ہیر رانجھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہیر رانجھا کا مزار
رانجھا کی قبر

ہیر رانجھا ایک مشہور پنجابی لوک کہانی ہے۔ متعدد مصنفین و شعراء نے یہ کہانی لکھی, لیکن ان میں سے سب سے مشہور وارث شاہ کی لکھی ہوئی ہیر وارث شاہ ہے۔ جو 1776ء میں پنجاب میں لکھی گئی۔ اس طرح کی مزید کہانیوں میں سسی پنوں، سوہنی ماہیوال وغیرہ شامل ہیں۔

داستان[ترمیم]

ہیر ضلع جھنگ میں آباد سیال قبیلے سے تعلق رکھتی اور ایک جٹ لڑکی ہے۔وہ انتہائی خوبصورت ہے اور علاقہ بھر میں اس جیسی حسین لڑکی نہیں۔رانجھا بھی جٹ اور دریائے چناب کے کنارے آباد ایک گاؤں تخت ہزارہ کا ہی باسی ہے۔اس کے تین بھائی کھیتی باڑی کرتے تھے مگر باپ کا چہیتا ہونے کے ناتے وہ جنگلوں میں پھرتا اور ونجلی(بانسری)بجاتا رہتا۔اس نے اپنی زندگی میں کم ہی دکھ دیکھے تھے۔ جب رانجھے کا باپ مر گیا ،تو اس کا دور ابتلا شروع ہوا ۔پہلے زمین کے معاملات پر اس کا بھائیوں سے جھگڑا ہوا اور پھر بھائیوں نے اسے کھانا دینے سے انکار کر دیا۔نتیجتاً رانجھا نے اپنا پنڈ(گاؤں)چھوڑا اور آوارہ گردی کرنے لگا۔پھرتے پھراتے وہ ہیر کے گاؤں جا پہنچا اور اسے دیکھتے ہی اپنا دل دے بیٹھا۔ ہیر نے جب اسےبے روزگارپایا،تو رانجھے کو اپنے باپ کے مویشی چرانے کا کام سونپ دیا۔رفتہ رفتہ رانجھےکی ونجلی نے ہیر کا دل موہ لیااور اس اجنبی سے محبت کرنے لگی۔آہستہ آہستہ ان کے لیے ایک دوسرے کےبغیر وقت کاٹنا مشکل ہوگیااور وہ راتوں کو چھپ کر ملنے لگے۔یہ سلسلہ طویل عرصہ جاری رہا۔ایک دن ہیر کے چچاکیدو نے انہیں پکڑ لیا۔اب ہیر کے ماں باپ(چوچک اور مالکی) نے زبردستی اس کی شادی سیدے کھیڑے سے کر دی۔

محبت کی نکامی سے رانجھے کا دل ٹوٹ گیا اور وہ دوبارہ آوارہ گردی کرنے لگا۔ایک دن اس کی ملاقات بابا گورکھ ناتھ سے ہوئی جو جوگیوں کے ایک فرقے ،کن پھٹا کا بانی تھا۔اس کے بعد رانجھا بھی جوگی بن گیا۔اس نے اپنے کان چھدوائے اور دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔وہ گاؤں گاؤں ،نگر نگر پھرتا آخر کار اس دیہہ میں پہنچ گیا جہاں ہیر بیاہی گئی تھی۔اب رانجھا اور ہیر واپس اپنے گاؤں پہنچ گے۔بحث مباحثے کے بعد آخر ہیر کے والدین دونوں کی شادی پر رضا مند ہو گئے مگر حاسد کیدو نے عین شادی کے دن زہریلے لڈو کھلا کر ہیر کا کام تمام کر دیا۔جب رانجھے کو یہ بات معلوم ہوئی،تو وہ روتا پیٹتا اپنی محبوبہ کے پاس بھاگا آیا۔ جب ہیر کو مردہ دیکھا تو زہریلا لڈو کھا کر خودکشی کر لی۔

ثقافت[ترمیم]

ہیر رانجھا کی کہانی پر مبنی بھارت اور پاکستان میں متعدد بار “ہیر رانجھا“ نام کی ایک فلمیں بن چکی ہیں۔[1] پنجاب میں تین صدیوں تک اس کو شادی بیاہ، میلوں، اور دیگر مواقع پر گایا اور سنا جاتا رہا ہے۔ اس کو پاک و ہند کے متعدد گلوکاروں نے گایا ہے۔ آج بھی پنجاب کے دیہاتوں میں بزرگ شخصیات اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ہیر رانجھا گانے والے گلوکار[ترمیم]

اس کو پاک و ہند کے متعدد گلوکاروں نے گایا ہے.جن میں سے چند اہم نام یہ ہیں۔

ہیر رانجھا پر بننے والی فلمیں[ترمیم]

فلم اور رلیز سال اداکار پروڈیوسر اور ڈائریکٹر فلمی گانے گیتکار اور موسیقار
ہیر رانجھا (1928) زبیدہ (اداکارہ) بطور ہیر فاطمہ بیگم
ہیر رانجھا (1932) رفیق غزنوی بطور رانجھا، انوری بائی بطور ہیر عبد الرشید کاردار رفیق غزنوی
ہیر رانجھا (1948) ممتاز شانتی بطور ہیر، غلام محمد بطور رانجھا ولی صاحب عزیز خان
ہیر (پاکستانی فلم) سورن لتا بطور ہیر، عنایت حسین بھٹی بطور رانجھا نذیر احمد خان صفدر حسین
ہیر (1956 فلم) نوتن بہل سمرتھ بطور ہیر، پردیپ کمار بطور رانجھا حمید بٹ کیفی اعظمی
ہیر سیال (1962) بہار بیگم بطور ہیر، سدھیر (پاکستانی اداکار) بطور رانجھا
ہیر سیال (1965 فلم) فردوس بطور ہیر، اکمل خان بطور رانجھا جعفر بخاری تنویر نقوی، بخشی وزیر
ہیر رانجھا (1970 فلم) فردوس بطور ہیر، اعجاز درانی بطور رانجھا مسعود پرویز احمد راہی، خورشید انور
ہیر رانجھا (1970) پریا راجونش بطور ہیر، راج کمار بطور رانجھا چیتن آنند کیفی اعظمی، مدن موہن
ہیر رانجھا (1992 فلم) سری دیوی بطور ہیر، انیل کپور بطور رانجھا ہرمیش ملہوترا آنند بخشی، لکشمی کانت پیارے لال
ہیر رانجھا (2009) نیرو باجوہ بطور ہیر، ہربھجن مان بطور رانجھا ہرجیت سنگھ بابو سنگھ مان، گرمیت سنگھ
ہیر رانجھا 2 (2017) نیرو باجوہ بطور ہیر، ہربھجن مان بطور رانجھا ہرجیت سنگھ بابو سنگھ مان، گرمیت سنگھ، لڈی گل اور روپن کاہلوں

نمونہ کلام[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]