017 — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия Алферов Жорес — شائع سوم — باب: Кеплер Иоганн — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  9. Barker and Goldstein. "Theological Foundations of Kepler's Astronomy"، pp. 112–13.
  10. Kepler. New Astronomy، title page, tr. Donohue, pp. 26–7