محمود حسن دیوبندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(محمود الحسن سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

دارالعلوم دیوبند کے پہلے شاگرد،مشہور عالم دین، درالعلوم دیوبند کے صدر مدرس اور برصغیر کی آزادی کیلئے انگریز کے ہاتھوں مالٹا کی اسیری برداشت کی۔ شیخ الہند اور اسیر مالٹا آپکے القابات ہیں۔

ولادت[ترمیم]

محمود حسن دیوبندی 1268ھ بمطابق 1851ء کو اترپردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

آپ کی تعلیم کا آغاز 6 سال کی عمر میں ہوا۔ قرآن مجید کا کچھ حصہ اور فارسی کی ابتدائی کتابیں عالم دین مولانا عبدالطیف سے پڑھیں۔ پھر محمد قاسم نانوتوی کے قائم کردہ مدرسہ دارالعلوم دیوبند آئے، آپ دارالعلوم کے پہلے طالب علم تھے۔ 1274ھ بمطابق 1858ء میں آپ نے کنز، مختصر المعانی کا امتحان دیا آئیندہ سال مشکوٰۃ شریف اور ہدایہ پڑھیں پھر 1286ھ بمطابق 1870ء میں قطب صحاح ستہ کی تکمیل کی اورفارغ التحصیل ہوئے۔

اساتذہ[ترمیم]

بانی دارالعلوم دیوبند عالم دین مولانا قاسم نانوتوی ، مولانا محمد یعقوب نانوتوی کے علاوہ مولانا رشید احمد گنگوہی ،مولانا محموداور مولانا شاہ عبدالغنی دہلوی آپکے مشہور اساتذہ میں سے ہیں۔

تدریس[ترمیم]

فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی 1288ھ بمطابق 1874ء میں آپ کو دارالعلوم دیوبند کا معین مدرس بنا دیا گیا تھا۔ اس وقت آپ کے سپرد ابتدائی تعلیم کا کام کیا گیا لیکن رفتہ رفتہ آپ کی علمی استعداد اور ذہانت ظاہر ہونے لگی اور اوپر کی کتابیں بھی پڑھانے کے مواقع ملتے گئے۔ 1293ھ بمطابق 1877ء میں آپ نے ترمذی شریف، مشکوٰۃ شریف اور ہدایہ وغیرہ کی تدریس کرنا شروع کی پھر 1295ھ بمطابق 1878ء میں مسلم شریف اور بخاری شریف بھی پڑھانے لگے۔ آپ نے مسلسل 40 سال تک دارالعلوم دیوبند میں درس حدیث دیا اور زمانہ اسارت (قید) مالٹا اور مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں بھی درس دیا۔ اس طرح آپ کا زمانہ تدریس 44 سال سے زائد ہوتا ہے۔

مشہور تلامذہ[ترمیم]

آپ کے ممتاز تلامذہ میں مشہور علمائے دین مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ محمد انور شاہ کشمیری، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا اصغر حسین دیوبندی، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا اعزاز علی دیوبندی، مولانا حبیب الرحمٰن عثمانی اور مولانا عبدالسمیع دیوبندی جیسے مشاہر و علم و فضل شامل ہیں۔

بیعت و اجازت[ترمیم]

حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے آپ کے کمالات علمیہ اور روحانیہ سے خوش ہو کر دستار خلافت اور اجازت نامہ بیعت عنایت فرمایا اور پھررشید احمد گنگوہی سے بھی خلافت اور بیعت کی اجازت حاصل ہوئی۔

تصانیف[ترمیم]

آپ نے درس و تدریس اور مشاغل سیاست کے باوجود کئی کتب تصنیف کی ہیں۔ جن میں سے ترجمہ قرآن، ایضاح الادلۃ اور الادلۃ الکاملۃ قابل ذکر ہیں۔

اہم کارنامے[ترمیم]

  • انگریزوں کے خلاف 1857ء میں شروع کی گئی تحریک آزادی کے مشن کو آپ نے کافی آگے بڑھایا۔
  • آپ نے تحریک کا مرکز کابل کو بنایا اور آپکی تحریک ریشمی رومال کے نام سے مشہور ہے۔
  • آپ عسکری بنیادوں پر مسلمانوں کو منظم کر کے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہتے تھے، لیکن اپنوں کی سازشوں سے انگریزوں کے خلاف یہ تحریک بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ لیکن اس نے ہند و پاک کے مسلمانوں میں بیداری کی نئی روح پھونک دی۔

وفات[ترمیم]

18 ربیع الاول 1339ھ 30 نومبر 1920ء دیوبند میں رحلت فرمائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

طلبۂ علی گڑھ سے حضرت شیخ الہند کا خطاب