محمد قاسم قادری (مفتی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تعارف(مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ)

ولادت          و مقام ولادت: 6 جون 1977، فیصل آباد،پنجاب ،پاکستان ۔

اسم گرامی:محمد قاسم۔

لقب: شیخ الحدیث والتفسیر،مفتیٔ اہلسنت۔

کنیت :ابو الصالح۔

بیعت و ارادت: آپ شیخ طریقت،امیر اہلسنت ،بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادریدامت برکاتہم العالیہ سے مرید ہیں۔

دنیاوی تعلیم:گریجویشن۔آپ نے ایم اے پارٹ ون کے امتحانات دیے اور فرسٹ ڈویژن حاصل کی  جبکہ دینی مصروفیات کے سبب پارٹ ٹو کے امتحانات  دینے کا آج تک ٹائم نہیں ملا۔

دینی تعلیم:  1992,93ء میں فیصل آباد فیضان مدینہ سے پونے دو سال کی مدت میں قرآنِ پا ک حفظ کیا ۔

درسِ نظامی(عالم کورس) 1994ء میں درس نظامی میں داخلہ لے لیا،ابتدا میں ’’جامعہ رضویہ‘‘  فیصل آباد،پھر’’جامعہ قادریہ‘‘ فیصل آباد اور بعد ازیں’’جامعہ نظامیہ رضویہ‘‘ لاہورمیں تعلیم حاصل کی اور آخر میں دورۂ حدیث’’ جامعہ رضویہ‘‘ فیصل آباد میں کیا۔ان تمام جامعات میں پاکستان کے صف ِ اول کے معروف، جید ، فاضل علمائے کرام سے علمی اکتساب کیا۔ دورانِ تعلیم سب سے بڑی مصروفیت نصابی اور غیر نصابی کتب کا مطالعہ رہا۔

مادری زبان اوررائج الوقت مشہور زبانوں میں مہارت:آپ کی مادری زبان پنجابی ہے  اور ا س کے علاوہ چار زبانوں میں مختلف نوعیت کی مہارت رکھتے ہیں  (1)اردو۔ لکھنے ،بولنے، پڑھنے اور سمجھنے میں اچھی مہارت ہے۔(2)عربی۔پڑھنے میں  عمدہ مہارت ہے۔(3) فارسی۔ بآسانی پڑھ  لیتے ہیں۔(4)انگلش۔  میں اچھی مہارت ہے۔ مدنی چینل پر ایک سو کے قریب انگلش پروگرام کرچکے ہیں۔

دورانِ تعلیم کے اہم واقعات:(1)دورانِ تعلیم  نمازوں کی بطورِ خاص پابندی رہی اورکبھی نماز قضا نہیں کی۔سفر بھی اس انداز میں پلان کرتے کہ کوئی نماز قضا نہ ہو۔(2)اپنے اصل مقصد ’’حصول علم ‘‘پر بھر پور توجہ مرکوز رکھی اور  کسی فضول مصروفیت کو نہیں اپنایا۔ (3) عام طور پر اساتذہ طالب علموں کو پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں  جبکہ آپ سے متعلق حال یہ تھا کہ متعدد اساتذہ شفقت فرماتےہوئے صحت کےلئے زیادہ پڑھنے سے منع کرتے تھے۔ (4)اسباق کی ضروری تیاری کرنا عادت کا حصہ تھا اور شاید ہی کبھی بغیر تیاری کے کلاس میں بیٹھے ہوں۔نفس کتاب اور حواشی کا مطالعہ مستقل عادت میں داخل تھا۔ (5)رات میں  جب اکثر طلبہ سو رہے ہوتے تو اس وقت بھی  آپ پڑھائی میں مصروف ہوتے  تھے۔(6)طلبہ کے کھیل کے وقت  ان کے ساتھ کھیلنے کی بجائے پڑھائی میں مشغول ہوتے تھے۔(7)آپ کے شوق مطالعہ اورپڑھائی کی لگن کو دیکھتے ہوئے اساتذۂ کرام آپ پر خصوصی شفقت کیا کرتے تھے۔

شادی خانہ آبادی:سن 2007میں آپ کی شادی آبائی شہر فیصل آباد میں ہوئی ۔

اولاد: اللہتعالیٰ نےآپ کوچاربیٹیوں سے نوازا ہےجن کے نام یہ ہیں (1)زینب(2)مریم (3)فاطمہ (4) انیسہ۔

تربیتِ اولاد:اولاد کی تربیت کے حوالے سے  آپ خصوصی توجہ فرماتے ہیں اسی لیے انہیں مکمل اسلامی ماحول فراہم کیا ، گھر میں بھی نعت و تلاوت و ذکر کا ماحول ہےاور گاہے بگاہے انہیں  اچھے اخلاق کی تربیت دیتے رہتے ہیں ۔

اوصاف:  آپ کا اندازِ گفتگوبہت مدلل ہے،فہم ِ قرآن، شوقِ علم اور کتب بینی طبیعت میں داخل ہیں۔ ،معاشرتی زندگی میں کفایت شعاری،وسعت ظرفی، دوسروں کی حوصلہ افزائی،وقت کی قدر دانی، رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک اورعام مسلمانوں کی خیر خواہی  اوردلجوئی کا معمول ہے۔دوست احباب  سےتعزیت و عیادت، غمخواری،غریب پروری معمولات میں شامل ہے۔ وقف کی چیزیں استعمال کرنے میں احتیاط،مال  کے ضیاع سے بچنے اورشہرت و ناموری سے پرہیز مزاج کا حصہ ہے۔

اساتذہ کرام:آپ نے اپنے وقت کے جید علمائے کرام  جیسے علامہ عبد القیوم ہزاروی  ،شیخ الحدیث مولانا غلام نبی علیھما الرحمہ ،علامہ عبد الستار سعیدی،مفتی گل احمد عتیقی، مفتی نذیر احمد سیالوی ، علامہ صدیق ہزاروی دامت برکاتھم العالیہ   اور دیگر اساتذہ کرام  سے اکتسابِ علم کیا۔

تدریس:تقریبا آٹھ سال دعوت اسلامی کے مختلف جامعات میں تدریس فرمائی۔

فقہ و افتاء: دار الافتاء اہلسنت میں  فتوی نویسی  کا آغاز کیا اور اب  رئیس دار الافتاء اہلسنت اور مجلس تحقیقات شرعیہ کے نگران  کے منصب پر فائز ہیں۔

تلامذہ:آپ سے سینکڑوں طلبہ کرام اکتساب علم کی سعادت پا چکے ہیں  اور بہت سے طلبہ اہم ترین دینی خدمات میں مصروف ہیں ،ان میں سے مفتی علی اصغر مدنی، مفتی ہاشم  خان مدنی، نائب مفتی سجاد مدنی،نائب مفتی حسان مدنی،نائب مفتی نوید رضا عطاری، سینئیر متخصص مولانا ماجد علی مدنی، سینئیر متخصص مولانا جمیل مدنی اورسینئیر متخصص مولانا شفیق مدنی سر فہرست ہیں۔

تصانیف:آپ نے متعدد  کتب بھی تصنیف فرمائی ہیں جن میں سے کچھ زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں  جیسے

کَنْزُ الْعِرْفَانْ فِیْ تَرْجَمَۃِ الْقُرْآنْ،مَعْرِفَۃُ الْقُرْآنْ عَلٰی کَنْزِ الْعِرْفَانْ (6 جلدیں)صِرَاطُ الْجِنَانْ فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآنْ (10 جلدیں)،ایمان کی حفاظت،فیضان دعا،دکھ درد اور بیماریوں کا علاج،وقف کے شرعی احکام، علم اور علما کی اہمیت ،رحمتوں کی برسات،عشق رسول مع امتی پر حقوق مصطفیٰ اوررسائل قادریہ۔