سوہنی ماہیوال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سوہنی گھڑے پر تیرتے ہوے دریا عبور کر رہی ہے

سوہنی ماہیوال (Sohni Mahiwal) (پنجابی: ਸੋਹਣੀ ਮਹੀਂਵਾਲ, سوہنی مہیوال) (سندھی: سهڻي ميهار) برصغیر کی چار مقبول عشقیہ لوک کہانیوں میں سے ایک ہے، جبکہ دیگر سسی پنوں، ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں ہیں۔ سوہنی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف ہو جاتی ہے مگر وہ اپنے محبوب سے ملنے کے لیے روز رات کو گھڑے پر دریا پار کرکے ملنے جاتی ہے۔ ایک رات اس کی نند اس کا پکا گھڑا کچے گھڑے سے بدل دیتی ہے اور وہ دریا میں ڈوب کر مر جاتی ہے۔ [1]

اس کہانی کو پہلے شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی کتاب شاہ جو رسالہ میں لکھا اور وہاں سے یہ مقبول ہوتے ہوتے پنجاب کی بھی لوک کہانی بن گئی۔ سوہنی کو سندھ اور پنجاب دونوں صوبوں میں پسندیدہ ترین لوک کردار مانا جاتا ہے۔ [2]

کہانی[ترمیم]

اٹھارویں صدی میں گجرات میں ایک کمھار کے گھر ایک بیٹی پیدا ہوتی ہے جس کا نام سوہنی رکھا جاتا ہے اور وہ عنوان شباب میں حسن و جمال کا پیکر بن جاتی ہے۔ سوہنی کا والد ظروف ساز تھا اور بیٹی اپنے باپ کا ہاتھ بٹایا کرتی تھی۔ سوہنی اپنے والد کی طرح مٹی کےدیدہ زیب برتن بناکر فروخت کرتی تھی، جس سے اس کے خاندان کی گذر بسر ہوتی تھی۔ سوہنی کے والد کی دکان رام پیاری محل کے قریب دریا کے کنارے پر واقع تھی۔ [3]

سوہنی اس قدرحسین تھی کہ اُس کے حُسن کا شہرہ دور دراز کے علاقوں تک پھیلا ہواتھا۔

بخارا کا عزت بیگ[ترمیم]

مہینوال کا اصل نام عزت بیگ تھا، اس کا تعلق بخارا سے بتایا گیا ہے۔ بخارا کے ایک مالدار ترین کاروباری شخصیت کا بیٹا ،عزت بیگ تجارت کی غرض سے گجرات آیا اور کاروبارکی غرض سے وہیں مقیم ہو گیا۔ ایک روز عزت بیگ برتن خریدنے کی غرض سے عبد اللہ کمہار کے گھر پہنچا تو اُس کی نظر وہاں موجود سوہنی اور سوہنی کی نظریں عزت بیگ پر پڑیں تو دونوں پر سکتہ طاری ہو گیا اور دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔اس کے بعد سے عزت بیگ ہر روز برتن خریدنے کے بہانے سوہنی کے گھر جاتا ہے اور نہ صرف ڈھیر سارے برتن وہاں سے خرید کرلے جاتا ہے بلکہ مزید برتنوں کا آرڈر بھی دے آتا۔رفتہ رفتہ عزت بیگ اپنے کاروبار سے لاتعلق ہوتا گیا اور اس کی دنیا صرف سوہنی کی محبت تک محدود ہو گئی۔ کاروبار تباہ ہونے کے بعد عزت بیگ بالکل قلاش ہو گیا، بخارا واپس جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ ایک روز وہ سوہنی کے باپ عبد اللہ کے پاس آیا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اُسے اپنے پاس ملازم رکھ لے۔عبد اللہ کمھار کو بھی دیگر کاموں کے لیے ایک مدد گار کی ضرورت تھی، اس نے اُسے اپنے پاس ملازم رکھ لیا ۔ عزت بیگ کو مویشی چرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ملازمت ملنے کے بعد، عزت بیگ سوہنی کے گھر کے قریب ہی رہائش اختیار کرلیتا ہے اور عبد اللہ کے مویشیوں کو چرانے کا کام شروع کردیتا ہے۔ کیوں کہ اس علاقے میں چرواہے کو ’’مہینوال ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا ، اس لیے عزت بیگ بھی مہنیوال کے نام سے مشہورہوگیا اور لوگ اس کا اصل نام بھولتے گئے۔

سوہنی کی شادی[ترمیم]

عبد اللہ کمھار کی ملازمت ملنے کے بعداس کی سوہنی سے قربت بڑھتی گئی اور ایک وقت ایسا آیاکہ سوہنی اور مہنیوال کے عشق و محبت کی داستان نہ صرف سوہنی کے باپ بلکہ دور دراز کے علاقوں تک جا پہنچی۔ بد نامی کے خوف سے کمھار عبد اللہ نے فوری طور سے سوہنی کا رشتہ اپنے قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق اپنے ہی خاندان کے ایک نوجوان سے طے کر دیا اور تھوڑے ہی دنوں میں اس کی شادی کردی۔ سوہنی رخصت ہوکر اپنے شوہر کے ساتھ دریائے چناب کے دوسرے کنارے پر واقع اپنے شوہرکے گھر چلی گئی جب کہ مہینوال اسی کنارے پر رہ گیا۔ سوہنی نے اپنی محبت کی تسکین اور محبوب سے ملاقات کے لیے ایک منفرد طریقہ ایجادکیا۔ ان کے ملاپ کے راستے میں دریائے چناب کی سرکش موجیں حائل تھیں۔ کیوں کہ وہ کمہارکی بیٹی ہونے کے ناتے مٹی کے ظروف بنانے میں مہارت رکھتی تھی اس لیے اس نے دریا کے دوسرے کنارے تک پہنچنے کے لیے پکی مٹی سے ایک گھڑا تیار کیا۔ اس کے بعدوہ روزانہ رات کی تاریکی میں اپنے محبوب مہنیوال سے ملنے گھڑے کی مدد سے تیر کر دریاکے پار پہنچ جاتی اور وہ دونوں صبح کی سپیدی پھیلنے تک ایک دوسرے کی محبت میں کھوئے رہتے۔

المناک انجام[ترمیم]

دونوں محبوب چھپ چھپ کر ملتے رہے اور کافی عرصہ گذر گیا لیکن یہ بات چھپی نہ رہ سکی۔ ایک مرتبہ سوہنی کی نند کوپتہ چل گیا کہ سوہنی روزانہ رات کو اپنے محبوب سے ملنے دریا کے دوسرے کنارے پر جاتی ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ سوہنی جو خود تیرنا نہیں جانتی ، مٹی کے مضبوط گھڑے کی مدد سے دریا پار کرتی ہے۔ اس نے اپنی بھاوج کے خلاف ایک خوف ناک سازش کی۔ وہ خود بھی کمھار خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور مٹی کے برتن بنانے کے فن سے واقف تھی، اس لیے اس نے انتہائی مہارت کے ساتھ کچی مٹی کا گھڑا اس انداز میں بنایا جس میں سوہنی کے بنائے ہوئے گھڑے میں سرمو فرق نظر نہیں آتا تھا۔ ایک روز وہ سوہنی کے بنائے ہوئے پختہ گھڑے کی جگہ کچا گھڑا رکھ دیتی ہے۔ سوہنی جو اس بات سے بے خبر ہوتی ہے، اپنے محبوب کی محبت سے بے قرار ہوکروہی کچی مٹی کا گھڑا اٹھا کر اس کی مدد سے دریا میں اتر جاتی۔ وہ اس بات سے قطعی بے خبر ہوتی ہے کہ وہ اس گھڑے کی صورت میں اپنی موت کا سامان لے کر جارہی ہے۔ پانی میں اترنے کے بعد کچی مٹی سےبنے گھڑے کی مٹی گھلنے لگتی ہے اور دریا کے عین وسط میں پہنچ کرگھڑا بالکل پگھل جاتا ہے جس کے ساتھ ہی سوہنی بھی ڈوبنے لگتی ہے۔موت کے خوف سے سوہنی بے اختیار مہینوال کو پکارتی ہے۔ مہینوال جو دریا کے دوسرے کنارے پر سوہنی کے آنے کا انتظار کررہا ہوتا ہے، اس کی چیخیں سن کراسے بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اسے بھی تیرنا نہیں آتا تھا، اس لیے سوہنی کے ساتھ وہ بھی ڈوب جاتا ہے۔ محبت کرنے والا جوڑا دریا کی گہرائیوں میں ڈوب کر مر جاتا ہےدونوں سچے عاشقوں کی پاکیزہ محبت تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتی ہے۔

سوہنی ماہیوال کا مزار[ترمیم]

مشہور ہے کہ سوہنی اور ماہیوال کے جسد خاکی دریا کے ساتھ بہتے ہوئے سندھ کے علاقہ شہداد پور سے برآمد ہوئے ۔ حیدرآباد شہر سے 75 کلومیٹر دور شہداد پور کی سڑک شاہ پور چکر روڈ کے قریب ان دونوں کا مزار ہے۔

لوک روایت کی مقبولیت[ترمیم]

فضل شاہ سید نے پنجاب میں اس قصے کو اپنی طویل نظم سوہنی ماہیوال لکھ کر کیا ، انھوں نے اس کے علاوہ ہیر رانجھا، لیلی مجنوں اور دیگر قصے بھی لکھے۔ [4]

سوہنی ماہیوال کی محبت کی کہانی نے جدید گانوں پر بھی اثر ڈالا، پٹھانے کا مشہور گانا سوہنی ماہیوال کی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے :

سوہنی گھڑے نوں آکھدی اج مینوں یار ملا گھڑیا


عالم لوہار نے بھی اس قصے کو گایا اور غالباََ گانے کی شکل میں پیش کرنے والے پہلے گلوکار تھے۔ کوک اسٹوڈیو میں نوری بینڈ کا گانا دوبارہ پھر سے اسی قصے سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔

سوبھا سنگھ نے سوہنی ماہیوال کو مصوری کی شکل میں صفحہ قرطاس پر اتارا ہے۔ [5]

کم سے کم چار ہندی فلمیں سوہنی ماہیوال کے نام سے بن چکی ہیں [6]۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Annemarie Schimmel (2003). Pain and Grace: a Study of Two Mystical Writers of Eighteenth-Century Muslim India. Sang-E-Meel Publications. 
  2. Annemarie schimmel (2003). Pain and grace:a study of two mystical writers of eighteenth-century Muslim India. Sang-E-Meel Publications. 
  3. Folk Tales of Pakistan: Sohni Mahiwal - Pakistaniat.com
  4. Amaresh Datta (2006). The Encyclopaedia Of Indian Literature. 2. ساہتیہ اکیڈمی. ISBN 81-260-1194-7. 
  5. Ashoka Jeratha. "The splendour of Himalayan art and culture". صفحہ 134. 
  6. Sohni Mahiwal (1984)