وارث شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Waris Shah (وارث شاہ)
Waris shah.jpg
وارث شاہ کی خیالی تصویر
پیدائش 1722ء
شیخوپورہ،پنجاب، پاکستان
وفات 1798ء
ملکہ ہانس،پاکپتن،پنجاب، پاکستان
پیشہ شاعر
صنف تصوفی شاعری
نمایاں کام ہیر رانجھا

وارث شاہ پنجابی کی ہیر وارث شاہ مشہور زمانہ تصنیف ”ہیر“ کے خالق اور پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر ہیں۔ وارث شاہ پنجاب کی دھرتی کے ایک تاریخی قصبہ جنڈیالہ شیر خان جوکہ شیخوپورہ سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے میں پیدا ہوئے۔ انکے سن پیدائش کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا بعض کتابوں میں آپکا سن پیدائش 1150ھ بتایا جاتا ہے۔ آپکے والد کا نام سید گل شیر شاہ تھا۔ ابھی کمسن ہی تھے کہ علم حاصل کرنے کی غرض سے قصور کی جانب روانہ ہوئے اور حضرت مولانا غلام مرتضٰی جوکہ اسوقت قصور میں ہی تشریف فرما تھے کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ نے بابا بُلھے شاہ کے ہمراہ اُن سے تعلیم حاصل کی۔ دنیاوی علم حاصل کر چکے تو مولوی صاحب نے اجازت دی کہ جاؤ اب باطنی علم حاصل کرو اور جہاں چاہو بیعت کرو۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بابا بلھے شاہ نے تو حضرت عنایت قادری کی بیعت کی جبکہ سید وارث شاہ نے حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکر کے خاندان میں بیعت کی جب ”ہیر رانجھا“ کے قصہ کے متعلق آپکے استاد محترم حضرت غلام مرتضٰی کو علم ہوا تو انہوں نے اس واقعہ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا وارث شاہ، بابا بلھے شاہ نے علم حاصل کرنے کے بعد سارنگی بجائی اور تم نے ہیر لکھ ڈالی۔ آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو مولانا نے اپنے مریدوں کو کہہ کر آپ کو ایک حجرے میں بند کروا دیا۔ دوسرے دن آپکو باہر نکلوایا اور کتاب پڑھنے کا حکم دیا جب آپ نے پڑھنا شروع کیا تو مولانا صاحب کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ سننے کے بعد فرمایا، وارثا! تم نے تو تمام جواہرات مونج کی رسی میں پرو دئیے ہیں۔ یہ پہلا فقرہ ہے جو اس کتاب کی قدر و منزلت کو ظاہر کرتا ہے۔ سید وارث شاہ درحقیقت ایک درویش صوفی شاعر ہیں۔وارث شاہ کا دور محمد شاہ رنگیلا سے لے کر احمد شاہ ابدالی تک کا دور ہے۔ وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شیکسپیئر بھی کہا جاتا ہے۔ پنجابی زبان کو آپ نے ہی عروج بخشا ہے۔ پنجابی کی تدوین و ترویج میں وارث شاہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آپکا کلام پاکستان اور ہندوستان بالخصوص سکھوں میں بہت مقبول ہے۔ ”ہیر“ میں بہت سی کہاوتوں کا بھی استعمال کیا گیا ہے جو لوگوں کیلئے ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہیں۔ وارث شاہ کی ”ہیر“کے علاوہ دوسری تصانیف میں معراج نامہ، نصیحت نامہ، چوہریڑی نامہ اور دوہڑے شامل ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وارث شاہ نے شادی کی تھی اور ان کی ایک بیٹی بھی تھی جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وارث شاہ نے شادی نہیں کی تھی۔ آپکے سن پیدائش کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی وفات کے متعلق۔ افضل حق نے اپنی کتاب معشوقہ پنجاب میں لکھا ہے کہ آپ نے 1233ھ میں وفات پائی۔ [1]

تین سبز میناروں والی یہ قدیم مسجد آج بھی اپنے حجرے کے ساتھ قائم ہے ۔’حجرہ وارث شاہ دا‘ ملکہ ہانس میں مشہور جگہ ہے جہاں 1767 عیسوی میں انہوں نے’ ہیر رانجھا ‘ مکمل کی .وارث شاہ کے حجرے والی مسجد کا انتظام اب ’ انجمن وارث شاہ‘ کے نام کی تنظیم چلاتی ہے۔

ملکہ ہانس میں حجرہ وارث شاہ میں ہر سال ’جشن وارث شاہ‘ کے نام سے ایک میلہ منعقد کیا جاتا ہے جس میں ہیر وارث شاہ پڑھنے کا مقابلہ ہوتا ہے۔


نمونہ کلام[ترمیم]

کھرل ہانس دا ملک مشہور ملکا
تتھے شعر کیتا یاراں واسطے میں
پرکھ شعر دی آپ کر لین شاعر
گھوڑا پھیریا وچ نخاس دے میں
پڑھن گھبرو دیس وچ خوشی ہو کے
پھل بیچیا واسطے باس دے میں
وارث شاہ نہ عمل دی راس میتھے
کراں مان نمانڑا کاستے میں
من بھاوندا کھاویے جگ آکھے گلاں جگ بھاوندیاں رسدیاں نے

وارث جنہاں نوں عادتاں بریاں نے سب خلقتاں انہاں بھجدیاں نے

  1. ^ http://www.nawaiwaqt.com.pk/%D8%A8%D9%82%DB%8C%DB%81-%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%B2/23-Sep-2013/243216