فواد سزگین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فواد سزگین
(ترکی میں: Fuat Sezgin خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 24 اکتوبر 1924  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بتلیس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 جون 2018 (94 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Turkey.svg ترکی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی استنبول یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ڈاکٹریٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ریاضی دان،مؤرخ،مصنف،استاد جامعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان ترک زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[1]،جرمن[1]،ترک زبان،عربی،سریانی زبان،عبرانی،لاطینی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت گوئٹے یونیورسٹی فرینکفرٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
عالمی شاہ فیصل اعزاز برائے مطالعہ اسلامیات (1979)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

فواد سزگین (پیدائش 24 اکتوبر 1924ء - 30 جون 2018ء) ایک ترک/جرمن محقق تھے جن کا خصوصی موضوع عہد وسطی میں علوم اسلامی رہا۔ وہ فرینکفرٹ، جرمنی کی گوئٹھا یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ قدرتی سائنس کے پروفیسر ایمیریطس اور وہاں ادارہ برائے تاریخ علوم عرب اسلامی کے بانی تھے۔[2] نیز انہوں نے عرب اسلامی ادوار کے سائنسی آلات، اوزار اور نقشوں کی نقلیں بھی تیار کیں جو فرینکفرٹ اور استنبول کے عجائب گھر میں موجود ہیں۔[3] فواد سزگین نے احادیث پر غیر معمولی تحقیقی کام کیا، جس میں ان کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ انہوں نے صحیح بخاری کے تحریری مآخذ کی نشان دہی کی ہے کہ صحیح بخاری کی تدوین کے وقت امام بخاری کے سامنے کون کون سے مجموعے تحریری شکل میں موجود تھے۔ ان کی سب سے مشہور اور اپنے موضوع پر شاہکار تصنیف جرمن زبان میں تحریر کردہ گشیخت دس اہابیشن شرفٹومس (Geschichte des Arabischen Schrifttums) یعنی تاریخ علوم عرب ہے جو تیرہ جلدوں پر مشتمل اور متعلقہ موضوع پر مرجع سمجھی جاتی ہے۔ اس کا ترکی زبان میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔[4]

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

فواد سزگین نے سنہ 1950ء ميں ایک جرمن مستشرق ہلموت ریتر کی ماتحتی میں استنبول یونیورسٹی سے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کے مقالے کا عنوان "بحاری نین کائناکلری"[5] (Buhari’nin Kaynakları یعنی صحیح بخاری کے مصادر) تھا جس میں انہوں نے صحیح بخاری کے مآخذ کی نشان دہی کی تھی اور اس وقت کے یورپی مستشرقین کے عام رجحان کے خلاف یہ ثابت کیا کہ امام بخاری کے سامنے اپنی صحیح کی تدوین کے وقت ساتویں صدی عیسوی یعنی تاریخ اسلام کی اولین صدی کے تحریر شدہ مجموعہ احادیث پیش نظر تھے۔ بعد ازاں وہ استنبول یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے لیکن سنہ 1960ء کی فوجی بغاوت میں انہیں برخاست کر دیا گیا۔ سنہ 1961ء میں وہ جرمنی منتقل ہوئے اور فرینکفرٹ یونیورسٹی میں استاد زائر کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔[6] کچھ برس بعد 1965ء میں وہ باقاعدہ پروفیسر ہوئے۔ فرینکفرٹ میں ان کی تحقیق کا مرکز اسلامی عہد زریں کے علوم تھے۔ 1982ء میں فواد نے ادارہ برائے تاریخ عرب اسلامی علوم قائم کیا جو اس وقت دنیا میں عرب اسلامی علوم کی تاریخ کے موضوع پر کتابوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ 1983ء میں انہوں نے اسی ادارے میں ایک منفرد عجائب گھر بنایا جس میں اسلامی عہد زریں کے آلات، اوزار اور نقشوں کی 800 سے زائد نقلیں تیار کرکے رکھیں۔ بعد ازاں 2008ء میں بھی اسی طرح کا ایک عجائب گھر استنبول میں بھی قائم ہوا۔[3]

سنہ 1968ء میں فواد سزگین کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع مزار امام رضا میں دیوفانٹ کی ارتھمیٹکا کے چار نایاب نسخے ملے۔

تصنیفات[ترمیم]

فواد سزگین نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں تیرہ جلدوں پر مشتمل "غشیخت دس اہابیشن اشکرفٹومس" یعنی تاریخ علوم عرب (1967ء–2000ء) سب سے مشہور ہوئی۔ ان کی یہ کتاب علوم اسلامی کی تاریخ کا سب سے اہم مرجع ہے۔ نیز انہوں نے پانچ جلدوں پر مشتمل اپنی دوسری کتاب اسلام کے قدرتی علوم میں فرینکفرٹ کے عجائب گھر کی اشیا کی تفصیلات درج کی ہیں۔ سنہ 1984ء سے فواد سزگین تاریخ علوم عرب و اسلامی کے موضوع پر ایک مجلہ کے مدیر بھی تھے۔

فواد سزگین نے ثابت کیا کہ سنہ 1420ء تک مسلمان جہازران امریکا کو دریافت کر چکے تھے۔[7]

اعزازات[ترمیم]

فواد سزگین کو ان کی علمی و تحقیقی کاوشوں پر متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں سنہ 1978ء کا عالمی شاہ فیصل اعزاز اور آرڈر آف میرٹ آف فیڈرل ریپبلک آف جرمنی ممتاز ہیں۔[6] وہ ٹرکش اکیڈیمی آف سائنسز، اکیڈیمی آف دی کنگڈم آف مراکو اور قاہرہ، دمشق اور بغداد کے متعدد علمی و تحقیقی اداروں کے رکن تھے۔

اعتراف خدمات[ترمیم]

24 ستمبر 2012ء کو انقرہ بلدیہ کے میئر ابراہیم ملیح گوکچک نے اعلان کیا کہ انقرہ کا ایک چوک فواد سزگین کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ نیز اسی دن اسی چوک پر ان کے مجسمے کی نقاب کشائی بھی کی گئی، اس وقت فواد سزگین اور ان کی شریک حیات ارسلا بھی موجود تھے۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb120278958 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. "UKM to confer honorary doctorate on Prof Fuat Sezgin"۔ New Straits Times۔ 8 January 2007۔ 
  3. ^ 3.0 3.1 "Islam History of Science and Technology Needs to Speak"۔ Turkish Daily News۔ 27 December 2008۔ 
  4. Gerhard Endreß (26 October 2004)۔ "Tradition und Aufbruch"۔ Frankfurter Rundschau (جرمن زبان میں)۔ 
  5. M.Fuad SEZGİN, Buhari'nin Kaynakları Hakkında Araştırmalar, Ankara Üniversitesi İlahiyat Fakültesi, ANKARA, 1956.
  6. ^ 6.0 6.1 Richard Covington (May–June 2007)۔ "The Third Dimension"۔ Saudi Aramco World۔ 
  7. Fuat Sezgin (2006)، The Pre-Columbian Discovery of the American Continent by Muslim Seafarers 
  8. "Prof. Dr. Fuat Sezgin Adına Yapılan Anıtı Kendisi Açtı"۔ Son Dakika (ترکی زبان میں)۔ 24 September 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 ستمبر 2012۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]