وگ (برطانوی سیاسی جماعت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وگ
رہنما
  • رابرٹ والپول
  • ولیم پٹ
  • جارج گرینول
  • چارلس جیمز فاکس
  • لارڈ گرے
  • لارڈ میلبورن
  • لارڈ جان رسل
  • ہنری جان ٹیمپل
تاسیس1678ء (1678ء)
تحلیل6 جون 1859 (1859-06-06)
پیشروراؤنڈ ہیڈ
ضم درلبرل پارٹی
نظریاتپارلیمانی نظام
لبرلزم[1][2]
کلسک لبرلزم[3]
سیاسی حیثیتآزاد خیال[4][5][6]
مذہبپروٹسٹنٹ مسیحیت

وگ یا وگز (انگریزی: Whigs) (تاسیس: 1678ء) سترہویں صدی کی ایک برطانوی لبرل سیاسی جماعت کا نام ہے جو ٹوری پارٹی کی مخالف تھی۔ لفظ ٹوری کی طرح وگ بھی ایک تحقیر آمیز لفظ تھا جس کے معنی گھوڑوں کے چور کے ہیں۔ سترہویں صدی میں یہ نام اختلاف رکھنے والے اسکاٹ لینڈ کے ارکان کے لیے استعمال کیا گیا تھا جو پرانی روایتوں کے مخالف اور باغی ہوتے تھے۔ان ارکان نے 1680ء کے بعد بادشاہ کے اختیارات کم کرنے اور پالیمنٹ کے اختیارات زیادہ کرنے کے لیے تگ و دو شروع کی۔ اصل وگ وہ باغی تھے جنہوں نے ناکام بغاوت کی اور انگلستان سے اسکاٹ لینڈ کی کلیسائی یگانگت کے خلاف تھے۔ 1680ء میں وہ سیاست دان جو رومن کیتھولک کو بادشاہت سونپنا نہیں چاہتے تھے، وگ کلائے۔ 1688ء کے شاندار انقلاب سے وھگ کی سیادت کا طویل دور شروع ہوا۔ اس انقلاب کے بعد ٹوری پارٹی اور وگ پارٹی کے اختلافات کم ہو گئے اور ٹوری پارٹی کے لوگوں نے بڑی حد تک وگ پارٹی کی یہ بات مان لی کہ بادشاہت کسی حد تک آئینی ہونی چاہیے، یہ کوئی خدائی حقِ وراثت نہیں۔ وگ پارٹی بڑی حد تک نوابوں، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی پارٹی بن گئی تھی۔ 1714ء میں ملکہ این کے انتقال کے بعد تقریباً پطاس برس تک رؤسا اور مالدار خاندانوں کی حکومت رہی ااور وہ اپنے آپ کو وگ کہتے تھے۔ ان میں اہم ترین شخصیات سر رابرٹ والپول اور ہنری پلہم کی تھی جوبطور وزیر اعظم بہت مشہور ہوئے،انہوں نے جماعت کو سیاسی قوت عطا کی اور جدید کابینوی طرزِ حکومت کو ایک خاص شکل دی۔ وھگ جماعت نے جان لاک کی جمہوری اقدار کی پیروی کی۔ 1830ء سے 1841ء تک ارل گرے اور لارڈ میلبورن کے تحت وگ وزارتیں بنیں اور انہوں نے پہلا قانون اصلاح (Reform Bill) 1832ء میں پاس کیا۔ اس کے بعد وگ پارٹی کے بہت سے ارکان ابھرتی ہوئی لبرل پارٹی میں شامل ہو گئے اور بہت سارے ٹوری پارٹی میں جا ملے اور آہستہ آہستہ وگ پارٹی ختم ہو گئی۔[7][8][9]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sykes، Alan۔ Routlegde (مدیر۔)۔ The Whigs and the politics of Reform۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. Leach، Robert۔ Macmillan (مدیر۔)۔ Political Ideology in Britain۔ صفحات 32–34۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. Lowe، Norman۔ Macmillan (مدیر۔)۔ Mastering Modern British History۔ صفحہ 72۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. Clark، Jonathan Charles Douglas۔ English Society, 1660-1832: Religion, Ideology and Politics During the Ancien Régime۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 515۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. Hay، William۔ The Whig Revival, 1808-1830۔ Springer۔ صفحہ 177۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  6. Hazan، Reuven Y.۔ Centre Parties: Polarization and Competition in European Parliamentary Democracies۔ A&C Black۔ صفحہ 21۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  7. جامع اردو انسائکلوپیڈیا (جلد 2، تاریخ)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 2000ء، ص 430
  8. وھگ اینڈ ٹوری، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  9. محمد صدیق قریشی، کشاف اصطلاحات سیاسیات (حصہ دوم)، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، 1986ء، ص 626