برہان الحق جبل پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
برہان الحق جبل پوری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1892  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
جبل پور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1985 (92–93 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
رہائش جبل پور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ بریلوی مکتب فکر
فقہ حنفی
عملی زندگی
پیشہ عالم،  سیاست دان،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

عید السلام، مفتی برہان الحق جبل پوری (1892ء - 1985ء) ہندوستان کے نامور مسلمان سنی عالم دین اور سیاست دان تھے۔ ندوۃ العلما کے ابتدائی دور کے رکن تھے، 1312ھ میں ندوہ کی خصوصی مجلس کے رکن بنے۔ بعد میں اختلافات کی وجہ سے الگ ہو گئے۔[1] احمد رضا خان نے آپ کو خلافت دی اور عید السلام کا لقب دیا۔[2]

تعلیم[ترمیم]

آپ کی ولادت جبل پور، بھارت میں 21 ربیح الاول 1310ھ بمطابق 1892ء کو ہوئی۔ مدرسہ ب رہانیہ، جبل پور میں فارسی عم محترم قاری بشیر الدین سے پڑھی، منقولات و معقولات کی تحصیل والد شاہ عبد السلام سے کی۔

آپ کے جد مولانا عبد الکریم حیدر آبادی امام احمد رضا کے محبین و مخلصین میں سے تھے۔ اور والد عبد السلام قادری اور بھائی قاری بشیر الدین قادری رضوی دونوں امام احمد رضا کے خلیفہ تھے۔ خود ب رہان الحق احمد رضا خان کے تلمیذ تھے۔ آپ ہی سے بیعت تھے اور آپ ہی سے خلافت و اجازت حاصل تھی۔

1919ء میں نو عمری کے زمانے سے ہی شعر گوئی کی ابتدا کر دی تھی۔ آپ کی نعتیہ شاعری کا کچھ حصہ جذبات ب رہان کے نام سے شائع ہوا۔ 1914ء میں بریلی میں احمد رضا خان کے پاس چلے گئے اور دارالافتاء میں فتوے قلمبند کرنے لگے اور دار العلوم منظر اسلام میں مولانا ظہور حسین مجددی کے درس میں شریک ہوئے۔ مصطفٰی رضا خان اور امجد علی اعظمی آپ کے ہ مدرس تھے۔ کم و پیش تین سال امام احمد رضا خان کے پاس رہے۔

1918ء میں احمد رضا خان کے جبل پور آنے پر علم توقیت کی تحصیل کی۔ احمد رضا خان نے آپ کے لیے ایک رسالہ علم توقیت پر قلم بند کیا۔ 1918ء میں ہی احمد رضا خان نے 45 علوم و فنون میں گیارہ سلسلوں میں اجازت و خلافت سے نواز کر دستار بندی کی اور سند عطا فرمائی۔

ترک موالات و تحریک پاکستان[ترمیم]

1920ء میں کانگرس اور خلافت کمیٹی کے اجلاس منعقد ہ بریلی میں تشریف لے کیے، ابو الکلام آزاد سے بحث و مباحثہ کیا۔ 1940ء میں قرارداد پاہکستان کی منظوری کے بعد ملک کے طول و عرض میں دورے کیے، سرحد، پنجاب اور سندھ مین تقریریں کیں اور پاکستان کے لیے سخت جدو جہد کی، محمد علی جناح نے آپ کی کوششوں کو سراہا اور شکریہ کا خط لکھا۔

تصانیف[ترمیم]

  • اجلال الیقین بتقدیس سید المرسلین، 1918
  • سیۃ الصلوات عن حیل البدعات، 1970ء
  • الب رہان الاجلی فی تقبیل اماکن الصلحاء
  • الاھلال لشصادات رویۃ الہلال
  • روح الورد ھالنفح علی سوالات ھردا

اولاد[ترمیم]

  • مولانا انوار احمد، کراچی
  • حکیم مولوی محمود احمد، جبل پور
  • ڈاکٹر مولوی حامد احمد، جبل پور
  • عالیہ صدیقہ
  • جوہرۃ النیرہ

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مجالس علما، اقبال احمد فاروقی ، تدوین و ترتیب محمد عالم مختار حق، صفحہ 62، مکتبہ نبویہ، لاہور۔ 2007ء
  2. خلفائے محدث بریلوی، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، صفحہ 111، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل۔ کراچی۔ 2005ء