آدم خان درخانئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آدم خان اور درخانئی پشتو ادب کے دو رومانوی کردار ہیں جنہیں پشتو کا رومیو اور جولیٹ بھی کہا جاتا ہے۔[1]عرب کے لیلی مجنوں ، فارس کے شیریں فرہاد ، پنجاب کے ہیر رانجھا ، سندھ کے سسی پنوں کی طرح آدم خان درخانئی کی رومانوی داستان پشتو ادب کا کلاسیک شاہکار ہے۔

لوک رنگ[ترمیم]

"جو شخص آدم خان کے مزار کے درخت سے لکڑی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لے کر اسے مضراب کے طور پر استعمال کرے وہ فوراً رباب بجانا سیکھ لیتا ہے۔”یہ وہ الفاظ ہیں جن پرکئی لوگوں کا ایمان اور یقین ہے اور وہ واقعی ایسا کرتے ہیں۔ خدا جانے اس میں حقیقت کہاں تک ہے لیکن اس بات سے اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ آدم خان کا رباب سے واقعی کوئی والهانہ تعلق تھا۔پشتونوں کے رد مانوں میں آدم خان اوردرخانی کے قصے کو بلند ترین درجہ حاصل ہے۔ اس ردمان نے نرگس اور رومانوں کے دیس سوات میں جنم لیا۔[2]

ادبیات[ترمیم]

مشہورانگریزمحقق راورٹی اور ایک دوسرے مورخ الفنسٹن نے بھی اپنی کتاب میں اس ردمان کا ذکر کیا ہے۔ اس ردمان کو عبدالقادر خان خٹک (1062 ھ تا 1118 ھ) جوخوشحال خان کا بیٹا اور ایک بلند پایہ شاعر تھا ، برھان خان (1100 ھ تا 1174 ھ) ، ملانعمت الله نوشہروی ( 1856ء تا 1929ء) اور سید ابوعلی شاه نے پشتو میں نظم کیا۔ مسعود احمد خان اور شوکت اللہ خان اکبر نے اسے پشتو نثر میں لکھا، مسعود خان کا زمانہ 1000ھ کے بعد سے شروع ہوتا ہے ۔ آدم خان اور درخانئی کا رومان اس کی زندگی میں گزرا۔ چنانچہ مسعود خان نے آدم خان کی وفات پر یہ مرثیہ لکھا :

" صد افسوس آدم خان اس جہان سے چل دیا اس کے فراق میں ساری دنیا گریاں ہے۔ اس نے جل کر اپنے سر پر خاک ڈال دی ، یہ منحوس دھواں آسمان تک چلا گیا۔ ہوا اب تک ٹھنڈی آہیں بھرتی ہے۔ اور دنیا میں مضطرب اور سرگرداں پھر رہی ہے۔ “[3]

“ پختانہ شعرا “ میں آدم خان اور درخانی کو بطور شاعر پیش کیا گیا ہے غالبا اس ردمان کا تعل شہنشاہ اکبر کے زمانے سے ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. The Bazaar of the storytellers (1986) Wilma Louise Heston, Mumtāz Naṣīr Lok Virsa Pub. House, Original from the University of Michigan
  2. مقالہ از خاطر غزنوی
  3. دیوان مسعود
  4. آدم خان درخانئی مصنف سید ابوعلی شاہ