اٹک کی وجہ تسميہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اٹک کانام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر اکبری دور میں تعمیر کیے گئے قلعہ اٹک بنارس کی وجہ سے پڑا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ قلعہ’’اٹک بنارس‘‘ کی تعمیر سے پہلے اس علاقہ کو ’’اٹک‘‘ کے نام سے پکارے جانے کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔

قلعہ ’’اٹک بنارس‘‘ جی ٹی روڈ پر دریائے سندھ کے کنارے موجودہ اٹک خورد کے مقام پر واقع ہے۔ اس قلعے کو 1581ء میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے اپنے سوتیلے بھائی مرزا حکیم(گورنر کابل) کو شکست دینے کے بعدواپس ہندوستان آتے ہوئے بنوایا تھا۔

مختلف روایات[ترمیم]

’’اٹک‘‘ نام کے بارے میں بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں :

اٹک لفظ ’’خٹک‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے؟[ترمیم]

ایک روایت کے مطابق یہ نام لفظ ’’خٹک‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے، کیونکہ ان دنوں دریائے سندھ کے کنارے اس نام کا قبیلہ آباد تھا۔

یہ نام ’’ٹکا‘‘ نامی قبیلہ سے وابستہ ہے

جنرل کننگھم کے خیال میں یہ نام ’’ٹکا‘‘ نامی قبیلہ سے وابستہ ہے، جو زمانہ قدیم میں درہ مارگلہ اور دریائے سندھ کے درمیانی علاقوں میں آباد تھا۔

دریائے سندھ کا اس مقام پر رک رک کر چلنا[ترمیم]

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر دریائے سندھ (جسے لاطینی اور انگریزی میں انڈسINDUS) کہا جاتا ہے) رُک رُک کر چلتا ہے اس لیے اس کا نام ’’ اٹک ‘‘ پڑ گیا۔

محمد قاسم فرشتہ کا خیال[ترمیم]

محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ

’’اٹک کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق نیلاب (دریائے سندھ) کو پار کرنا منع ہے۔ لفظ ’’اٹک‘‘ کے یہی معنی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیلاب کے پار جانے پر اس لیے پابندی تھی کہ اٹک کے مغرب میں مسلمان آباد تھے، جن کو وہ ملیچھ(نجس) سمجھتے تھے، لیکن میرے خیال میں کٹڑ برہمن اس علاقہ کو زمانہ قدیم ہی سے ناپاک تصور کرتے تھے، کیونکہ یہ علاقہ 530ق م میں ایرانیوں کے زیر نگیں تھا۔ اس کے بعد سکندر اعظم اپنی یونانی فوج کے ساتھ اس خطہ پر حملہ آور ہوا۔ باختری یونانی بھی یہاں حکمران رہے۔ اس کے بعد ساکا قبائل حملہ آور ہوئے یہ لوگ ویدک آریاؤں کے برعکس لہسن اور پیاز استعمال کرتے تھے۔ بھیڑ، بکری،سور، گائے، اونٹ اور گدھے کا گوشت کھاتے تھے۔ برہمنوں کی قیادت زندگی کے کسی شعبہ میں تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ساکا عورتیں بیک وقت کئی کئی مردوں سے شادی کرتی تھیں۔ مرد اور عورت یکجا ناؤ نوش کی محفلوں میں شریک ہوتے اور جنسی صحبتوں سے لطف اندوز ہوتے۔ ان میں ذات پات کی بھی قید نہ تھی۔ غالباً انہی وجوہات کی بنا پر برہمنوں نے سندھ پار جانے پر پابندی لگا دی تھی، حالانکہ بعد میں ان میں سے بہت سی خرابیوں کو ہندوستان کے باسیوں نے اپنا لیا تھا، چنانچہ تنتارک مذہب کی بنیاد ہی گوشت خوری، شراب نوشی اور مخلوط جنسی محفلوں پر مبنی ہے۔ بہرحال ہندوؤں کی مذہبی کتب میں تحریر ہے کہ اگر کوئی شخص مجبوراً اٹک پار جائے تو واپسی پر اپنا زنّار(جینو) تبدیل کر لے اور وہ تمام عمل دہرائے جو ازسرنو ہندو مت میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ اس حکم یا عقیدے کی تصدیق انیسویں صدی کے دو یورپین سیاح ہیوگل(Hu gel) اور برنس(Burnes) بھی کرتے ہیں لیکن ان پابندیوں کے باوجودہندو کابل و سمرقند و بخارا میں موجود تھے۔ ‘‘

احمد غزالی کی روایت[ترمیم]

احمد غزالی نے وجہ تسمیہ کی کہانی بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ

عہد شیر شاہ سوری میں کلکتہ سے پشاور تک طویل شاہراہ تعمیرہو رہی تھی اور اٹک کے مقام پر پل کی تعمیر زیرغور تھی۔ دریائے سندھ کی طوفانی موجیں ہر انسانی کوشش کو ناکام بنا رہی تھیں۔ کسی مجذوب نے شیرشاہ سوری کو خبر دی کہ ایک ولی کامل (درجہ جس کا سلطانی ہے) خدا کے فضل و کرم سے تمہاری مشکل حل کر سکتا ہے۔ اس کی پہچان کے متعلق چند نشانیاں بتائیں۔ مجذوب کا اشارہ حضرت سلطان مہدیؒ کی طرف تھا۔ جب شیرشاہ کے کارندے مجذوب کے بتائے ہوئے پتہ پر’’جھونگہ سلوئی‘‘ پہنچے تو حضرت سلطان مہدی اور ان کے آس پاس وہ تمام نشانیاں موجود پائیں جن کے متعلق انہیں بتایا گیا تھا۔ حضرت سلطان مہدی تشریف لے گئے اور جہاں پل بنانا مقصود تھا اس جگہ کھڑے ہوکر دریائے سندھ کی سرعت سے بہتی ہوئی موجوں کو بفضل تعالیٰ حکماً کہا ’’اٹک‘‘ یعنی رک جاؤ اور وہ رک گئیں۔ شیرشاہ سوری نے پل تعمیر کر لیا، مگر حضرت سلطان مہدیؒ کی اس کرامت کی یاد میں اس جگہ کا مستقل نام ’’اٹک‘‘ پڑ گیا۔ ‘‘

شاہراہ سوری کے متعلق غلط فہمی[ترمیم]

’’شاہراہ سوری کے متعلق عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ کابل سے کلکتہ تک تعمیر کی گئی تھی، حالانکہ شیرشاہ سوری کی مملکت کی حد دریائے سندھ کے پار نہ تھی۔ شیر شاہ سوری کی شاہراہ کا آغاز ’’نیلاب‘‘ سے ہوتا تھا۔ اس زمانہ میں اٹک کا گھاٹ ابھی تعمیر ہی نہیں ہوا تھا۔ اس لیے یہاں پر پل کی تعمیر کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیے ’’اٹک‘‘ کی وجہ تسمیہ کے سلسلہ میں بیان کردہ اس واقعہ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں یہ محض ایک افسانہ ہے۔ ‘‘[1]

مہلب بن صفرہ العتکی کے قلعہ العتک کی روایت[ترمیم]

اس سلسلہ میں ایک اور روایت بھی بڑے شدومد کے ساتھ بیان کی جاتی ہے کہ مشہور صحابی حضرت مہلب بن ابی صفرہ العتکی الازدیؓ نے 50 ہجری نے وادی چھچھ کو فتح کرنے کے بعد اپنے نام سے ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا، جو مرورزمانہ سے بدلتے بدلتے پہلے ’’اتک‘‘ اور بعد میں ’’ اٹک بن گیا۔[2]

’’معاویہ ابن ابوسفیان کے دور (44ہجری،666 عیسوی) میں زیاد ابن ابیہ کو بصرہ سیستان اور خراسان کا والی مقرر کیا گیا۔ اسی سال عبد الرحمن ابن شمر نے ابن زیاد کے حکم سے کابل کو فتح کر کے وہاں کے لوگوں کو مطیع کیا۔ فتح کابل سے کچھ عرصہ بعد مہلّب ابن صفرہ جو عرب کے امرائے کبار میں سے تھا ’’مرو‘‘ کے راستے سے کابل آیا اور ہندوستان میں داخل ہو کرکفار سے جہاد کیا۔ ایلیٹ اور ڈاؤسن نے اس واقعہ کو پوری تفصیل سے بیان کیا ہے کہ 44ھجری میں مہلب بن صفرہ جس کی فوج میں ازد قبیلے کے افراد زیادہ تھے، ہندوستان کی سرحد پر بناہ اور الاہواز تک پیش قدمی کی۔ ازد قبائل خراسان میں بہت طاقتور تھے، چنانچہ بعد میں یہی بنو امیہ کے زوال کا سبب بنے ‘‘[3]

فرشتہ مہلب بن صفرہ کی ملتان تک پیش قدمی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

وہ پہلا مسلمان سردار ہے جس نے اسلام کا پرچم ہندوستان کے میدانوں میں لہرایا، ملک کو پامال کیا اور بہت سے قیدیوں کو مسلمان کر کے افواج کے صدر مقام خراسان تک لے آیا۔[4]

مہلب بن صفرہ عبد الرحمن بن شمر کی اس فوج سے جدا ہو گیا، جس نے کابل اور مرو کو فتح کیا تھا اور بارہ ہزار افراد کو مشرف بہ اسلام کیا تھا، بعد میں مہلب الاہواز کے گورنر کی حیثیت سے نمایا ں ہوا۔[5]

’’مہلب بن ابی صفرہ نے معاویہ کے دور یعنی 44 ہجری میں ہندوستان کی سرحد پر جنگ کی اور بنا اور الاہواز تک پہنچ گیا۔ یہ دونوں مقامات ملتان اور کابل کے درمیان واقع ہیں۔ یہاں اس کا آمنا سامنا دشمن کی فوجوں سے ہوا، یہ وہی بنا ہے جس کے متعلق ازدی کہتا ہے کہ تم نے دیکھا نہیں کہ الازد کے قبیلہ نے اپنے آپ کو المہلب کی بہترین فوجیں ثابت کیا، اس رات جبکہ بنا میں ان پر شدید حملہ ہوا۔ ‘‘[6]

کرنل عبد الرشید کے بیان کے مطابق ’’بنا‘‘ سے بنوں اور ’’الاہواز‘‘ سے لاہور خودر ضلع صوابی مراد ہے، اگر اس بیان کو درست مان لیا جائے تو چونکہ مہلب بن ابی صفرہ الاہواز (موجودہ لاہور خورد ضلع صوابی) کا گورنر رہا ہے اس لیے یہ بات بعید از قیاس بھی نہیں کہ یہاں مہلب بن ابی صفرہ نے ’’العتک‘‘ نامی کوئی قلعہ تعمیر کیا ہو۔

میر سید بخاری اپنی کتاب’’ لاہور تاریخ کے آئینے میں ‘‘ تحریر کرتے ہیں :

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پیشتر کہ اکبر نے اٹک کے مقام پر اپنا موجودہ قلعہ تعمیر کیا ہو یہاں پہلے ہی ایک قلعہ موجود تھا۔ یہ قلعہ مہلب بن ابی صفرہ بن العتکی نے سندھ جاتے ہوئے بنوایاتھا۔ ،،[7]

حقیقت حال[ترمیم]

یہ تو تھیں وہ تمام روایات جو’’اٹک‘‘ نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’ اٹک‘‘ کا نام کتب تاریخ میں اس قلعے کی تعمیر کے بعد ہی معروف ہوا، جسے 1581ء میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے اپنے سوتیلے بھائی مرزا حکیم (گورنر کابل) کو شکست دینے کے بعد واپس ہندوستان آتے ہوئے بنوایا تھا۔ اس سے پہلے اس علاقہ کو اٹک کے نام سے پکارے جانے کی کوئی واضح شہادت تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتی۔

’’کابل سے واپس ہوتے وقت جب دریائے نیلاب پر لشکر پہنچا تو اکبر نے وہاں ایک قلعہ کی بنیاد رکھی اور اس کا نام ’’اٹک‘‘ رکھا۔ یہ قلعہ991ھ میں بن کر تیار ہوا۔ اس وقت اکبر بادشاہ کا قیام لاہور میں تھا۔ وہیں سے بادشاہ نے اٹک کا قلعدار راجہ بھگوان داس کو بنا کر بھیجا۔ ‘‘[8]

’’چونکہ یہ قلعہ مغربی حملوں کے واسطے ایک اٹکاؤ بنایا گیا تھا اس واسطے اس کا نام اٹک رکھا گیا۔ ‘‘[9]

مغل بادشاہ اکبر اعظم کے سوتیلے بھائی مرزا حکیم (جو کابل کا گورنر تھا) نے جب علم بغاوت بلند کیا تو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے خود اکبر اعظم کو کابل جانا پڑا۔ لاہور سے کابل جاتے ہوئے جب اکبر اعظم اٹک پہنچا تو دریا میں شدید طغیانی کے باعث یہاں کشتیوں کا پل تعمیر کرنا ناممکن تھا۔ موسم بھی انتہائی گرم تھا اور جون جولائی کے مہینے میں پوری گھاٹی بھٹی کی طرح تپ رہی تھی۔ مجبوراً اکبر اعظم کو شدید گرمی کے اس موسم میں یہاں پچاس دن قیام کرنا پڑا۔ یہاں اکبر اعظم کو احساس ہوا کہ لاہور و کابل کے در میان یہ دامن کوہ کس قدر اہمیت کا حامل مقام ہے اور اگر کسی وجہ سے بادشاہ کو اس مقام پر رکنا پڑے تو یہاں قیام و طعام کا خاطر خواہ بندوبست موجود ہو۔ نیز چہار اطراف میں دشمن قبائل کی سکونت کی وجہ سے دفاعی اعتبار سے بھی اس مقام کی ایک خاص اہمیت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب اکبر اعظم اپنے سوتیلے بھائی حکیم مرزا کو شکست دینے کے بعد کابل سے واپس آ رہا تھا تو اس نے یہاں قلعہ بنانے کا حکم دیا جوخواجہ شمس الدین خوافی کی نگرانی میں دوسال (1581ء-1583ء) کے عرصہ میں تعمیر ہوا۔ اکبر اعظم نے اس قلعہ کا سنگ بنیاد خود اپنے ہاتھوں سے رکھا اور اس کا نام اپنی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’کٹک بنارس‘‘ کے نام پر رکھا۔ ’’کٹک بنارس‘‘ بھارتی صوبہ اڑیسہ کا دار الحکومت ہے۔ اکبر نامہ میں اس بات کا ذکر کچھ یوں ہے :

’’مکنون ضمیر جہان آراء آن بود کہ چوں مرکب ہمایوں بہ آن حدود رسد حصاری عالی عمارت یابد و دریں ولا آن جائیکہ دور بنیان گزیدہ بودند بچشم حقیقت پژدہ پسندیدہ آمد۔ پانزدہم خوردار بود از گشتن دوپہر و دوگھڑی بدست مقدس بنیاد نہادہ۔ بدان نام اختصاص دادند چنانچہ در اقصائی مشرقی ممالک قلعہ ایست کہ نام آن ’’کٹک بنارس‘‘۔[10]

اکبر نامے کے اس بیان کے بعد ثابت ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالا بیان شدہ روایات محض مختلف لوگوں کے تراشے ہوئے افسانے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ اکبر نامہ دور اکبری کے بارے میں ایک مستند دستاویز کا درجہ رکھتا ہے اور اس کا مصنف علامہ ابوالفضل، اکبر اعظم کے نورتنوں میں شامل ہے۔

بعض محققین کے نزدیک ’’اٹک‘‘ دراوڑی زبان کا لفظ ہے اور انگریزی، اردو اور کئی دیگر زبانوں میں اسی طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ یوں تو اس نام کی کئی اور توجیہات بھی پیش کی جا سکتی ہیں، تاریخی قدامت کے اعتبار سے اسے عربی کے لفظ ’’عتیق‘‘ یعنی قدیم سے ماخوذ بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور اس علاقے کا ہر دور میں بیرونی حملہ آوروں کی گزرگاہ اور زد میں ہونے کی بنا پر اسے انگریزی زبان کے لفظ ’’اٹیک‘‘(Attack) یعنی حملہ کی تبدیل شدہ صورت بھی کہا جا سکتا ہے۔

اٹک ترکی زبان کا لفظ ہے[ترمیم]

’’اٹک‘‘ ترکی زبان کے لفظ ’’اتک‘‘ (ETEK) کی صورت مبدل ہے۔ ترکی زبان میں اس لفظ ’’اتک‘‘ کے معنی ’’دامن کوہ‘‘ کے ہیں۔ اتک روسی ترکمانستان کے ایک ضلع کا نام بھی ہے، جو خراسان کے سرحدی کوہستان(کوپت داغ) کی شمالی اترائی پرجورز(GAURS) اور دشک(DUSHAK) کے درمیان آباد ہے۔ ایرانی اس کو الف مفتوحہ کے ساتھ ’’اَتک‘‘ پڑھتے ہیں۔[11]

اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ مغلوں کی اصل زبان ترکی تھی اور جس مقام پر قلعہ تعمیر کرایا گیا وہ بھی دامن کوہ ہے۔ اسی لیے اکبر اعظم نے اسے ’’ اٹک بنارس‘‘ کا نام دیا۔ ترکی زبان کے اس لفظ ’’اتک‘‘ مقامی قوم’’ خٹک‘‘ اور اکبر کی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’ کٹک‘‘ تینوں کا ہم وزن و ہم قافیہ ہونا اکبر کی مزید پسندیدگی کا باعث بنا ہوگا اور اس کے ساتھ بنارس کا لاحقہ لگا کر ’’اتک بنارس‘‘ نام رکھ دیا گیا ہوگا۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اکبر نے یہ نام صرف ’’ کٹک بنارس ‘‘ کا ہم وزن ہونے کی وجہ سے نہیں رکھا بلکہ اس لفظ کے معنی بھی اس کے پیش نظر تھے۔

حواشی و توضیحات[ترمیم]

  1. [اقتباسات از( اٹک خورد اورقلعہ اٹک سیاحوں کی نظر میں)آغا عبد الغفور، ماہنامہ اٹک نامہ اٹک، جلد3[L: 58]شمارہ10[L: 58])]
  2. [دامن اباسین، مولفہ سکندر خان،1993ء صفحہ:134]
  3. ٹیکسلا کا تہذیبی سفر نامہ مولفہ : آغا عبد الغفور، صفحہ: 110
  4. محمد قاسم فرشتہ: تاریخ فرشتہ جلد اول ( ترجمہ: عبد الحئی خواجہ )
  5. LT. COL. ABDUL RASHID, HISTORICAL DISSERTATIONS Page-43 [L: 38]46
  6. بلاذری :فتوح البلدان باب فتوح السندھ
  7. میر سید بخاری، لاہور تاریخ کے آئینے میں، صفحہ: 47
  8. (منتخب اللباب از نظام الملک خافی خان، مترجم: محمود احمد فاروقی، نفیس اکیڈیمی کراچی، جلد اول صفحہ210)
  9. (تاریخ مخزن پنجاب از مفتی غلام سرور قریشی لاہوری مترجمہ ڈاکٹرعبدالرحمن، 1996ء، دوست ایسوسی ایٹس، لاہور، صفحہ322)
  10. (اکبر نامہ جلد :3 صفحہ:355)
  11. دائرہ معارف اسلامیہ