آئزک نیوٹن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آئزک نیوٹن
Isaac Newton
Isaac Newton (انگریزی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Image illustrative de l'article آئزک نیوٹن
آئزک نیوٹن 1689ء (عمر 46).

معلومات شخصیت
پیدائش 25 دسمبر 1642[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
Woolsthorpe Manor[*], Woolsthorpe-by-Colsterworth[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 مارچ 1727 (85 سال)[3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
Kensington[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مقام دفن ویسٹمنسٹر ایبی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
رہائش انگلستان
قومیت انگریز (بعد میں برطانوی)
مذہب انگلیکانیت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
المؤسسات
مادر علمی ٹرنٹی کالج، کیمبرج
تعلیمی سند فاضل الفنیات، وMaster of Arts  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
استاد
  • اسحاق بیرو[5]
  • بینجمن پولین[6]
نمایاں شاگرد
پیشہ ریاضی دان،طبیعیات دان[7]،فلسفی[8][9]،ماہر فلکیات[10]،الٰہیات دان،موجد،سیاست دان،ہر فن مولا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان لاطینی زبان،انگریزی[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل
وجۂ شہرت
کارہائے نمایاں Method of Fluxions  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر شخص
متاثر شخص
دستخط
Is. Newton
آئزک نیوٹن
آئزک نیوٹن

سر آئزک نیوٹن (انگریزی: Sir Isaac Newton) (4 جنوری 1643ء31 مارچ 1727ء) ایک انگریز طبیعیات دان، ریاضی دان، ماہر فلکیات، فلسفی اور کیمیادان تھے جن کا شمار تاریخ کی انتہائی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ [14] 1687ء میں چھپنے والی ان کی کتاب قدرتی فلسفہ کے حسابی اصول (لاطینی: Philosophiæ Naturalis Principia Mathematica) سائنس کی تاریخ کی اہم ترین کتاب مانی جاتی ہے جس میں کلاسیکی میکینکس کے اصولوں کی بنیاد رکھی گئی۔ اسی کتاب میں نیوٹن نے کشش ثقل کا قانون اور اپنے تین قوانین حرکت بتائے۔ یہ قوانین اگلے تین سو سال تک طبیعیات کی بنیاد بنے رہے۔ نیوٹن نے ثابت کیا کہ زمین پر موجود اجسام اور سیارے اور ستارے ایک ہی قوانین کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ اس نے اپنے قوانین حرکت اور کیپلر کے قوانین کے درمیان مماثلت ثابت کر کے کائنات میں زمین کی مرکزیت کے اعتقاد کو مکمل طور پر ختم کردیا اور سائنسی انقلاب کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔اور آئزک نیوٹن نے عیسائیت کے مشهور ٹرینیٹی کے نظریے کو رد کردیا -

نیوٹن اور مالیات[ترمیم]

نیوٹن 1700ء سے 1727ء تک شاہی ٹکسال (Royal Mint) کا سربراہ رہا تھا جو مملیکت کے لیے سکے بنایا کرتی تھی۔ اس وقت کاغذی کرنسی بھی گردش میں آ چکی تھی۔ نیوٹن اسٹاک مارکیٹ میں بری طرح ناکام رہا اور اپنی دولت کا بڑا حصہ شیئر میں سرمائیہ کاری کر کے گنوا بیٹھا۔

“I can calculate the movement of stars, but not the madness of men.”

فروری 1720 میں نیوٹن نے South Sea کے کچھ شِئیر خریدے اور صرف مہینے دیڑھ مہینے بعد جب ان کی قیمت دوگنی ہو گئیں تو خوشی خوشی بیچ کر منافع حاصل کر لیا۔ مگر نیوٹن نے دیکھا کہ جولائی تک ان کی قیمت تین گنی ہو چکی ہے اور اس کے جن دوستوں نے شیئر نہیں بیچے تھے وہ اب بڑے امیر ہو گئے ہیں۔ اس پر نیوٹن نے بڑی مقدار میں مزید شیئر خریدے جن کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی تھیں۔ لیکن اگست کے مہینے سے قیمتیں تیزی سے گریں اور نومبر تک نیوٹن زبردست نقصان اٹھا چکا تھا۔[15]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مذکور : A Short History of Astronomy — مصنف: Arthur Berry — عنوان : A Short History of Astronomy — ناشر: John Murray — تاریخ اشاعت: 1898
  2. مذکور : ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119176085 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. حوالہ یو آر ایل: http://www.bbc.co.uk/timelines/zwwgcdm
  4. حوالہ یو آر ایل: http://westminster-abbey.org/our-history/people/sir-isaac-newton
  5. Feingold, Mordechai. Barrow, Isaac (1630–1677), Oxford Dictionary of National Biography, اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس, September 2004; online edn, May 2007. Retrieved 24 February 2009; explained further in Mordechai Feingold's "Newton, Leibniz, and Barrow Too: An Attempt at a Reinterpretation" in Isis, Vol. 84, No. 2 (June 1993), pp. 310–338.
  6. "Newton, Isaac" in the Dictionary of Scientific Biography, n.4.
  7. حوالہ یو آر ایل: http://www.nndb.com/cemetery/815/000208191/
  8. حوالہ یو آر ایل: http://www.infoplease.com/biography/science-mathematicians.html
  9. حوالہ یو آر ایل: http://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/10926480903028094
  10. حوالہ یو آر ایل: http://www.worldatlas.com/webimage/countrys/europe/england/ukefamous3.htm
  11. درآمد شدہ از: ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119176085 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  12. Stokes، Mitch (2010). Isaac Newton. Thomas Nelson. صفحہ۔97. http://books.google.gr/books?id=zpsoSXCeg5gC&pg=PA972. 
  13. During Newton's lifetime, two calendars were in use in Europe: the Julian ("Old Style") calendar in protestant and Orthodox regions, including Britain; and the Gregorian ("New Style") calendar in Roman Catholic Europe. At Newton's birth, Gregorian dates were ten days ahead of Julian dates: thus his birth is recorded as taking place on 25 December 1642 Old Style, but can be converted to a New Style (modern) date of 4 January 1643. By the time of his death, the difference between the calendars had increased to eleven days: moreover, he died in the period after the start of the New Style year on 1 January, but before that of the Old Style new year on 25 March. His death occurred on 20 March 1726 according to the Old Style calendar, but the year is usually adjusted to 1727. A full conversion to New Style gives the date 31 March 1727. See Thony, Christie (2015) Calendrical confusion or just when did Newton die?, The Renaissance Mathematicus, retrieved 20 March 2015 from "https://thonyc.wordpress.com/2015/03/20/calendrical-confusion-or-just-when-did-newton-die/
  14. http://www.adherents.com/adh_influ.html
  15. How Isaac Newton Went Flat Broke Chasing A Stock Bubble