محمود حسن دیوبندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(محمود الحسن سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
محمود حسن دیوبندی
دار العلوم دیوبند کے تیسرے صدر مدرس
مدت منصب
1890 – 1915
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سید احمد دہلوی
انور شاہ کشمیری Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1851[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بریلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 نومبر 1920 (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ذوالفقار علی دیوبندی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ محمود دیوبندی،  محمد قاسم نانوتوی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص محمود حسن دیوبندی کے شاگردوں کی فہرست  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فعالیت پسند،  معلم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محمود حسن دیوبندی بھارتی مسلم عالم، رہنماء اور تحریکِ آزادی کے ایک کارکن تھےـ وہ دارالعلوم دیوبند کے پہلے شاگرد تھےـ ان کے شاگردوں میں انور شاہ کشمیری، محمد سہول بھاگلپوری، حسین احمد مدنی اور کفایت اللہ دہلوی معروف ہیں۔

وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے ہیں۔ 29 اکتوبر 1920 کو انہوں نے علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سنگِ بنیاد ڈالی.

ولادت[ترمیم]

محمود حسن دیوبندی 1268ھ بمطابق 1851ء کو اترپردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

آپ کی تعلیم کا آغاز 6 سال کی عمر میں ہوا۔ قرآن مجید کا کچھ حصہ اور فارسی کی ابتدائی کتابیں عالم دین مولانا عبد الطیف سے پڑھیں۔ پھر محمد قاسم نانوتوی کے قائم کردہ مدرسہ دارالعلوم دیوبند آئے، آپ دارالعلوم کے پہلے طالب علم تھے۔ 1274ھ بمطابق 1858ء میں آپ نے کنز، مختصر المعانی کا امتحان دیا آئندہ سال مشکوٰۃ شریف اور ہدایہ پڑھیں پھر 1286ھ بمطابق 1870ء میں قطب صحاح ستہ کی تکمیل کی اورفارغ التحصیل ہوئے۔

اساتذہ[ترمیم]

بانی دارالعلوم دیوبند عالم دین مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا محمد یعقوب نانوتوی کے علاوہ مولانا رشید احمد گنگوہی ،مولانا محمود اور مولانا شاہ عبد الغنی دہلوی آپ کے مشہور اساتذہ میں سے ہیں۔

تدریس[ترمیم]

فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی 1288ھ بمطابق 1874ء میں آپ کو دار العلوم دیوبند کا معین مدرس بنا دیا گیا تھا۔ اس وقت آپ کے سپرد ابتدائی تعلیم کا کام کیا گیا لیکن رفتہ رفتہ آپ کی علمی استعداد اور ذہانت ظاہر ہونے لگی اور اوپر کی کتابیں بھی پڑھانے کے مواقع ملتے گئے۔ 1293ھ بمطابق 1877ء میں آپ نے ترمذی شریف، مشکوٰۃ شریف اور ہدایہ وغیرہ کی تدریس کرنا شروع کی پھر 1295ھ بمطابق 1878ء میں مسلم شریف اور بخاری شریف بھی پڑھانے لگے۔ آپ نے مسلسل 40 سال تک دارالعلوم دیوبند میں درس حدیث دیا اور زمانہ اسارت (قید) مالٹا اور مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں بھی درس دیا۔ اس طرح آپ کا زمانہ تدریس 44 سال سے زائد ہوتا ہے۔

مشہور تلامذہ[ترمیم]

آپ کے ممتاز تلامذہ میں مشہور علمائے دین مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ محمد انور شاہ کشمیری، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا اصغر حسین دیوبندی، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا اعزاز علی دیوبندی، مولانا حبیب الرحمٰن عثمانی اور مولانا عبد السمیع دیوبندی جیسے مشاہر و علم و فضل شامل ہیں۔حضرت مولاناعزیرگل پشاور اسیرمالٹا

بیعت و اجازت[ترمیم]

حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے آپ کے کمالات علمیہ اور روحانیہ سے خوش ہو کر دستار خلافت اور اجازت نامہ بیعت عنایت فرمایا اور پھررشید احمد گنگوہی سے بھی خلافت اور بیعت کی اجازت حاصل ہوئی۔

تصانیف[ترمیم]

آپ نے درس و تدریس اور مشاغل سیاست کے باوجود کئی کتب تصنیف کی ہیں۔ جن میں سے ترجمہ قرآن، ایضاح الادلۃ اور الادلۃ الکاملۃ قابل ذکر ہیں۔

اہم کارنامے[ترمیم]

محمود حسن دیوبندی تحریک آزادی ہند کے سربراہ لیڈروں میں سے تھے۔انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے قیام سے سات سال قبل ثمرت التربیت نامی تحریک شروع کی۔ اس تحریک کا مقصد ان کے تلامذہ کی انقلابی ذہن سازی کرنا تھا۔[2]انہوں نے انگریزی استعمار سے ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے ریشمی رومال تحریک چلائی۔[3][4]تحریک ریشمی رومال کے اخفا کے سبب محمود حسن کو ان کے شاگردوں، حسین احمد مدنی اور عزیر گل پیشاوری کے ہمراہ دسمبر 1916 میں حجاز میں گرفتارکیا گیا اور مالٹا میں قید کیا گیا۔[5] مالٹا کی اسارت سے رہائی کے بعد محمود حسن دیوبندی جون 1920 میں ممبئی پہنچے اور 12 جون 1920 کو دہلی پہنچ گئے۔ دہلی میں مختار احمد انصاری کے ساتھ تین روز قیام کر کے 13 جون 1920 کو دیوبند پہنچے۔[6]

وفات[ترمیم]

18 ربیع الاول 1339ھ 30 نومبر 1920ء دہلی میں رحلت فرمائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/294303 — بنام: Maḥmūd Ḥasan Devbandī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. طیب، محمد (1990). The Role of Shaikh-Ul-Hind Maulana Mahmud-Ul-Hasan in the Indian Freedom Movement [تحریک آزادی ہند میں شیخ الہند مولانا محمود حسن کا کردار] (ایم فل). صفحہ 19. 
  3. نظام الدین اسیر ادروی. تذکرہ مشاہیر ہند: کاروان رفتہ (ایڈیشن دوسرا، اپریل 2016). دیوبند: دار المؤلفین. صفحہ 246. 
  4. منظر امام (25 اکتوبر 2020). "Jamia Millia Islamia and Shaikhul Hind Maulana Mahmud Hasan" [جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شیخ الھند مولانا محمود حسن]. امید (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 7 دسمبر 2020.  [مردہ ربط]
  5. تنویر وسطی، سید. "The Political Aspirations of Indian Muslims and the Ottoman Nexus". Middle Eastern Studies (اوکسفرڈشائر: ٹیلر و فرینشس) 42 (5): 715. doi:ڈی او ئي. https://www.jstor.org/stable/4284490۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 دسمبر 2020. 
  6. ابو محمد ثناء اللہ سعد. علمائے دیوبند کے آخری لمحات (ایڈیشن 2015). سہارنپور: مکتبہ رشیدیہ. صفحات 23–24. 

بیرونی روابط[ترمیم]

طلبۂ علی گڑھ سے حضرت شیخ الہند کا خطابآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ mukaalma.com [Error: unknown archive URL]