سید سلیمان اشرف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پروفیسر علامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری جو مصنف محقق اور ماہر تعلیم تھے یہ ا شرف المحققين کے نام سے معروف ہیں

ولادت[ترمیم]

سید سلیمان اشرف کی ولادت1295ھ/ 1878ء محلہ میر داد، بہار، ضلع نالندہ، بہار-

خاندان[ترمیم]

آپ کے والد گرامی مولانا حکیم سید عبد اللہ کا تعلق حضرت بی بی صائمہ، خواہر حقیقی مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی المعروف غوث العالم کے خلف و فرزندمخدوم سید درویش، بھیہ شریف، ضلع گیا، بہار سے تعلق تھا۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

آپ اپنے استاذ گرامی قاری نور محمد چشتی نظامی فخری اصدقی سے بیعت و ارادت رکھتے تھے۔ سید سلیمان اشرف بہاری کا تعلق خاندان اشرفیہ سے تها اور جب سلسلہ اشرفیہ کے عظیم بزرگ سید علی حسین اشرفی میاں جیلانی کچهوچهوی سے ملاقات ہوئی تو ان سے سلسلہ اشرفیہ میں طالب ہو گئے اور خلافت سلسلہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ منوریہ سے نوازے گئے- نیز سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی سے بهی خلافت و اجازت حاصل ہوئی تھی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلق[ترمیم]

1903ء میں نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی کی کوشش سے مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے شعبۂ دینیات میں پروفیسر کی حیثیت سے آپ کی تقرری ہوئی۔ بعد ازاں صدر شعبۂ دینیات کے عہدے پر فائز ہوئے۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کے سب سے پہلے صدر تهے-

مسلم یونیورسٹی کا دفاع[ترمیم]

علی گڑھ مسلم کالج کے خلاف جب مولانا ابو الکلام آزاد، مولوی محمود الحسن دیوبندی اور مولانا محمد علی جوہر نے زبردست تحریک چلائی تو سید سلیمان اشرف بہاری نے مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی اور ڈاکٹر سر ضیاء الدین کے ساتھ مل کر اس ادارے کی بھر پور حمایت کی اور مکمل دفاع کیا۔

تصنیفات[ترمیم]

  • (1) المبین عربی زبان کی فوقیت اور برتری پر ایک مایۂ ناز علمی و تحقیقی کتاب۔ نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی، شاعر مشرق علامہ اقبال اور مشہور مستشرق پروفیسر براؤن جیسے ماہرین لسانیات نے اس کتاب کی تعریف و توصیف کی ہے۔ کتاب کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر بر صغیر کی عظیم درس گاہ جامعہ اشرفیہ، مبارکپور، کے درجۂ فضیلت میں داخل نصاب ہے۔اس کے علاوہ الجامعۃ الاسلامیہ روناہی میں بھی داخل نصاب ہے
  • (2) النور: دو قومی نظریہ پر لاجواب کتاب۔
  • (3) الرشاد: گائے کی قربانی کے موضوع پر بے مثال کتاب۔
  • (4) الانھار: حضرت امیر خسرو کی مثنوی ”ہشت بہشت“ پر ایک فصیح وبلیغ اور محققانہ و فاضلانہ مقدمہ جو 550؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ نواب حبیب الرحمٰن شیروانی نے اس کتاب کو شبلی کی ”شعرالعجم“ سے بہتر قرار دیا ہے۔ کتاب کا موضوع فارسی شعر و ادب کی تاریخ ہے۔
  • (5) السّبیل: مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نصابِ تعلیمات اسلامیہ کے لیے تجاویز۔
  • (6) الحج: حج و زیارت کے موضوع پر ایک عمدہ تصنیف، جس کا مقدمہ صدر یار جنگ بہادر مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی صدر الصدور امور مذہبی ریاست حیدرآباد، دکن نے لکھا اور کہا کہ:
  • حج و زیارت کے موضوع پر سب سے اچھی کتاب ہے۔
  • (7) نزہۃ المقال فی لحیۃ الرجال: عدمِ جوازِ حلق لحیہ یعنی داڑھی منڈوانے، ترشوانے اور ایک مشت سے کم رکھنے کی حرمت و ممانعت پر علمی اور تحقیقی رسالہ۔ ایک سو پندرہ (115) سال قبل یہ کتاب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہوئی تھی اور اب اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد، دکن سے مولانا طفیل احمد مصباحی کی تحقیق و تخریج کے ساتھ دوبارہ شائع ہو رہی ہے۔
  • (8) البلاغ: مسلمانوں کے ملّی انحطاط، بے عملی، بدنظمی اور خلافتِ عثمانیہ کے تاریخی واقعات کے تناظر میں ملت اسلامیہ کے لیے ایک جامع اور پر سوز رہنما تحریر۔
  • (9) الخطاب: تقریر اور لکچرر کا مجموعہ۔

وفات[ترمیم]

سید سلیمان اشرف کا 5؍ ربیع الاول 1358ھ/ 25؍ اپریل 1939ءعمر 63 سال انتقال ہوا اورمسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں شیروانیوں کے قبرستان میں آپ کی تدفین ہوئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حیات سید سلیمان اشرف بہاری،بشارت علی صدیقی اشرفی-اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد دکن