سیال (خاندان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بنیادی طور پر پنجاب کا ایک زمیندار قبیلہ ہے لیکن اس سے تعلق رکھنے والے افراد اب سندھ اور بلوچستان میں بھی آباد ہیں، پنجاب کے سیال اپنے نام کے ساتھ سردار، مہر، نواب خان اور رائے کا لاحقہ بھی استعمال کرتے ہیں ۔۔ پنجاب میں یہ قبیلہ جھنگ کے علاوہ سرگودھا، خوشاب اور فیصل آباد کے علاوہ کئی اضلاع میں آباد ہے ۔۔۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سیال جو ایک پنوار راجپوت رائے شنکر کی اولاد تھا جو الٰہ آباد اور فتح پور کے درمیانی علاقہ دارا نگر کا رہنے والا تھا ایک کہانی یہ بھی ہے کہ پنواروں کی ایک شاخ دارانگر سے نقل مکانی کر کے جونپور چلی گئی جہاں شنکر پیدا ہوا۔ گورنر پنجاب” ای ڈی میکلیگن “کے مطابق شنکر کے ہاں تین بیٹے ہوئے جن کے نام گھیئو، ٹیئو اورسیئو رکھے گئے انہی سے جھنگ کے سیالوں شاہ پور خوشاب  کے ٹوانوں اور پنڈی گھیب کے گھیبوں کی نسل چلی ۔

ایک اور روایت کے مطابق سیال رائے شنکر کا اکلوتا بیٹا تھا اور یہ کہ ٹوانوں اور گھیبوں کے مورثین محض شنکر کے ہم جد رشتہ دار تھے کہا جاتا ہے کہ شنکر کی زندگی میں تو یہ تمام قبیلہ باہم شیر و شکر رہا مگر شنکر کی مقت کے ساتھ ہی ان میں شدید جھگڑے شروع ہو گئے جس وجہ سے 1241-46 میں اس کا بیٹا سیال سلطان رکن الدین کے بیٹے” علاﺅ الدین غوری یا مسعود شاہ علاﺅ الدین“ کے دورِ حکومت میں پنجاب کو نقل مکانی کر گیا۔

یہ شواہد بھی ملتے ہیں کہ قریباً یہ وہی دور تھا جب متعدد راجپوت خاندانوں نے موجودہ ہندوستان سے پنجاب کو نقل مکانی کی ادھر اسی زمانہ میں بابا فرید الدین گنج شکر کی دینی تعلیمات اور اخلاق حسنہ کی بدولت یہاں اسلام خوب پھیل رہا تھا۔ قرین ِ قیاس ہے کہ سیال آوارہ گردی کرتا ہو ” اجودھن“ موجودہ پاک پتن جا پہنچا اور بابا فرید الدین گنج شنکر کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہو گیا۔1265ءمیں بابا فرید الدین کے وصال تک یہ انہی کے پاس مقیم رہا ۔ مشہور ہے کہ بابا فرید الدین نے بشارت دی کہ اس کی اولاد دریائے چناب کے آس پاس کےعلاقے پر حکمرانی کرے گی۔

سیالوں کی آگے بھی بہت سی سب گوتیں ہیں ان میں ایک دلچسپ بات یہ ہے جس بھی قوم کے نام کے آخر میں" آنہ " لفظ ہوگا وہ سیال ہی ہوگا مثلاً فتیانہ سرگانہ جمیانہ وغیرہ سیالوں کی رشتے داریاں راوی کے کھرلوں کے ساتھ بھی رہی ہیں اس کے علاوہ چناب کے علاقے کی ایک اور قوم چدھڑ راجپوت کے ساتھ بھی ان کی رشتے داریاں رہی ہیں ایک اور روایت کے مطابق یہ رائے درست نظر آتی ہے کہ سیال ٹوانہ اور گھیبے رائے شنکر کے تین بیٹے بالترتیب سیئو، ٹیئو اور گھیئو کی اولاد ہیں ۔ سیال اور ٹوانہ بھی اس تعلق کو کسی حد تک تسلیم کرتے ہیں۔ اسی بناءپر راجپوت قبائل کے اس گروہ کا پنوار ہونا خلافِ امکان نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گھیبہ خاندان سیال اور ٹوانہ کے بعد پنجاب آیا اور فتح جنگ ، پنڈی گھیب کے نیم پہاڑی علاقہ میں آباد ہوا۔ یہاں وہ اعوانوں گکھڑوں اور دیگر پڑوسی قبائل کے مقابل قائم رہے حتیٰ کہ رنجیت سنگھ نے انہیں 1798-99میں مطیع کر لیا۔