سوہنی ماہیوال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سوہنی گھڑے پر تیرتے ہوے دریا عبور کر رہی ہے

سوہنی ماہیوال (Sohni Mahiwal) (پنجابی: ਸੋਹਣੀ ਮਹੀਂਵਾਲ, سوہنی مہیوال) (سندھی: سهڻي ميهار) برصغیر کی چار مقبول عشقیہ لوک کہانیوں میں سے ایک ہے، جبکہ دیگر سسی پنوں، ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں ہیں۔ مہینوال کا اصل نام عزت بیگ تھا، اس کا تعلق بخارا سے بتایا گیا ہے۔حسن و جمال کی پیکر سوہنی ،گجرات کے ایک کمھار عبد اللہ کی بیٹی تھی جو مٹی کےدیدہ زیب برتن بناکر فروخت کرتی تھی، جس سے اس کے خاندان کی گزر بسر ہوتی تھی۔ سوہنی بھی ظروف سازی میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹایا کرتی تھی۔ سوہنی اس قدرحسین تھی کہ اُس کے حُسن کا شہرہ دور دراز کے علاقوں تک پھیلا ہواتھا۔ بخارا کے ایک مالدار ترین کاروباری شخصیت کا بیٹا ،عزت بیگ تجارت کی غرض سے گجرات آیا اور کاروبارکی غرض سے وہیں مقیم ہو گیا۔ ایک روز عزت بیگ برتن خریدنے کی غرض سے عبد اللہ کمہار کے گھر پہنچا تو اُس کی نظر وہاں موجود سوہنی اور سوہنی کی نظریں عزت بیگ پر پڑیں تو دونوں پر سکتہ طاری ہو گیا اور دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔اس کے بعد سے عزت بیگ ہر روز برتن خریدنے کے بہانے سوہنی کے گھر جاتا ہے اور نہ صرف ڈھیر سارے برتن وہاں سے خرید کرلے جاتا ہے بلکہ مزید برتنوں کا آرڈر بھی دے آتا۔رفتہ رفتہ عزت بیگ اپنے کاروبار سے لاتعلق ہوتا گیا اور اس کی دنیا صرف سوہنی کی محبت تک محدود ہو گئی۔ کاروبار تباہ ہونے کے بعد عزت بیگ بالکل قلاش ہو گیا، بخارا واپس جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ ایک روز وہ سوہنی کے باپ عبد اللہ کے پاس آیا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اُسے اپنے پاس ملازم رکھ لے۔عبد اللہ کمھار کو بھی دیگر کاموں کے لیے ایک مدد گار کی ضرورت تھی، اس نے اُسے اپنے پاس ملازم رکھ لیا ۔ عزت بیگ کو مویشی چرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ملازمت ملنے کے بعد، عزت بیگ سوہنی کے گھر کے قریب ہی رہائش اختیار کرلیتا ہے اور عبد اللہ کے مویشیوں کو چرانے کا کام شروع کردیتا ہے۔ کیوں کہ اس علاقے میں چرواہے کو ’’مہینوال ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا ، اس لیے عزت بیگ بھی مہنیوال کے نام سے مشہورہوگیا اور لوگ اس کا اصل نام بھولتے گئے۔عبد اللہ کمھار کی ملازمت ملنے کے بعداس کی سوہنی سے قربت بڑھتی گئی اور ایک وقت ایسا آیاکہ سوہنی اور مہنیوال کے عشق و محبت کی داستان نہ صرف سوہنی کے باپ بلکہ دور دراز کے علاقوںتک جا پہنچی۔ بد نامی کے خوف سے کمھار عبد اللہ نے فوری طور سے سوہنی کا رشتہ اپنے قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق اپنے ہی خاندان کے ایک نوجوان سے طے کر دیا اور تھوڑے ہی دنوں میں اس کی شادی کردی۔ سوہنی رخصت ہوکر اپنے شوہر کے ساتھ دریائے چناب کے دوسرے کنارے پر واقع اپنے شوہرکے گھر چلی گئی جب کہ مہینوال اسی کنارے پر رہ گیا۔ سوہنی نے اپنی محبت کی تسکین اور محبوب سے ملاقات کے لیے ایک منفرد طریقہ ایجادکیا۔ ان کے ملاپ کے راستے میں دریائے چناب کی سرکش موجیں حائل تھیں۔ کیوں کہ وہ کمہارکی بیٹی ہونے کے ناتے مٹی کے ظروف بنانے میں مہارت رکھتی تھی اس لیے اس نے دریا کے دوسرے کنارے تک پہنچنے کے لیے پکی مٹی سے ایک گھڑا تیار کیا۔ اس کے بعدوہ روزانہ رات کی تاریکی میں اپنے محبوب مہنیوال سے ملنے گھڑے کی مدد سے تیر کر دریاکے پار پہنچ جاتی اور وہ دونوں صبح کی سپیدی پھیلنے تک ایک دوسرے کی محبت میں کھوئے رہتے۔ اس طرح کافی عرصہ گزر گیا لیکن یہ بات چھپی نہ رہ سکی۔ ایک مرتبہ سوہنی کی نند کوپتہ چل گیا کہ سوہنی روزانہ رات کو اپنے محبوب سے ملنے دریا کے دوسرے کنارے پر جاتی ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ سوہنی جو خود تیرنا نہیں جانتی ، مٹی کے مضبوط گھڑے کی مدد سے دریا پار کرتی ہے۔ اس نے اپنی بھاوج کے خلاف ایک خوف ناک سازش کی۔ وہ خود بھی کمھار خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور مٹی کے برتن بنانے کے فن سے واقف تھی، اس لیے اس نے انتہائی مہارت کے ساتھ کچی مٹی کا گھڑا اس انداز میں بنایا جس میں سوہنی کے بنائے ہوئے گھڑے میں سرمو فرق نظر نہیں آتا تھا۔ ایک روز وہ سوہنی کے بنائے ہوئے پختہ گھڑے کی جگہ کچا گھڑا رکھ دیتی ہے۔ سوہنی جو اس بات سے بے خبر ہوتی ہے، اپنے محبوب کی محبت سے بے قرار ہوکروہی کچی مٹی کا گھڑا اٹھا کر اس کی مدد سے دریا میں اتر جاتی۔ وہ اس بات سے قطعی بے خبر ہوتی ہے کہ وہ اس گھڑے کی صورت میں اپنی موت کا سامان لے کر جارہی ہے۔ پانی میں اترنے کے بعد کچی مٹی سےبنے گھڑے کی مٹی گھلنے لگتی ہے اور دریا کے عین وسط میں پہنچ کرگھڑا بالکل پگھل جاتا ہے جس کے ساتھ ہی سوہنی بھی ڈوبنے لگتی ہے۔موت کے خوف سے سوہنی بے اختیار مہینوال کو پکارتی ہے۔ مہینوال جو دریا کے دوسرے کنارے پر سوہنی کے آنے کا انتظار کررہا ہوتا ہے، اس کی چیخیں سن کراسے بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اسے بھی تیرنا نہیں آتا تھا، اس لیے سوہنی کے ساتھ وہ بھی ڈوب جاتا ہے۔ محبت کرنے والا جوڑا دریا کی گہرائیوں میں ڈوب کر مر جاتا ہےدونوں سچے عاشقوں کی پاکیزہ محبت تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتی ہے۔ مشہور ہے کہ ان کے جسد خاکی دریا کے ساتھ بہتے ہوئے سندھ کے علاقہ شہداد پور سے برآمد ہوئے وہیں ان کا مزار ہے

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]