ہیر رانجھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہیر رانجھا کا مزار
رانجھا کی قبر

ہیر رانجھا ایک مشہور پنجابی لوک کہانی ہے۔ متعدد مصنفین و شعرا نے یہ کہانی لکھی، لیکن ان میں سے سب سے مشہور وارث شاہ کی لکھی ہوئی ہیر وارث شاہ ہے۔ جو 1776ء میں پنجاب میں لکھی گئی۔ اس طرح کی مزید کہانیوں میں سسی پنوں، سوہنی ماہیوال وغیرہ شامل ہیں۔

داستان[ترمیم]

ہیر ضلع جھنگ میں آباد سیال قبیلے سے تعلق رکھتی اور ایک جٹ لڑکی ہے۔ وہ انتہائی خوبصورت ہے اور علاقہ بھر میں اس جیسی حسین لڑکی نہیں۔ رانجھا بھی جٹ اور دریائے چناب کے کنارے آباد ایک گاؤں تخت ہزارہ کا ہی باسی ہے۔ اس کے تین بھائی کھیتی باڑی کرتے تھے مگر باپ کا چہیتا ہونے کے ناتے وہ جنگلوں میں پھرتا اور ونجلی(بانسری) بجاتا رہتا۔ اس نے اپنی زندگی میں کم ہی دکھ دیکھے تھے۔ جب رانجھے کا باپ مر گیا ،تو اس کا دور ابتلا شروع ہوا۔ پہلے زمین کے معاملات پر اس کا بھائیوں سے جھگڑا ہوا اور پھر بھائیوں نے اسے کھانا دینے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً رانجھا نے اپنا گاؤں چھوڑا اور آوارہ گردی کرنے لگا۔ پھرتے پھراتے وہ ہیر کے گاؤں جا پہنچا اور اسے دیکھتے ہی اپنا دل دے بیٹھا۔ ہیر نے جب اسے بے روزگارپایا،تو رانجھے کو اپنے باپ کے مویشی چرانے کا کام سونپ دیا۔ رفتہ رفتہ رانجھے کی ونجلی نے ہیر کا دل موہ لیااور اس اجنبی سے محبت کرنے لگی۔ آہستہ آہستہ ان کے لیے ایک دوسرے کے بغیر وقت کاٹنا مشکل ہو گیااور وہ راتوں کو چھپ کر ملنے لگے۔ یہ سلسلہ طویل عرصہ جاری رہا۔ ایک دن ہیر کے چچاکیدو نے انہیں پکڑ لیا۔ اب ہیر کے ماں باپ(چوچک اور مالکی) نے زبردستی اس کی شادی سیدے کھیڑے سے کر دی۔

محبت کی نکامی سے رانجھے کا دل ٹوٹ گیا اور وہ دوبارہ آوارہ گردی کرنے لگا۔ ایک دن اس کی ملاقات بابا گورکھ ناتھ سے ہوئی جو جوگیوں کے ایک فرقے ،کن پھٹا کا بانی تھا۔ اس کے بعد رانجھا بھی جوگی بن گیا۔ اس نے اپنے کان چھدوائے اور دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔ وہ گاؤں گاؤں ،نگر نگر پھرتا آخر کار اس دیہہ میں پہنچ گیا جہاں ہیر بیاہی گئی تھی۔ اب رانجھا اور ہیر واپس اپنے گاؤں پہنچ گے۔ بحث مباحثے کے بعد آخر ہیر کے والدین دونوں کی شادی پر رضا مند ہو گئے مگر حاسد کیدو نے عین شادی کے دن زہریلے لڈو کھلا کر ہیر کا کام تمام کر دیا۔ جب رانجھے کو یہ بات معلوم ہوئی،تو وہ روتا پیٹتا اپنی محبوبہ کے پاس بھاگا آیا۔ جب ہیر کو مردہ دیکھا تو زہریلا لڈو کھا کر خودکشی کر لی۔

داستان اور حقیقت[ترمیم]

وادی چناب کے یہ دو نام عشقیہ کہانی کا حصہ اور پنجابی ادب عالیہ کا سرمایہ بن چکے ہیں۔ ہیر رانجھا کی مروجہ کہانی جسے وارث شاہ اور دیگر شعرا کرام نے بیان کیا، کے مطابق ہیر جھنگ کے نواب سیال خاندان کے ایک شخص چوچک کی لڑکی تھی جس کے حسن و جمال کا شہرہ چار وانگ عالم پھیل چکا تھا۔ قصبہ تخت ہزارہ ضلع سرگودھا کے ایک شخص رانجھا نامی جو مردانہ حسن کا نمونہ تھا۔ ہیر کے حسن کی غائبانہ شہرت سے متاثر ہوا اور ہیر کے خیال میں غلطاں رہنے لگا۔ رانجھا کی بھاوجہ نے ایک دن اسے طعنہ دیا کہ کمائ نہیں کرتا مگر روٹی کے وقت ہزار حجتیں بناتا ہے تم نوابی چھوڑ دو، ورنہ جھنگ کی ہیر سیال کے پاس چلا جا وہی اب تمہاری روٹی پکائے گی۔ گھی سے گوندھی ہوئی روٹیاں اسی کی کھانا۔ رانجھا اپنی چار بھاوجوں کا طعنہ سن کر جھنگ کی طرف چل دیا۔ جھنگ بیلے میں سفر کرتا ہوا جب جھنگ کے پاس چناب کے کنارے پہنچا تو ایک آراستہ کشتی دیکھی جس میں پھولوں کی چادریں بچھی ہوئی تھیں مگر اس میں کوئی آدمی موجود نہ تھا رانجھا تھکا ہوا تھا وہ کشتی میں داخل ہو کر گھنی چھاؤں کے شرمیلے نشے میں مست ہو گیا۔ پچھلے پہر ہیر اپنی سہیلیوں کے ہمراہ آئی اس نے کشتی میں اجنبی کو سویا ہوا دیکھا تو اس کی نوابی حس بھڑک اٹھی اس کی غیرت بیدار ہوئی، اس نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ کشتی میں داخل ہو کر رانجھا کو نیند سے جگا دیا اور اسے سخت سرزنش کی اس دوران میں رانجھا نے ہیر کی طرف دیکھا اور ہیر نے اس کی طرف دونوں کی نگاہیں ملیں اور پھر جھک گئیں، کہاں ہیر اس اجنبی پر سخت خفا تھی مگر نظریں ملنے کے بعد اس کا انداز انتہائی نرم ہو گیا۔ یہ پہلی ملاقات دونوں کے درمیان مستقل عشق کی بنیاد بن گئی۔ رفتہ رفتہ دونوں قریب ہو گئے۔

چوچک نے ہیر کی سفارش پر اسے بھینسیں چرانے کے لیے ملازم رکھ لیا۔ رانجھا ہیر کی بھینسیں لے کر جنگل بیلے جاتا اور ہیر گھی میں گوندھی ہوئی روتیاں لے کر اسے پہنچاتی۔ دونوں میں پیار اس قدر بڑھا کہ ایک دوسرے میں فنا ہو گئے۔ ہیر کا چچا کیدو لنگڑا دونوں کے پیار و محبت سے آگاہ ہو چکا تھا اس نے چوچک سے کہا۔ ہیر رانجھا کے ساتھ پھنس کر اپنی اور خاندان کی عزت خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے لہذا رانجھا کو یہاں سے نکال دو۔ چوچک نے پہلے کئی روز تک کیدو کی بات نہ مانی۔ پھر کیدو ایک دن چوچک کو لے گیا اور جھنگ بیلے میں دونوں کی ملاقاتوں کا مشاہدہ کرایا۔ چوچک نے گھر واپس آ کر رانجھا کو نوکری سے نکال دیا اور ہیر کا رشتہ سیدو قوم کھیڑا ساکن رنگ پور سے طے کر دیا۔ ادھر چوچک کی بھینسیں جو رانجھا کی ونجلی پر مست رہتی تھیں رانجھا کی جدائی میں اداس ہو گئیں اور کھانا پینا دودھ دینا بند کر دیا دوسری طرف رانجھا ہیر کے لیے بے قرار رہنے لگا ہیر اپنے محل میں مظطرب تھی۔ ہیر کا نکاح سیدو کھیڑے سے کر دیا گیا وہ ہیر کی ڈولی لے کر رنگ پور چلا گیا مگر وہ رانجھا کے لیے اداس و پریشان رہنے لگی۔ اس نے سیدو کھیڑے کو اپنا خاوند تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

ہیر کو یہاں ایک راز دار سہیلی سہتی جو اس کی نند بھی تھی، سے ملاقات کر کے بڑی تقویت ملی۔ سہتی بھی ایک شخص مراد سے محبت کرتی تھی مگر ان دونوں کے درمیان میں بھی دیوار حائل تھی۔ رانجھا ہیر سے ملاقات کے لیے بے قرار تھا اس نے ایک ہندو بال ناتھ کو اپنا مرشد بنایا اور اس کے مشورہ سے سادھو بن گیا۔ کان چھدوا لیے اور جوگی بن کر بھیس بدل کر رنگ پور پہنچا اور سیدو کھیڑے کے مکان پر صدا لگائی۔ کھیڑوں کی عورتیں جن میں ہیر اور سہتی بھی شامل تھیں۔ سادھو کو خیرات دینے باہر نکلیں۔ ہیر نے رانجھا کو پہچان لیا اور رانجھا نے اپنا مقصود دیکھ لیا۔ رانجھا نے رنگ پور میں ڈیرہ لگا لیا اور خیرات کے بہانے ہیر کا دیدار کرتا رہا۔ بالآخر ہیر نے سہتی کے ساتھ مل کر پروگرام بنایا جس کے مطابق ہیر کو سانپ نے ڈس لیا جب ہیر بے ہوش ہو گئی تو اس نے کہا کہ اس زہریلے سانپ کے ڈسے کا علاج اس سادھو کے پاس ہے جو کئی دنوں سے رنگ پور کے باہر ڈیرہ لگائے بیٹھا ہے اسے بلاؤ۔ سادھو بلایا گیا۔ ہیر اور رانجھا کو ایک کمرہ میں بند کر دیا گیا تا کہ سادھو منتروں کے ذریعے ہیر کو صحت یاب کرے چنانچہ سہتی نے کمرہ کی دیوار میں نقب لگائی۔ ہیر رانجھا دونوں بھاگ گئے۔ سہتی بھاگ کر مراد کے پاس پہنچ گئی۔ یہاں تک تمام داستان گو یا شاعر قریبا متفق ہیں۔ بعض جزویات میں اختلاف ہے مگر اس کے بعد کے واقعات میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ رانجھا کو کھیڑوں نے جنگل میں پکڑ کر مار دیا تھا۔ بعض کہتے ہیں دونوں کو قتل کر دیا تھا، کچھ نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ دونوں جب جھنگ کے قریب پہنچے تو سیالوں نے ان کو قتل کر دیا تھا، کچھ داستان نویسوں نے یوں لکھا کہ رانجھا کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ہیر اپنے محل میں چلی گئی جہاں سے اس کی لاش ملی۔ بہر حال ہیر اور رانجھا کی کہانی کے اختتام پر اختلاف موجود ہے لیکن کہانی کے ابتدائی حصے اکثر و بیشتر شعرا نے ایک جیسے بیان کیے ہیں۔ وارث شاہ اور دیگر شعرا کے بیان کردہ واقعات کا اختصار یہ ہے۔

شاعر جزبات کا نمائندہ ہوتا ہے مگر مورخ واقعات کی بنیادی کڑیاں تلاش کرنے کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچتا ہے شاعر اور مورخ کی سوچ کے دھارے قطعی مختلف ہوتے ہیں۔ ہیر لکھنے والے اکثر شعرا نے اپنے ہی عہد کے حالات ہیر کے عہد پر چسپا کر دیے ہیں حالانکہ حقیقیت اس کے قطعی مختلف ہے۔ مرزا صاحباں واقعتا عشقیہ کردار تھے مگر ہیر رانجھا کو محض عشقیہ کہانی میں گھسیٹ لیا گیا۔ مفروضوں پر عمارت کھڑی کر دی گئی اور اسے اس انداز سے پھیلایا گیا کہ آج وہ حقیقت نظر آتی ہے مگر جس طرح ہر چمکتی شے سونا نہیں ہو سکتی اس طرح ہر واقعہ خواہ وہ صدیوں سے کیسا ہی مشہور کیوں نہ ہو، اس کی عرفیت و معنویت کو جوں کا توں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے لیے ٹھوس دلائل اور تاریخی واقعات ہیں۔ دلائل سے بات کرنی چاہیے زبانی روائتوں کا سہارا نہ لیا جائے خواہ ان روائتوں میں کتنی ہی کشش کیوں نہ ہو۔ اس سلسلہ میں پہلی دلیل یہ ہے کہ ہیر نواب بہلول لودھی کے عہد میں ہوئی۔ ہیر کی ابتدائی بلکہ جوانی کی عمر تک سیال جھنگ کے نواب یا حکمران نہیں تھے بلکہ ہیر کی زندگی کے آخری چند سالوں میں اس کا چچا زاد بھائی مل خاں جو پہلے کچھی کا زمیندار تھا فاتحانہ طور پر جھنگ میں داخل ہوا اور اس نے نول قوم کے حکمران ولی داد کو شکست دے کر جھنگ پر قبضہ کیا اس زمانے میں نول حکمران کمالیہ کے کھرل نوابوں کے تابع تھے۔ سیالوں اور کھرلوں کے درمیان میں رنجش کا آغاز اسی واقع سے ہوا۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ شعرا نے ہیر اور رانجھا کی ملاقاتیں چناب کے مشرقی کنارے جھنگ کے قریب بیان کی ہیں حالانکہ ہیر کوٹلی باقر میں پیدا ہوئی وہیں پلی بڑھی، پروان چڑھی اور زندگی کے آخری دن تک اسی قصبہ میں رہی۔ کوٹلی باقر جہلم کے دوسرے کنارے پر واقع ہے اور جھنگ سے کم از کم چالیس کوس (یونٹ) دور ہے، درمیان میں چناب اور جہلم دو دریا پڑتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ ہیر رانجھا روزانہ دو دریا عبور کر کے ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے تھے گویا اسی کوس (یونٹ) کا فاصلہ روزانہ طے کرتے یہ بات واقعتا غلط اور نا قابل تسلیم ہے۔

تیسری دلیل یہ ہے کہ شعرا نے ہیر کے نوابانہ ٹھاٹھ باٹھ کا ذکر کیا ہے جو تاریخی اعتبار سے اس لیے غلط ہے کہ وہ معمولی زمیندار کی لڑکی تھی۔ چوچک کو نواب بہلول نے کچھ اراضی عطا کی تھی جو اس کی گزر بسر کے لیے تھی اس کا دستاویزی ثبوت اندیا آفس لائبریری لندن میں محفوظ مخطوطات سے لیا جا سکتا ہے۔

چوتھی دلیل یہ ہے کہ اگر ہیر اور رانجھا ّعشقیہ کردار ہوتے تو کم از کم حضرت شاہ حسین، بابا بلھے شاہ، حضرت سلطان باہو، خواجہ فرید، ایسے صوفی شعرا ان کا تزکرہ عارفوں اور ولیوں کی طرح نہ کرتے اور نہ ہی ہیر رانجھا کو شہرت ملتی۔ ان صوفی شعرا نے ہیر رانجھا کے عشقیہ کردار کو نہیں پیش کیا بلکہ مجاز کے لباس میں عشق حقیقی کی منازل سے آگاہ کیا ہے حتی کہ خود وارث شاہ صاحب اپنی ہیر کے آخر میں اعتراف کرتے ہیں کہ ہیر رانجھا کی داستان حقیقی نہیں بلکہ اس کے تمام کردار فرضی ہیں اور بطور استعارہ ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سید محمد وارث شاہ نے اپنی ہیر میں “شاعر دی نصیحت“ کا عنوان دے کر جو کچھ اس ایک صفحہ پر لکھا ہے اس سے تمام داستان از خود فرضی بن جاتی ہے۔

ان دلائل کے علاوہ جب تاریخی واقعات کا تجزیہ سامنے آتا ہے تو از خود قاری کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ شعرا نے کہاں کہاں ٹھوکر کھائی۔ شعرا نے یوسف زلیخا کو ایک عشقیہ داستان بنا دیا حالانکہ حضرت یوسف پیغمبر تھے اور عصمت انبیاء کا عقیدہ مسلمان کے لیے جزو ایمان ہے۔ مگر شعرا کرام نے نبی کی عصمت کا بھی خیال نہ کیا اور اپنی ترنگ میں "یوسف زلیخا" ایسے انداز میں لکھی کہ وہ سسی پنوں سوہنی ماہیوال، لیلی مجنوں، مرزا صاحباں قسم کی داستان بن کر رہ گئی ہے۔

اس سلسلہ میں تحقیق کے مطابق قرآن مجید نے تو صرف عزیز مصر کی بیوی کے عنوان سے حضرت یوسف کے بارے میں ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی کا نام شعرا کو کہاں سے ملا جبکہ تورات، انجیل اور قرآن مجید نے کسی جگہ لفظ زلیخا کی نشان دہی نہیں کی۔ مفسرین قدیم اور محدثین نے اس بارے میں کوئی رہنمائی نہیں کی مولانا جامی قسم کے ثقہ بزرگوں نے "زلیخا" نام کہاں سے تلاش کر لیا اور پنجابی شعرا کا ماخذ کیا ہے تو کسی جگہ سے اس کی سند نہیں ملتی البتہ جب عربی لغت میں لفظ "زلیخا" کا مصدر دیکھا گیا تو لفظ زلیخا کا مصدر ہے "زلخ" عربی میں زلخ کہتے ہیں ایسی چمکتی چیز کو جسے دیکھتے ہی آنکھیں چندھیا جائیں۔ چونکہ شعرا نے عزیز مصر کی بیوی کے حسن کو کلائمکس تک پہنچانا تھا لہذا انہوں نے "زلخ" سے لفظ زلیخا وضع کر لیا اور داستان مرتب کر ڈالی اور فرضی زلیخا حضرت یوسف کے ساتھ نتھی کر دی گئی۔ شعرا نے عصمت انبیا کی بھی اپنی لگن میں پروا نہ کی۔ ہیر اور رانجھا کا درجہ تو بہت بعد کا ہے۔ پھر شعرا کرام ہیر کی داستان میں نہ ہیر کے اصل نام سے آگاہ ہو سکے اور نہ رانجھا کے نام سے، جبکہ ان کے یہ حقیقی نام نہیں ہیں مگر شعرا نے عرفیت کا سہارا لیا۔ عزت بی بی ہیر بن گئی اور مراد بخش رانجھا مشہور ہو گیا۔ لفظ ہیر کے بارے کچھ عرض کیا جاتا ہے۔

ہیر کے تین معنی ہیں۔ اول عابدہ، زاہدہ۔ ّدوم عارفہ۔ سوم ہیرے کا گول ٹکڑا۔ مزید تفصیلات کے لیے فیروز الغات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ہیر کا اصل نام عزت بی بی تھا اور یہ نام حضرت مخدوم سید کبیر بخاری نے تجویز کیا تھا جو عارف باللہ تھے اور ہیر کے روحانی مقام سے واقف تھے۔ اس طرح رانجھا نام نہیں بلکہ رانجھا ایک گوت یا ذات ہے اس کا حقیقی نام مراد بخش تھا اور وہ اپنی ذات کی وجہ سے رانجھا مشہور ہوا۔ عزت بی بی اپنے عہد کی عارفہ تھی۔ نواب بہلول لودھی بھی سادات بخاری کی وجہ سے اس کا عقیدت مند تھا اور اسی عقیدت کی بنا پر نواب بہلول نے عزت بی بی کے والد چوچک کو کچھی میں جاگیر عطا کی تھی چونکہ چوچک اولاد نرینہ سے محروم تھا اس نے اپنی جاگیر کا وارث مل خاں کو بنا دیا جو اس کا حقیقی بھتیجا تھا۔ یہ شخص سیالوں میں پہلا حکمران بنا اور نواب بہلول نے اسے خانی کا خطاب عطا کیا ورنہ اس سے قبل یہ خاندان حکمران نہیں تھا۔ خدا جانے ہیر کے چار بھائی کہاں سے تلاش کیے اور چچا کیدو کہاں ان کو دستیاب ہوا۔ اس کا کوئی تاریخی ماخذ نہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہیر کی مروجہ داستان کو فروغ کیونکر ملا اور اس کے عوامل کیا تھے، اس بارے میں نواب بہلول کا وہ خط ایک تاریخی سچائی کی حثیت رکھتا ہے جو اس نے نول قوم کے وفد کی گفتگو سننے کے بعد مل خاں کو لکھا تھا۔ نول حکومت سے محروم ہو جانے کے بعد کھرلوں سے مل کر مل خاں کے خلاف سازشیں کرنے لگے تھے انہوں نے اپنے سرکردہ افراد پر مشتمل ایک وفد مرتب کیا جو نواب بہلول حاکم لاہور سے ملا اپنی صفائی اور بے گناہی پیش کرنے کے علاوہ مل خاں کی خاندانی شہرت و شرافت کو داغدار بنا کر یش کیا۔ پہلی بار چوچک کی لڑکی ہیر کے بارے میں یہ مفروضہ کہانی سنائی کہ وہ ولی اللہ نہیں بلکہ وہ اپنے ہی ملازم رانجھا سے بگڑی ہوئی ہے اور اس کا چال چلن ٹھیک نہیں حاکم لاہور نے حکومت کے اختیارات ایسے خاندان کے افراد کو دے دیے ہیں جن کی اخلاقی شہرت اچھی نہیں۔ نواب بہلول نے اپنے قاصد کے کے ذریعہ مل خاں کو وفد کی گفتگو سے آگاہ کیا جس میں نواب بہلول نے لکھا کہ نولوں کے وفد نے میرے پاس آ کر ہیر کے بارے میں غلط باتیں کی تھیں، میں نے ان کو دربار سے نکال دیا ہے انہوں نے ایک ولی اور عارفہ پر تہمت لگائی ہے جو میری نگاہ میں جرم ہے۔ میں جھنگ کی حکومت کے بارے میں نولوں کا نام بھی برداشت نیہں کرتا۔ مزید مل خاں کو لکھا کہ رعایا سے اچھا سلوک کرو تا کہ وہ تمہاری وفادار بن جائے۔ نولوں نے لاہور سے ناکام ہونے کے بعد اپنے پرانے درباری بھاٹوں اور ہجوگر مراثیوں کے ذریعہ مل خاں کو بدنام کرنے کے لیے ہیر رانجھا کی مفروضہ کہانی پھیلائی جو پھیلتے پھیلتے آج ایک مستقل داستان بن چکی ہے اور اس پر شعرا نے بلا تحقیق خیالات کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر کر لی ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بالفرض ہیر رانجھا کا واقعہ غلط ہے تو یہ رانجھا کون تھا؟ اس کی سیالوں کے ہاں کیا حیثیت تھی اور صرف اس کو نولوں نے ہیر سے کیوں منسوب کیا جبکہ ان کے ہاں اور بھی کوئی ملازم ہو گا۔ کسی دوسرے کا نام کیوں نہ لیا گیا۔

یہ سوال واقعی اہم ہے اس کا جواب بھی تاریخی حوالوں سے ملتا ہے۔

مخدوم سید کبیر جو سیالوں کے مرشد تھے 828ھ میں چوچک سیال کے ہاں پہنچے چوچک اولاد سے محروم تھا اس نے مرشد سے اولاد کے لیے دعا کرنے کی فرمائش کی۔ مخدوم سید کبیر نے دعا فرمائی اور کہا۔ اولاد نرینہ تیرے نصیب میں نہیں البتہ ایک لڑکی ایسی ہو گی جس کی نیکی کی وجہ سے تمہارے خاندان کو شہرت عطا ہو گی۔[1]

عزت بی بی نے پاکیزہ ماحول میں پرورش پائی۔ ایک بزرگ خواجہ محمد عبداللہ جو مخدوم سید کبیر کے خلیفہ تھے، سے کلام پاک حفظ کیا اور روحانی منزلیں طے کیں۔[2]

شاہ پور کی اقوام نون، ٹوانے، رانجھے وغیرہ مخدوم سید کبیر کے مرید تھے۔ مراد بخش نے مرشد سے دریافت کیا کہ مجھے کسی ایسے آدمی کا نام بتائیے جس کی خدمت میں رہ کر میں کچھ حاصل کر سکوں، مرشد نے ہدایت کی کہ جھنگ کی عزت بی بی کے پاس چلے جاؤ وہ عارفہ ہے۔[3]

واں میانہ کے بزرگ حضرت میاں محمد فرماتے ہیں کہ میں ہر جمعرات کو ہیر صاحبہ کے مزار پر فاتحہ پڑھنے جاتا تھا۔ معمول کے مطابق میں ایک جمعرات کو گیا راستہ میں موضع گھلا پور میں تھوڑی دیر آرام کیا اور بیدار ہونے کے بعد میں نے مریدوں کو حکم دیا کہ چلو واپس جائیں کیونکہ پہلے جب بھی فاتحہ کی غرض سے آتا تھا مائی صاحبہ میرا استقبال کرتی تھیں مگر اب کی دفعہ نہیں آئیں میرا گمان ہے کہ میرا وقت قریب آ گیا ہے چنانچہ میاں محمد مریدوں سمیت واپس آ گئے اور تیسرے روز وفات پائی۔[4]

حضرت شاہ جمال چنیوٹ کے ولی کامل گزرے ہیں ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جب ان کو معلوم ہوا کہ مراد بخش رانجھا اپنے مرشد کے حکم پر ہیر صاحبہ کی خدمت میں جانے کے لیے سفر پر روانہ ہوا تو انہوں نے رانجھا کا چناب کے کنارے استقبال کیا۔ مراد بخش کو اپنے ہاں ٹھہرایا، ان سے ونجھلی کی فرمائش کی، جب رانجھا نے ونجھلی کی تانیں اڑائیں حضرت شاہ جمال بے تاب ہو گئے اور فرمایا بس کر جٹا، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پہاڑیاں پگھل کر پانی میں بہہ رہی ہیں۔ مجھ میں ونجھلی سننے کی تاب نہیں رہی، جٹا بس کر میں ابھی اس منزل پر نہیں پہنچا، ونجھلی بند ہو گئی۔ مراد بخش کو دوسرے دن جھنگ کے لیے انہوں نے رخصت کیا۔[5]

حضرت مخدوم شاہ داؤد کرمانی کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے میاں رانجھا اور مائی ہیر کا تذکرہ کیا۔ حضرت نے اسے فرمایا تم نے نیک لوگوں کا تذکرہ کیا ہے خدا تمہاری پانچ پشتوں تک رحمت فرمائے گا۔[6]

یہاں اس بات کی بھی وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ حضرت مخدوم داؤد کرمانی اپنے عہد کے ولی کامل تھے اور یہ مغل بادشاہ ہمایوں کے دور میں دورا دل میں وفات پا گئے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہیر رانجھا کا تذکرہ ہمایوں کے عہد سے قبل عارفان باللہ کی مجلسوں میں ہوتا رہتا تھا لہذا پنجابی کے جن محققین نے یہ دعوی کیا ہے کہ ہیر اکبر کے زمانہ میں ہوئ اور ہندی شاعر دمودر نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور قصہ نظم کیا ہا جیسا کہ دمودر کی ہیر میں شاعر نے خود چشم دید گواہ ہونے کا دعویٰٰٰٰ کیا ہے وہ غلط ہے۔ ہیر دمودر کی زندگی سے ایک سو تیس(130) برس قبل اس جہان فانی سے رخصت ہو چکی تھی۔

مخدوم شاہ داؤد کے بعد حضرت شاہ حسین نے ہیر رانجھا کا اپنی کافیوں میں ذکر کیا ہے اس میں بھی ان دونوں کی روحانی عظمت کا اعتراف ہے۔ مثال کے طور پر شاہ حسین نے فرمایا ۔

                           ماہی ماہی کوکدی میں آپے رانجھن ہوئی
                       رانجھن رانجھن ہر کوئی آکھے ہیر نہ آکھے کوئی

اسی طرح حضرت سلطان باہو فرماتے ہیں۔

             بے ادباں نہ سارا ادب دی گئے او جہاں تھیں وانجھے ہو
             جیہڑی تھاں مٹی دے بھانڈے کدے نہ ہوندے کانجے ہو
             جو مڈھ قدیم دے کھٰیڑے آہے کدے نہ ہوندے رانجھے ہو
             جیں دل حضور نہ منکیا باہو دوہیں جہانے وانجھے ہو

حضرت بابا بلھے شاہ، حضرت سچل سرمست، حافظ برخوردار اور دیگر صوفی شعرا نے ہیر رانجھا کا جو تصور پیش کیا وہ بد کرداری کا تاثر نہیں دیتا بلکہ دونوں کے روحانی مرتبہ و مقام کی نشان دہی کرتا ہے۔

حضرت خواجہ غلام فرید چاچڑاں شریف کوٹ مٹھن اپنے عہد کے ولی اللہ تھے۔ ان کی کافیاں بہت مقبول ہیں انہوں نے ہیر رانجھا کا تذکرہ جن الفاظ میں کیا وہ بھی درج ذیل ہے۔

کافی نمبر ١٨ رانجھا میڈا میں رانجھن دی روز ازل دا کارہ

کافی نمبر ٤٤ کتھ رانجھن کتھ کھیڑے بھیڑے کتھ رہ گئے او یار

                     جھگڑے جٰھٰیڑے کتھ چوچک دی جائی او یار

اسی طرح خواجہ صاحب نے ہیر کا تذکرہ اپنی کافی نمبر ٩٠، ١٠٦، ١٢٢، ١٤٣، ١٥٠، ١٦٤، ١٦٥، ١٧٠، ١٧٧، ١٨٠، ١٨٥ اور ٢٠٨ میں کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہیر فاحشہ اور بدکردار تھی اور اس کا اپنے خاندانی ملازم رانجھا سے معاشقہ تھا تو ان دو بد کردار آدمیوں کا ذکر اولیاء اور صوفیا نے اپنے کلام اور اپنے ملفوظات میں نیک و برگزیدہ انسانوں کی طرح کیوں کیا۔؟ اور دیکھیے حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی جو سندھ کے صوفی شاعر ہیں، نے ہیر رانجھا کا ذکر کن الفاظ میں کیا ہے فرماتے ہیں۔

                 تن وی ٹکڑے من وی ٹکڑے، جوں درزی دیاں لیراں 
                 انہاں لیراں دی کل کفنی پا کے، رساں سنگ فقیراں 
                 تئیں جہا مینوں ہور نہ رانجھا، میں جہیاں لکھ ہیراں 
                 رخصت باجھو شاہ رانجھن دے، میں جنت مول نہ وڑساں

ہیر کے موضوع پر مولانا نور احمد فریدی ملتانی نے بھی تحقیق کی ہے۔ ان کی تحقیق کے نتائج بھی ان ہی تاثرات کی تائید کرتے ہیں۔ اسی طرح پروفیسر اختر علی ندوی صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی جنہوں نے ہیر کے موضوع پر پی ایچ ڈی کیا ہے۔ اپنے اس مقالہ میں نواب بہلول لودھی کے خطوط کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اس مقالہ کو کتابی صورت میں شائع کر دیا ہے۔ اس مقالہ کے مندرجات کی تردید کا حوصلہ ابھی تک کیسی کو نہیں ہوا، ہیر رانجھا کے بارے میں صدیوں سے جو تاثرات لوگوں کے دل و دماغ پر قائم ہیں ان کو دور کرنا سخت مشکل ہے لیکن یہ اہل تحقیق کی ذمہ داری نہیں کہ وہ لوگوں کے خیالات و تصورات کو بدلیں ان کا کام صرف تحقیق ہے ورنہ دنیا میں کون سا سلسلہ ایسا ہے جس پر آرا کا اختلاف نہیں ملتا۔

ہیر رانجھا کی مفروضہ کہانی کو علی وجہ البصیرت حقیقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ مشہور مقولہ ہے کہ اس قدر جھوٹ بولو کہ سچ نظر آئے ہیر کے بارے میں یار لوگوں نے یہی کچھ کیا۔ ہیر کے موضوع پر پنجابی، اردو، فارسی اور ہندی شعرا اور قصہ نویسوں نے کافی کچھ لکھا ہے مگر ہر قصہ نویس نے واقعات کو اپنے ڈھب پر مرتب کیا ہے ہر شاعر نے اپنے انداز میں واقعاتی کڑیاں ملائی ہیں ایک کے ساتھ دوسرے مصنف اور شاعر کا اتفاق نہیں یہاں تک کہ بیشتر شعرا وقائع نویسوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ ہیر رانجھا کو انہوں نے خود دیکھا اور واقعات ان کے سامنے ہوئے زمانوی اختلاف کے علاوہ ناموں اور علاقوں کا اختلاف بھی نمایاں ملتا ہے جیسا کہ ہندی شاعر دمودر کا دعوی ہے کہ ہیر مغل تاجدار اکبر کے عہد میں ہوئی اور اس کی آنکھوں کے سامنے واقعات ہوئے جبکہ تاریخی اعتبار سے یہ بات غلط ہے۔ دمودر کے اس دعوی کی تردید خود ہنجابی زبان کے مورخوں نے کر دی کہ دمودر ہیر کے عہد کا شاعر نہیں بلکہ اس نے یہ قصہ شاہ جہاں یا اورنگزیب کے عہد میں لکھا تھا۔[7]

اگر دمودر اکبر کے عہد کا بھی ہوتا تب بھی ہیر اور اس کے زمانے کا بڑا فاصلہ ہے۔ شاہ جہاں کے عہد میں ایک فارسی شاعر سعید سعیدی گزرا ہے اس کا کہنا ہے قصہ ہیر رانجھا سب سے پہلے اس نے نظم کیا مورخین کا بیان ہے کہ فارسی کا یہ قدیم نسخہ ہے۔[8] اب دمودر کا دعوی قطعی غلط ہو گیا۔ عہد شاہ جہاں کے وزیر اعظم اسلام خاں مشہدی جن کو ہٹا کر جھنگ کے نواب سعد اللہ خاں کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا کا ادبی نام ہمت خاں تھا اس نے ہیر کو پہلی بار ہندی میں نظم کیا اور پھر اس قصہ کو اپنے درباری شاعر محمد عاشق لائق کے حوالہ کیا جس نے اسے فارسی نظم میں ڈھالا۔ لائق کا بیان ہے اس سے قبل یہ واقعہ مشہور نہ تھا۔[9]

یہ حوالہ اور بھی دلچسپ ہے کہ حکیم علیم الدین انصاری موضع کلاس ضلع گوجرانوالہ کے مشہور طبیب تھے انہوں نے شاہ جہاں کی بیگم کا علاج کیا۔ صحت یابی کی خوشی میں ان کو نواب وزیر خاں کا خطاب دے کر حاکم لاہور مقرر کیا گیا ان کا ایک لڑکا میتا عرف چنابی تھا، سب سے اول ہیر کا قصہ اسی چنابی نے لکھا اور نظم بند کیا۔[10]

تاریخ کو کس طرح جھٹلایا گیا جبکہ حکیم علیم الدین انصاری چنیوٹ کے تھے ان کو جہانگیر کے عہد میں نواب وزیر خاں کا خطاب ملا تھا اور وہی حاکم لاہور مقرر ہوئے تھے ان کا کوئی بیٹا میتا یا چنابی نہیں تھا اگر چنابی نام کا بیٹا تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے ہیر کا جو واقعہ نظم کیا اس میں وہ "ہیر و ماہی" کا ذکر کرتا ہے۔ ہیر کے ساتھ رانجھا کا ذکر نہیں ملتا۔ عنوان ہی ہیر و ماہی رکھا یہ ماہی کون تھا؟ بات بالکل واضح ہے کہ نولوں اور کھرلوں کی سیالوں سے سیاسی عداوت نے اس قصہ کو پھیلایا اس کا تاریخی ثبوت اس حوالہ سے ملتا ہے۔ ہیر کا قصہ سب سے اول کوٹ کمالیہ کے رئیس محبت خاں کھرل نے جو دربار عالمگیر کا منشی بھی تھا کے ایما پر لکھا گیا کیونکہ جھنگ کے سیالوں اور کمالیہ کے کھرلوں کے درمیان ہمیشہ سے سیاسی عداوت اور دشمنی چلی آ رہی تھی اور سلاطین دہلی اکثر ان دونوں میں صلح صفائی کراتے رہتے تھے۔ سیالوں کی ہتک اور توہین کے لیے کھرلوں نے اس واقعہ کو پھہلایا۔[11]

اب بات مزید واضح ہو گئی کہ مفروضہ کہانی کن ذرائع سے فروغ پزیر ہوئی۔ ایک اور شاعر نواب احمد خاں یکتا جو خوشاب کے نوابوں میں سے تھے، نے ہیر کو نظم کیا ان کا کہنا ہے کہ رانجھا بھی قوم کا سیال تھا اور اس کا نام رانجھا تھا نواب یکتا نے ساری کہانی کا بیڑا غرق کر دیا مگر اس کے باوجود بھی ہیر کا قصہ لکھنے پر مجبور ہوئے۔ نواب یکتا کی وفات 1148ھ میں ہوئی جو قریب تر زمانہ تھا مگر اپنے سابقین سے بعض معمالات میں سبقت لے گئے ایک رو میں بہہ کر قصہ کو وہیں پہنچایا جہاں اس کو پہنچانا مقصود تھا۔ وارث شاہ صاحب تو محمد شاہ رنگیلا کے عہد میں ہوئے ان پر تو اس دور کے حالات کا اثر پڑنا ناگزیر تھا۔

جس زمانہ میں میر معین الدین والی پنجاب تھے ایک ہندو سندر داس آرام نام کا لاہور میں شاعر گزرا ہے اس نے فارسی میں ہیر رانجھا کا قصہ نظم بند کیا وہ لکھتا ہے کہ میں گورنر کے حکم پر جھنگ پہنچا۔ وہاں رات کو سویا ہوا تھا کہ خواب میں مجھے ہیر رانجھا ملے انہوں نے مجھے قصہ لکھنے کی فرمائش کی جس کی تعمیل میں طویل نظم لکھی گئی۔ شاعر نے اس نظم میں ہیر کے باپ کا نام مسلم لکھا ہے۔[12]

مشہہور کتاب "قبائل پنجاب" کے انگریز مئوقف نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کمالیہ کے کھرلوں اور جھنگ کے سیالوں کے درمیان مدت سے سیاسی دشمنی چلی آ رہی ہے۔ مغل بادشاہوں نے دونوں کے درمیان متعدد بار مصالحت کرانے کی کوششیں کیں مگر ان کو نا کامی ہوئی۔ کھرلوں نے سیالوں کی ہتک کرانے کے لیے ہیر کا قصہ مشہور کیا۔[13]

ثقافت[ترمیم]

ہیر رانجھا کی کہانی پر مبنی بھارت اور پاکستان میں متعدد بار “ہیر رانجھا“ نام کی ایک فلمیں بن چکی ہیں۔[14] پنجاب میں تین صدیوں تک اس کو شادی بیاہ، میلوں اور دیگر مواقع پر گایا اور سنا جاتا رہا ہے۔ اس کو پاک و ہند کے متعدد گلوکاروں نے گایا ہے۔ آج بھی پنجاب کے دیہاتوں میں بزرگ شخصیات اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ہیر رانجھا گانے والے گلوکار[ترمیم]

اس کو پاک و ہند کے متعدد گلوکاروں نے گایا ہے۔ جن میں سے چند اہم نام یہ ہیں۔

ہیر رانجھا پر بننے والی فلمیں[ترمیم]

فلم اور رلیز سال اداکار پروڈیوسر اور ڈائریکٹر فلمی گانے گیتکار اور موسیقار
ہیر رانجھا (1928ء) زبیدہ (اداکارہ) بطور ہیر فاطمہ بیگم
ہیر رانجھا (1932ء) رفیق غزنوی بطور رانجھا، انوری بائی بطور ہیر عبد الرشید کاردار رفیق غزنوی
ہیر رانجھا (1948ء) ممتاز شانتی بطور ہیر، غلام محمد بطور رانجھا ولی صاحب عزیز خان
ہیر (پاکستانی فلم) سورن لتا بطور ہیر، عنایت حسین بھٹی بطور رانجھا نذیر احمد خان صفدر حسین
ہیر (1956ء فلم) نوتن بہل سمرتھ بطور ہیر، پردیپ کمار بطور رانجھا حمید بٹ کیفی اعظمی
ہیر سیال (1962ء) بہار بیگم بطور ہیر، سدھیر (پاکستانی اداکار) بطور رانجھا
ہیر سیال (1965ء فلم) فردوس بطور ہیر، اکمل خان بطور رانجھا جعفر بخاری تنویر نقوی، بخشی وزیر
ہیر رانجھا (1970ء فلم) فردوس بطور ہیر، اعجاز درانی بطور رانجھا مسعود پرویز احمد راہی، خورشید انور
ہیر رانجھا (1970ء) پریا راجونش بطور ہیر، راج کمار بطور رانجھا چیتن آنند کیفی اعظمی، مدن موہن
ہیر رانجھا (1992ء فلم) سری دیوی بطور ہیر، انیل کپور بطور رانجھا ہرمیش ملہوترا آنند بخشی، لکشمی کانت پیارے لال
ہیر رانجھا (2009ء) نیرو باجوہ بطور ہیر، ہربھجن مان بطور رانجھا ہرجیت سنگھ بابو سنگھ مان، گرمیت سنگھ
ہیر رانجھا 2 (2017ء) نیرو باجوہ بطور ہیر، ہربھجن مان بطور رانجھا ہرجیت سنگھ بابو سنگھ مان، گرمیت سنگھ، لڈی گل اور روپن کاہلوں

نمونہ کلام[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ماخوذ رسالہ نظام المشائخ جولائی 1911ء صفحہ 9
  2. علما ہند کے روحانی کارنامے،تزکرہ خواجہ عبد العد صفحہ 211
  3. بحوالہ مضمون پروفیسر اختر علی ندوی، ماخوذ ماہنامہ آج کل دہلی جولائی ١٩٤٧
  4. کتاب ذکر العارفین صفحہ ٥٧
  5. بحوالہ مشائخ ہند، مطبوعہ مدراس اکیڈمی، تذکرہ شاہ جمال
  6. ماخوذ مقامات داؤدی۔ حصہ دوم صفحہ ٢١١
  7. پنجابی قصے فارسی زبان میں صفحہ 81، از ڈاکٹر محمد باقر
  8. پنجابی قصے فارسی زبان میں صفحہ 82
  9. اورینٹل کالج میگزین اگست 1927ء
  10. ماخوذ پنجابی قصے فارسی زبان میں از ڈاکٹر محمد باقر
  11. کتاب پنجابی قصے فارسی زبان میں، از ڈاکٹر محمد باقر صفحہ 119
  12. مثنوی گلشن آرام صفحہ 32
  13. ماخوذ کتاب "قبائل پنجاب" انگریزی ایڈیشن
  14. ہیر رانجھا پر فلمیں
  15. ہیر رانجھا گانے والے گلوکار

بیرونی روابط[ترمیم]