مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان نے بارگاہ رسالت میں درود و سلام پیش کیا ہے جو ان کے نعتیہ دیوان حدائق بخشش میں شامل ہے۔[1] اس کا عربی و انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے، عربی ترجمہ جامعہ ازہر کے استاد حازم محمد احمد محفوظ نے 1999ء میں المنظومۃ السلامیۃ فی مدح خیر البریۃ کے نام سے شائع کرایا۔ جب کہ اس عربی ترجمے کی تشریح و مقدمہ ڈاکٹر حسین نجیب مصری نے لکھا۔[2]

نمونۂ سلام[ترمیم]

مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلامشمعِ بزمِ ہدائیت پہ لاکھوں سلام
مہرِ چرخِ نبوت پہ روشن درود​گلِ باغِ رسالت پہ لاکھوں سلام​
شبِ اسریٰ کے دولہا پہ دائم درود​نوشہ​ٔ بزمِ جنت پہ لاکھوں سلام
دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان​کانِ لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام​
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا​اس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام​
جن کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی​اُن بھنووں کی لطافت پہ لاکھوں سلام​
جس طرف اٹھ گئی دَم میں دَم آگیا​​​اس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام​
پتلی پتلی گلِ قدس کی پتیاں​اُن لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام​
وہ زباں جس کو سب کُن کی کنجی کہیں​​اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام​​
جن کے گچھے سے لچھے جھڑیں نور کے​اُن ستاروں کی نُزہَت پہ لاکھوں سلام​
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں​​​اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام​​​
کُل جہاں مِلک اور جو کی روٹی غذا​​اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام​​
کھائی قرآں نے خاکِ گُزَر کی قسم​​ اس کفِ پا کی حرمت پہ لاکھوں سلام​​
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند​​اس دل اَفروز ساعت پہ لاکھوں سلام​​
اللہ اللہ وہ بچپنے کی پھبن​اس خدا بھاتی صورت پہ لاکھوں سلام​
جس کے آگے کھنچی گردنیں جھک گیئں​​​اس خدا داد شوکت پہ لاکھوں سلام​​​
کس کو دیکھا یہ مُوسیٰ سے پُوچھے کوئی​​آنکھوں والوں کی ہمت پہ لاکھوں سلام​​
کاش محشر میں جب انکی آمد ہو اور​​​بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام​​​
مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضامصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "حدائق بخشش، صفحہ-295"۔ مکتبۃالمدینہ، دعوت اسلامی، کراچی۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر2017۔ Check date values in: |access-date= (معاونت)
  2. ڈاکٹر غلام یححی انجم (2005). "مولانا احمد رضا خان کی عربی شاعری". نعت رنگ 18 (18): 173. http://www.nooremadinah.net/UrduBooks/UrduBooksShow.asp?BookID=23&CP=1&PageNumber=173.