تخت ہزارہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تخت ہزارہ: یہ مشہور لوک داستان ہیر رانجھا کے رانجھا کے آبائی گاؤں کا نام ہے۔ یہ ضلع سرگودھا کا ایک گاؤں ہے جو کوٹ مومن کے قریب واقع ہے۔ تخت ہزارہ کا تذکرہ ابوالفضل نے اپنی کتاب آئین اکبری میں کیا ہے جو جلال الدین اکبر بادشاہ کا مشہور درباری تھا۔ اس کے علاوہ تخت ہزارہ کی وجہ شہرت مشہور پنجابی داستان ہیر رانجھا کا کردار ہے جسے تاریخ رانجھا کے نام سے یاد کرتی ہے۔[1]

رانجھا کا آبائی گاؤں[ترمیم]

تختِ ہزارہ سرگودھا کے مشرق میں دریائے چناب کے کنارے پر آباد ایک خوبصورت سرسبز اور خوشحال قصبہ ہے۔ یہاں کے اکثر باسی کاشتکاری سے وابستہ ہیں۔ یہاں کی زمین ریتلی نرم اور انتہائی ذرخیز ہے۔ آب و ہوا چاول،گندم، لیموں، مالٹا، آم، بانس اور سبزیوں کی کاشت کے لیے کافی موزوں ہے لیکن تختِ ہزارہ کی وجہ شہرت ہیر رانجھا کی وہ رومانی داستان ہے جس پر پاک و ہند میں بیسیوں فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں۔ اِس قصے کو نظم و نثر میں بھی کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔

مدثر ظفر مزید لکھتے ہیں اگر کوئی قاری یہ سوچ رہا ہے کہ میاں رانجھا کے آبائی گاؤں میں میاں رانجھا کی کوئی بڑی سی یادگار ہوگی تو وہ میری طرح مغالطے میں ہے۔ اِس خیال کے تحت یہاں آنے والوں کو صرف مایوسی ہوتی ہے۔ تختِ ہزارہ میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب بر لب سڑک ایک امام بارگاہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں میاں رانجھا کا گھر ہوا کرتا تھا لیکن شاید یہ ایک مفروضہ ہی ہے، کیونکہ اِس بات کی تصدیق یہاں کے مقامی لوگ بھی نہیں کرتے۔

بہرحال یہ ایک تاریخی گاؤں ہے جس کا پرانا نام کھجیاں والا تھا۔ کسی مغل شہنشاہ نے دورانِ سفر اِس جگہ پڑاؤ کیا اور بادشاہ کا تخت یہاں بچھایا گیا جس کی مناسبت سے اِس جگہ کا نام تختِ ہزارہ ہو گیا، جو اب تک تختِ ہزارہ کے نام سے موسوم چلا آتا ہے۔[2]

امام بارگاہ قصر علی اکبر۔ کہا جاتا ہے کہ رانجھا کا گھر یہاں ہوا کرتا تھا—تصویر مدثر ظفر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. All About Pakistan
  2. ڈان نیوز 26 نومبر 2017ء تحقیق مدثر ظفر