مندرجات کا رخ کریں

نکولس کوپرنیکس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
نکولس کوپرنیکس
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام Niklas Koppernigk
پیدائش 19 فروری 1473ء [1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تورینی [5][6][7][8][9][10]  ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 مئی 1543ء (70 سال)[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فرومبرک [11][6][12][13][9][10]  ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سکتہ   ویکی ڈیٹا پر  (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش تورینی
فرومبرک
کراکوف
پادووا
بلونیا   ویکی ڈیٹا پر  (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مملکت پولینڈ [14]
بے وطنی [15][16]
جرمنی [10]
پولینڈ [10]  ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ بولونیا (1496–1500)
فیرارا یونیورسٹی (1503–1503)  ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد Doctor of Canon Law   ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر فلکیات [17][18][10][19]،  مفسرِ قانون [18]،  ماہر معاشیات ،  ریاضی دان [20][18][21][10][19]،  طبیعیات دان ،  فلسفی [10][19]،  مترجم ،  طبیب [22][18][23][10][19]،  سفارت کار [24]،  مصنف [25]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان نشاۃ ثانیہ لاطینی [3]،  یونانی زبان ،  لاطینی زبان ،  پولش زبان [26]  ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلکیات ،  ریاضی ،  میکانیات ،  معاشیات   ویکی ڈیٹا پر  (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر بطلیموس ،  ارسطو ،  جابر بن سنان البتانی ،  نصیر الدین طوسی   ویکی ڈیٹا پر  (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 

نکولس کوپرنیکس (1473ء – 1543ء) ایک مشہور ماہر فلکیات جن کا تعلق پولستان سے تھا انھوں نے پندرھویں صدی عیسوی میں قدیم نظریہ نظام شمسی کی تردید کرتے ہوئے ایک نیا نظریہ پیش کیا کہ یہ کائنات گیند کی طرح ہے، سیارے ہم مرکز نہیں ہیں اور دائروں میں حرکت کرتے ہیں۔

نکولس کوپرنیکس پولینڈ کے شہر تورونی (Torun) میں پیدا ہوئے جو تب پروشیا میں شامل تھا۔ نظام شمسی کا پہلا شمس مرکزی نظریہ ان کی بڑی وجہ شہرت ہے۔ کوپرنیکس کے دور تک علمی حلقوں میں یونانیوں کے وقت سے چلا آنے والا یہ خیال عام تھا کہ زمین مرکز کائنات ہے اور تمام اجرام فلکی اس کے گرد گردش کرتے ہیں۔ بطلیموس کے بعد سے بہت کم فلکیات دانوں نے اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا تھا۔ اہل یورپ نے زمین مرکزی کائنات کے نظریے کو مذہبی تقدس عطا کر دیا تھا۔ کوپرنیکس نے اپنی عہد ساز کتاب ”De revolutionibus orbium coelestium“ میں مسکت دلائل دیے کہ اجرام فلکی اور کم از کم نظام شمسی میں شامل اجسام، سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ اپنے اس نظریے کی وجہ سے کوپرنیکس کو جدید فلکیات کا بانی اور سائنس کی تاریخ کی قد آور شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ فلکیات کے علاوہ کوپرنیکس ریاضی، کلاسیکی ادب، طب اور اصول قانون کا بھی گہرا ادراک رکھتے تھے۔ انھوں نے بطور کاتھولک پادری، منتظم، سفارت کار، گورنر اور ماہر اقتصادیات بھی کام کیا۔

حواشی

[ترمیم]
  1. 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/118565273 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. 1 2 مصنف: ارتھر بری — عنوان : A Short History of Astronomy — ناشر: جان مرے (پبلشنگ ہاؤس) — ربط: https://d-nb.info/gnd/118565273
  3. 1 2 3 مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb118976048 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  4. 1 2 بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb118976048 — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2017
  5. عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/118565273 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  6. 1 2 عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Коперник Николай — ربط: https://d-nb.info/gnd/118565273 — اخذ شدہ بتاریخ: 28 ستمبر 2015
  7. تاریخ اشاعت: 25 اپریل 2012 — Your pictures: Poland — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2024
  8. تاریخ اشاعت: 16 جولا‎ئی 2009 — New element named 'copernicium' — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2024
  9. 1 2 شناخت کنندہ فائل Sejm-Wielki.pl: https://www.sejm-wielki.pl/b/psb.203.6
  10. 1 2 3 4 5 6 7 8 جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118565273 — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2024
  11. عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/118565273 — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  12. De revolutionibus orbium coelestium — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2024
  13. https://dx.doi.org/10.1007/978-94-010-2616-1_2.PDFNicolaus Copernicus — His Life and Work — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2024
  14. http://www.historyorb.com/people/nicolaus-copernicus
  15. مصنف: چیکلا ملوسز — عنوان : The History of Polish Literature, Updated edition — ناشر: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس — اشاعت دوم — ISBN 978-0-520-04477-7http://www.historyorb.com/people/nicolaus-copernicus — اقتباس: absurd projection of a modern understanding of nationality onto Renaissance people, who identified with their home territories rather than with a nation
  16. عنوان : God's Playground — ناشر: کولمبیا یونیورسٹی پریس http://www.historyorb.com/people/nicolaus-copernicus — اقتباس: Taking everything into consideration, there is good reason to regard him both as a German and as a Pole: and yet, in the sense that modern nationalists understand it, he was neither
  17. تاریخ اشاعت: 19 مارچ 2007 — Uncentering the Earth — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2024
  18. 1 2 3 4 abART person ID: https://cs.isabart.org/person/97894 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 اپریل 2021
  19. 1 2 3 4 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118565273 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
  20. مصنف: CC0 — مدیر: CC0 — ناشر: CC0 — خالق: CC0 — اشاعت: CC0 — باب: CC0 — جلد: CC0 — صفحہ: CC0 — شمارہ: CC0 — CC0 — CC0 — CC0 — ISBN CC0 CC0 — اقتباس: CC0 — اجازت نامہ: CC0
  21. مصنف: CC0 — مدیر: CC0 — عنوان : CC0 — ناشر: CC0 — خالق: CC0 — اشاعت: CC0 — باب: CC0 — جلد: CC0 — صفحہ: CC0 — شمارہ: CC0 — CC0 — CC0 — CC0 — ISBN CC0 — The Guardian topic ID: https://www.theguardian.com/books/2010/sep/26/baghdad-centre-of-scientific-world — اقتباس: CC0 — اجازت نامہ: CC0
  22. عنوان : Copernicus as an Economist — جلد: 49 — صفحہ: 89-103 — شمارہ: 1 — https://dx.doi.org/10.1111/J.1475-4932.1973.TB02270.X — The Guardian topic ID: https://www.theguardian.com/books/2010/sep/26/baghdad-centre-of-scientific-world
  23. https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC1807100 — پی ایم سی آئی ڈی: https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC1807100
  24. تاریخ اشاعت: 10 مارچ 2009 — 10 Facts About Nicolaus Copernicus — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2024
  25. عنوان : Library of the World's Best Literature — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.bartleby.com/lit-hub/library
  26. کونر آئی ڈی: https://plus-legacy.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/14384483

حوالہ جات

[ترمیم]
  • Armitage, Angus (1951)۔ The World of Copernicus۔ New York, NY: Mentor Books۔ ISBN:0-8464-0979-8
  • Barbara Bieńkowska (1973)۔ The Scientific World of Copernicus: On the Occasion of the 500th Anniversary of His Birth, 1473–1973۔ Springer۔ ISBN:9027703531
  • Coyne, George V., S.J. (2005)۔ The Church's Most Recent Attempt to Dispel the Galileo Myth۔ In McMullin (2005, pp.340–59){{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: متعدد نام: مصنفین کی فہرست (link)
  • Davies, Norman, God's Playground: A History of Poland, 2 vols., New York, Columbia University Press, 1982, ISBN 0-231-04327-9.
  • DeMarco, Peter (13 اپریل 2004)۔ "Book quest took him around the globe"۔ Boston Globe۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-01-14
  • Dobrzycki, Jerzy, and Leszek Hajdukiewicz, "Kopernik, Mikołaj," Polski słownik biograficzny (Polish Biographical Dictionary), vol. XIV, Wrocław, Polish Academy of Sciences, 1969, pp. 3–16.
  • John Louis Emil Dreyer (1953) [1905]۔ A History of Astronomy from Thales to Kepler۔ New York, NY: Dover Publications۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-02-08
  • Fantoli, Annibale (2005)۔ The Disputed Injunction and its Role in Galileo's Trial۔ In McMullin (2005, pp.117–49)