عبداللہ بن ابی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا مکمل نام اپنی ماں کی نسبت سے، عبداللہ بن ابی بن سلول ، بتایا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق حضرت محمدسانچہ:صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل اہل مدینہ میں اسکی حیثیت اثر اور مرتبہ سب سے ممتاز تھا اور ہجرت سے کچھ روز قبل اہل مدینہ کے تمام قبائل نے اسے متفقہ طور پر اپنا سردار مقرر کرلیا تھا اور اسکی باقاعدہ رسم تاج پوشی کے لئے دن اور بھی تیہ کر لی گئی تھی۔ لیکن عین اسی وقت خاتم النبین حضرت محمدسانچہ:صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے بے تاج بادشاہ کے طور پر مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ نے اپنا پہلا منصوبہ ترک کرکے اپنے تمام معاملات کو آنحضرت DUROOD3.PNG کے سپرد کردیا۔ اس صورت حال کی وجہ سے عبداللہ بن ابی کے سینے میں آپ سانچہ:صلی اللہ علیہ وسلم سے ذاتی بغض اور عناد پیدا ہوگیا اور وہ دل ہی دل میں آپ سانچہ:صلی اللہ علیہ وسلم سے جلنے کڑھنے لگا۔ کیونکہ اہل مدینہ کے تمام قبائل کی ہمدردیاں شمع رسالت کے ساتھ تھیں اس لئے وہ انکی کھلم کھلا مخالفت نہیں کرسکتا تھا چنانچہ اس نے منافقت کی راہ اپنائی۔

عبداللہ بن ابی نے بظاہر اسلام قبول کرلیا اور ظاہری اعتبار سے اللہ اور اسکے رسول سانچہ:صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکامات کی پاپندی شروع کردی لیکن اندر ہی اندر وہ محمد سانچہ:صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض اور عناد کی عاد میں جل رہا تھا۔ وہ جب تک زندہ رہا اس نے اسلام کی جڑ کاٹنے کے لئے یہودیوں اور مشرکین مکہ سے رابطے استوار رکھے اور غزوہ بدر اور احد میں نہ خود حصہ نہیں لیا بلکہ اندر ہی اندر صحابہ کو بھی جہاد پہ جانے سے روکتا رہا۔ یہی منافق شخص آپ سانچہ:صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی بیوی اور مسلمانوں کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیہ عنہا پر تہمت لگانے میں بھی پیش پیش رہا۔

اسلامی تاریخ اور بطور خاص مسلمانوں میں تفرقات پیدا ہونے کے ابتدائی ماحول اور محرکات کے سلسلے میں عبداللہ بن ابی کا نام اولین شخصیات میں لیا جاتا ہے[1]۔ رئیس المنافقین کی وفات پر حضرت عمر فاروق نے اس کا واضح طور پر اظہار بھی کیا تھا کہ یہ شخص منافق اور آپ DUROOD3.PNG اسکی نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔ [2][3]، لیکن اس کے باوجود حضرت محمدسانچہ:صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے مسلمان بیٹے کی دلجوئی کے لئے کمال رحم اور عفو در گزر سے کام لیتے ہوئے اس کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے گئے اور کفنانے کے کئے اپنا کرتا عنایت فرمایا، مگر عین وقت پر اللہ تعالٰی نے بذریعہ وحی نماز جنازہ پڑھنے سے روک دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ William Montgomery Watt, "`Abd Allah b. Ubayy", Encyclopaedia of Islam. Brill publisher.
  2. ^ Saif-ur-Rahman al-Mubarakpuri, Ar-Raheeq Al-Makhtum (2002), p. 285.
  3. ^ Sayed Ali Asgher Razwy, Restatement of History of Islam.