خزائن العرفان
مکتبۃ المدینہ: لاہور، 2012ء پارہ 5، سورت 4، آیات 101 تا 102، مکتبۃ المدینہ: لاہور، 2012ء، صفحات 185 تا 186 مکتبۃ المدینہ: لاہور، 2012ء، صفحات 1131 تا 1132 | |
| مصنف | نعیم الدین مراد آبادی |
|---|---|
| زبان | اردو |
| صنف | تفسیر |
| ناشر | مکتبۃ المدینہ: کراچی |
تاریخ اشاعت | 2012ء (جدید طباعت) |
| طرز طباعت | پرنٹ (مجلد) |
| صفحات | 1,222 |
خزائن العرفان قرآن مجید کی ابتدائی اردو تفاسیر میں سے ایک مشہور اور معتبر تفسیر ہے، جسے صدرالافاضل نعیم الدین مرادآبادی نے تحریر کیا۔
خصوصیات
[ترمیم]اردو تفاسیر میں یہ سب سے بہتر تفسیر ہے[1]جو مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی جامع بھی ہے۔ اس میں الفاظ و آیات کی لغوی، نحوی اور تفسیری وضاحت کے ساتھ ساتھ مسائلِ عقیدہ، سیرت، فقہ اور تصوف کے نکات بھی جابجا بیان کیے گئے ہیں۔
- الفاظ بالکل نپے تلے ہیں کہ ضرورت سے زائد ہیں نہ کم۔[2]
- ہر سورت کا نام، مکی یا مدنی، آیات و الفاظ کی تعداد اور ناسخ و منسوخ پہلو نہایت سادہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔
- ترجمے کے الفاظ پر نمبر دے کر فٹ نوٹ میں تفسیر کی گئی ہے۔
- عربی طرز پر، حاشیے میں ترجمے کے ربطی الفاظ (جیسے فعل، فاعل، ظرف وغیرہ) بھی واضح کیے گئے ہیں۔[3]
- جہاں فقہی بات ہو، وہاں "مسئلہ" کے تحت اس کا حل واضح طور پر لکھا گیا ہے، جس سے احکامِ قرآن کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔[4] [5]ان کی اہمیت کے باعث کئی کتب میں ان مسائل کو جمع کیا گیا ہے، جیسے " مسائلِ خزائن العرفان" (مولانا نور محمد نعیمی القادری اور مولوی محمد رضوان القادری نعیمی)، "احکام القرآن بحوالہ تفسیر خزائن العرفان" (مولانا غلام سرور مصباحی) وغیرہ ۔[6]
- حوالہ جات کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔[7] تفسیر، حدیث، تاریخ، سیرت اور فقہ سب کے مراجع مستند کتب سے لیے گئے ہیں اور سائنسی معیار پر بھی یہ تفسیر بلند درجے کی ہے۔[8]
نمونہ تفسیر (28:65:1)
[ترمیم][ترجمہ]
(ف1)اے نبی (ف2) ،جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انھیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو (ف3) اور اپنے رب اللہ سے ڈرو۔ عدت میں انھیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں (ف4) مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں (ف5)۔ اور یہ اللہ کی حدّیں ہیں اور جو اللہ کی حدیں سے آ گے بڑھا ،بے شک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ تمھیں نہیں معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے (ف6)۔
[تفسیر]
(ف2) اپنی امّت سے فرمادیجئے ۔
(ف3) شانِ نزول : یہ آیت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حق میں نازل ہوئی۔ انھوں نے اپنی بی بی کو عورتوں کے ایّامِ مخصوصہ میں طلاق دی تھی۔ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ رجعت کریں ، پھر اگر طلاق دینا چاہیں تو طُہر یعنی پاکی کے زمانہ میں طلاق دیں ۔ اس آیت میں عورتوں سے مراد مدخول بہا عورتیں ہیں (جو اپنے شوہروں کے پاس گئی ہوں) صغیرہ ، حاملہ اور آ ئسہ نہ ہوں ۔ آئسہ وہ عورت ہے جس کے ایّام بڑھاپے کی وجہ سے بند ہو گئے ہوں ، ان کا وقت نہ رہاہو ۔ مسئلہ : غیر ِ مدخول بہا پر عدّت نہیں ہے ۔ باقی تینوں قِسم کی عورتیں جو ذکر کی گئی تھیں انھیں ایّام نہیں ہوتے تو ان کی عدّت حیض سے شمار نہ ہوگی ۔ مسئلہ : غیر ِ مدخول بہا کو حیض میں طلاق دینا جائز ہے ۔ آیت میں جو حکم دیا گیا، اس سے مراد ایسی مدخول بہا عورتیں ہیں جن کی عدّت حیض سے شمار کی جائے۔ انھیں طلاق دینا ہو تو ایسے طُہر میں طلاق دیں جس میں ان سے جماع نہ کیا گیا ہو ، پھر عدّت گذرنے تک ان سے تعرّض نہ کریں، اس کو طلاقِ احسن کہتے ہیں ۔ طلاقِ حسن: غیر ِ موطوء ہ عورت یعنی جس سے شوہر نے قربت نہ کی ہو اس کو ایک طلاق دینا طلاق حسن ہے خواہ یہ طلاق حیض میں ہو ۔ اور موطوء ہ عورت اگر صاحبِ حیض ہو تو اسے تین طلاقیں ایسے تین طُہروں میں دینا جن میں اس سے قربت نہ کی ہو طلاقِ حسن ہے اور اگر موطوء ہ صاحبِ حیض نہ ہو تو اس کو تین طلاقیں تین مہینوں میں دینا طلاقِ حسن ہے۔ طلاقِ بدعی: حالتِ حیض میں طلاق دینا یا ایسے طُہر میں طلاق دینا جس میں قربت کی گئی ہو طلاقِ بدعی ہے۔ ایسے ہی ایک طُہر میں تین یا دو طلاقیں یکبارگی یا دو مرتبہ میں دینا طلاقِ بِدعی ہے اگرچہ اس طُہر میں وطی نہ کی گئی ہو۔مسئلہ : طلاقِ بدعی مکروہ ہے مگر واقع ہوجاتی ہے اور ایسی طلاق دینے والا گنہگار ہوتاہے ۔
(ف4)مسئلہ : عورت کو عدّت شوہر کے گھر پوری کرنی لازم ہے۔ نہ شوہر کو جائز کہ مطلّقہ کو عدّت میں گھر سے نکالے ، نہ ان عورتوں کو وہاں سے خود نکلنا روا ۔
(ف5)ان سے کوئی فسق ظاہر صادر ہو جس پر حد آتی ہے مثل زنا اور چوری کے ، اس لیے انھیں نکا لنا ہی ہوگا۔مسئلہ : اگر عورت فحش بکے اور گھر والوں کو ایذا دے تو اس کو نکالنا جائز ہے کیونکہ وہ ناشزہ کے حکم میں ہے ۔ مسئلہ : جو عورت طلاقِ رجعی یا بائن کی عدّت میں ہو، اس کو گھر سے نکلنا بالکل جائز نہیں؛ اور جو موت کی عدّت میں ہو، وہ حاجت پڑے تو دن میں نکل سکتی ہے لیکن شب گذارنا اس کو شوہر کے گھر ہی میں ضروری ہے ۔ مسئلہ : جو عورت طلاقِ بائن کی عدّت میں ہو، اس کے اور شوہر کے درمیان پردہ ضروری ہے اور بہتر یہ ہے کہ کوئی اور عورت ان دونوں کے درمیان حائل ہو ۔ مسئلہ : اگر شوہر فاسق ہو یا مکان بہت تنگ ہو تو شوہر کو اس مکان سے چلا جانا بہتر ہے ۔
(ف6) رجعت کا ۔
کتابیات
[ترمیم]- مفتی احمد یا ر نعیمی ۔دیباچہ تفسیر نعیمی۔ نعیمی کتب خانہ: گجرات (پاکستان)، ج1، ص17، 2004ء۔
- مولانا نور محمد نعیمی القادری اور مولوی محمد رضوان القادری نعیمی۔ مسائل خزائن العرفان: حصہ اول۔ جمعیت اشاعت اہلسنت پاکستان: کراچی، 2008ء۔
- مولانا نور محمد نعیمی القادری اور مولوی محمد رضوان القادری نعیمی۔ مسائل خزائن العرفان: حصہ دوم ۔ جمعیت اشاعت اہلسنت پاکستان: کراچی، 2008ء۔
- مولانا ابوفراز محمد اعجاز مدنی۔ اسلوب خزائن العرفان۔ مکتبہ فیضان علمیہ: کراچی، 1435ھ/2014ء۔
- کنور سلطان احمد۔ صدرالافاضل بحیثیت مفسر۔ مکتبہ نعیمیہ: کراچی، 2014ء۔
- مولانا غلام سرور مصباحی۔ احکام القرآن بحوالہ تفسیر خزائن العرفان۔ جامعہ فاطمۃ الزھرا: بہار، 2014ء۔
- مولانا محمد ظفر الدین برکاتی۔ "اردو تفاسیر میں خزائن العرفان کا مقام"۔ سال نامہ خزائن العرفان: سدھارتھ نگر (یو پی)، جنوری تا دسمبر 2020ء، ص22-25۔
- محمد مدثر شفیق اور محمد عابد ندیم۔ "علما اہلسنت کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ"۔ التفسیر، جلد35، شمارہ 1، 62-80 ،2020ء۔
بیرونی روابط
[ترمیم]- تفسیر خزائن العرفان آرکایو ڈاٹ کام پر
- تفسیر خزائن العرفان دعوت اسلامی ڈاٹ نیٹ پر
- تفسیر خزائن العرفان مفتی اختر رضا خان ڈاٹ نیٹ پر
- تفسیر خزائن العرفان سکرابڈ[مردہ ربط]
پر
- تفسیر خزائن العرفان سکالرز ڈاٹ پی کے[مردہ ربط]
پر
- تفسیر خزائن العرفان قادری لائبریری پر
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مفتی احمد یا ر نعیمی ۔تفسیر نعیمی: جلد 1۔ نعیمی کتب خانہ: گجرات (پاکستان)، 2004ء، ص17۔
- ↑ مولانا محمد ظفر الدین برکاتی۔ "اردو تفاسیر میں خزائن العرفان کا مقام"۔ سال نامہ خزائن العرفان: سدھارتھ نگر (یو پی)، جنوری تا دسمبر 2020ء، ص22۔
- ↑ مولانا ابوفراز محمد اعجاز مدنی۔ اسلوب خزائن العرفان۔ مکتبہ فیضان علمیہ: کراچی، 1435ھ/2014ء، ص4
- ↑ تفصیل کے لیے دیکھیے مذکورہ تفسیر خزائن العرفان میں سورہ بقرہ کی آیت 232 اور 234۔
- ↑ مولانا نور محمد نعیمی القادری اور مولوی محمد رضوان القادری نعیمی۔ مسائل خزائن العرفان: حصہ اول۔ جمعیت اشاعت اہلسنت پاکستان: کراچی، 2008ء، ص6۔
- ↑ مولانا غلام سرور مصباحی۔ احکام القرآن بحوالہ تفسیر خزائن العرفان۔ جامعہ فاطمۃ الزھرا: بہار، 2014ء، ص6۔
- ↑ محمد مدثر شفیق اور محمد عابد ندیم۔ "علما اہلسنت کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ"۔ التفسیر، جلد35، شمارہ 1 (2020): 62–80، رسائی 2 اگست 2025۔
- ↑ کنور سلطان احمد۔ صدرالافاضل بحیثیت مفسر۔ مکتبہ نعیمیہ: کراچی، 2014ء، ص13۔


