مہرہ سلطنت
Mahra State of Qishn and Socotra | |||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 1432–1967 | |||||||||
|
پرچم | |||||||||
Location of Mahra within the Protectorate of South Arabia | |||||||||
| دار الحکومت | الشحر (until 1495) Qishn حدیبو/Hadibu | ||||||||
| آبادی کا نام | Mahri | ||||||||
| حکومت | Monarchy | ||||||||
| تاریخ | |||||||||
• Established | 1432 | ||||||||
• British protectorate | 1886 | ||||||||
• Dissolved | 30 November 1967 | ||||||||
| |||||||||
| موجودہ حصہ | یمن | ||||||||

مہرہ سلطنت ایک سلطنت تھی جس میں مہرہ کا تاریخی علاقہ شامل تھا۔ یہ خطہ تاریخی، جغرافیائی اور لسانی اعتبار سے جزیرۂ العرب کے اہم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ مہرہ سلطنت اپنی قدیم ثقافتی شناخت، بحری سرگرمیوں اور سیاسی خود مختاری کے باعث عرب تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
تاریخی پس منظر
[ترمیم]مہرہ علاقہ جزیرۂ عرب کے جنوب مشرقی خطے میں واقع تھا، جو موجودہ یمن اور عمان کے سرحدی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ یہاں قدیم زمانے سے قبائل آباد تھے جن میں سے قبیلۂ مہری خصوصاً طاقت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے ممتاز تھا۔ اس علاقے کے باشندے عرب دنیا میں اپنی مخصوص مہری زبان کے باعث منفرد حیثیت رکھتے تھے، جسے جنوبی سامی زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ آج بھی کچھ قبائل میں بولی جاتی ہے۔
مہرہ سلطنت کی ابتدا جنوبی عرب کے تجارتی راستوں پر قابض مقامی طاقتوں کے طور پر ہوئی۔ یہاں کے باشندے سمندری تجارت میں مہارت رکھتے تھے، خصوصاً بخور، لوبان، سمندری موتیوں اور مصالحہ جات کی تجارت نے اس خطے کو اقتصادی طور پر مضبوط بنایا۔
حکمرانی اور سیاسی ڈھانچہ
[ترمیم]مہرہ سلطنت بنیادی طور پر قبائلی طرز حکومت پر قائم تھی۔ حکمران قبیلہ اپنی عسکری طاقت، بحری صلاحیت اور سماجی اثر کے ذریعے علاقے پر حکمرانی کرتا تھا۔ اگرچہ سلطنت مکمل مرکزی نظام کی حامل نہیں تھی، مگر قبائلی تنظیم اور سرداری کے اصولوں نے اسے طویل عرصے تک مستحکم رکھا۔
اسلام کے ظہور کے بعد مہرہ قبائل نے اسلام قبول کیا، تاہم سیاسی طور پر انھوں نے اپنی نیم خود مختاری برقرار رکھی۔ خلافتِ راشدہ اور اموی و عباسی خلافتوں کے ادوار میں مہرہ سلطنت نے کبھی مکمل انضمام اختیار نہیں کیا بلکہ اکثر صورتوں میں نیم خود مختار ریاست کی حیثیت محفوظ رکھی۔
بحری طاقت اور جغرافیائی اہمیت
[ترمیم]مہرہ سلطنت کی بحری صلاحیت اس کی طاقت کا سب سے اہم عنصر تھی۔ بحیرۂ عرب اور خلیج عدن کے تجارتی راستوں پر ان کا کنٹرول انھیں مشرقی افریقہ، ہندوستان اور جزائرِ ہند و بحر ہند تک رسائی فراہم کرتا تھا۔ تاریخی روایات میں ذکر ہے کہ مہرہ کے جہازوں نے بعض ادوار میں بحری تجارت پر فیصلہ کن برتری حاصل کی۔
زوال
[ترمیم]وقت کے ساتھ ساتھ علاقائی سیاسی تبدیلیوں، خارجی حملوں اور اندرونی کمزوریوں کے باعث یہ سلطنت کمزور ہونا شروع ہوئی۔ عثمانی سلطنت، پرتگالی بحری قوت اور بعد میں برطانوی اثر نے مہرہ سلطنت کی خود مختاری کو کم کر دیا، یہاں تک کہ جدید ریاستی سرحدوں نے اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ حسین بن علی العمری، تاریخ الیمن السياسي، مطبوعہ صنعاء، 2003ء، ص 112۔
- 1967ء کی ایشیا میں تحلیلات
- 1967ء میں تحلیل ہونے والی ریاستیں اور عملداریاں
- ایشیا میں 1430ء کی دہائی کی تاسیسات
- تاریخ یمن
- سابقہ ممالک
- سرد جنگ کی سابقہ سیاست
- سلطنتیں
- مشرق وسطی کے سابقہ ممالک
- سابقہ سلطنت
- یمنی بادشاہت
- 1482ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- 1886ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- دسویں صدی میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- 1549ء کی تاسیسات
- سابقہ مستعمرات