امارت بخارا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
امارت بخارا بمطابق 1850ء

امارت بخارا (انگریزی: Emirate of Bukhara، ازبک زبان: Buxoro Amirligi؛ تاجک زبان: Аморати Бухоро) وسط ایشیا کی ایک مسلم ریاست تھی جو 1785ء سے 1920ء تک قائم رہی۔ یہ آمو دریا اور سیر دریا کے درمیانی علاقوں پر مشتمل تھی جسے ماوراء النہر کہا جاتا تھا۔ اس کا مرکزی خطہ دریائے زرفشاں کے زیریں علاقے کی زمین تھی اور اس کے شہری علاقے سمرقند اور امارت کے دارالحکومت بخارا جیسے تاریخی شہروں پر مشتمل تھے۔ یہ مغرب میں خانان خوارزم اور مشرق میں وادئ فرغانہ میں قائم خانیت خوقند کی ریاست کی ہم عصر تھی۔

تاریخ[ترمیم]

امارت بخارا باضابطہ طور پر 1785ء شاہ مراد بن دانیال بیگ کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ قائم ہوئی۔ 18 ویں صدی میں خانان بخارا کی ریاست میں امیروں کا کردار بہت بڑھ گیا تھا۔ 1740ء کی دہائی میں نادر شاہ کی فتوحات کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ علاقے میں اقتدار دراصل امیروں ہی کو ملے گا۔ 1747ء میں نادر شاہ کے مرنے کے بعد اتالیق محمد رحیم بیگ نے ابو الفیض خان اور اس کے بیٹے کو قتل کر کے جانی خاندان کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد امیروں نے کٹھ پتلی خانوں کو اقتدار پر بٹھایا اور ابو الغازی خان کے انتقال کے بعد شاہ مراد بن دانیال بیگ نے واضح اعلان کے ساتھ اقتدار سنبھال لیا۔

1865ء میں سلطنت روس کے ہاتھوں شکست کے بعد سمرقند سمیت تمام علاقے روسی قبضے میں چلے گئے۔

محمد علیم خان، امارت بخارا کے آخری امیر، تصویر 1911ء

علاقے کے جدت پسندوں نے مقامی امیر محمد علیم خان کے خلاف روس کے بالشیوک انقلابیوں سے مدد طلب کی اور مارچ 1920ء میں ایک ناکام کوشش کے بعد اسی سال ستمبر میں اشتراکیوں نے ریاست پر قبضہ کر لیا۔ سوویت دور میں امارت بخارا کی جگہ بخاری عوامی اشتراکی جمہوریہ قائم کی گئی۔ آج اس امارت کا بیشتر حصہ ازبکستان میں شامل ہے اور کچھ حصے تاجکستان اور ترکمانستان میں بھی آتے ہیں۔

فہرست امراء[ترمیم]

لقب نام دور حکومت
اتالیق
خدایار بیگ ?
اتالیق
محمد حکیم بیگ ?
اتالیق
محمد رحیم بیگ 1747 – 1753 ء
امیر
محمد رحیم بیگ 1753 – 1756 ء
خان
محمد رحیم بیگ 1756 – 1758 ء
اتالیق
دانیال بیگ 1758 – 1785 ء
امیر معصوم
شاہ مراد بن دانیال بیگ 1785 – 1800 ء
امیر
حیدر تورہ بن شاہ مراد 1800 – 1826 ء
امیر
حسین بن حیدر تورہ 1826 – 1827 ء
امیر
عمر بن حیدر تورہ 1827 ء
امیر
نصراللہ بن حیدر تورہ 1827 - 1860 ء
امیر
مظفر الدین بن نصراللہ 1860 – 1886 ء
امیر
عبدلاحد بن مظفر الدین 1886 – 1910 ء
امیر
محمد عالم خان بن عبدلاحد 1910 – 1920 ء
علاقے کے جدت پسندوں نے مقامی امیر محمد عالم خان بن عبدلاحد کے خلاف روس کے بالشیوک انقلابیوں سے مدد طلب کی اور مارچ 1920ء میں ایک ناکام کوشش کے بعد اسی سال ستمبر میں اشتراکیوں نے ریاست پر قبضہ کر لیا۔ سوویت دور میں امارت بخارا کی جگہ بخاری عوامی اشتراکی جمہوریہ قائم کی گئی۔
  • گلابی رنگ کے خانے اتالیق و وزرا کی نشاندہی کرتے ہیں-
    • سبز رنگ کے خانے ان امراء کی نشاندہی کرتے ہیں جنہوں نے شروع میں خانان بخارا میں سلسلہ جانیان سے خان بیٹھائے بعد میں خود حکمرانی کی-