چارلی چیپلن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چارلی چیپلن
پیدائش چارلس اسپنسر چیپلن
16 اپریل 1889 (1889 -04-16)
وال ورتھ ، لندن ، انگلستان
وفات 25 دسمبر 1977 (عمر 88 سال)
ویوی ، سویٹزرلینڈ
پیشہ اداکار ، ہدایتکار ، فلمساز ، لکھاری
سالہائے فعالیت 1895–1976[1]
شریک(ہ/ہائے) حیات ملڈرڈ ہیرس (m. 1918–1921) «start: (1918)–end+1: (1922)»"Marriage: ملڈرڈ ہیرس to چارلی چیپلن" Location:سانچہ:Placename/adr (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%D9%84%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D9%BE%D9%84%D9%86)
لیٹا گرے (m. 1924–1927) «start: (1924)–end+1: (1928)»"Marriage: لیٹا گرے to چارلی چیپلن" Location:سانچہ:Placename/adr (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%D9%84%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D9%BE%D9%84%D9%86)
پالیٹ گوڈّرڈ (m. 1936–1942) «start: (1936)–end+1: (1943)»"Marriage: پالیٹ گوڈّرڈ to چارلی چیپلن" Location:سانچہ:Placename/adr (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%D9%84%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D9%BE%D9%84%D9%86)
اونا اونیل (m. 1943–1977) «start: (1943)–end+1: (1978)»"Marriage: اونا اونیل to چارلی چیپلن" Location:سانچہ:Placename/adr (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D8%B1%D9%84%DB%8C_%DA%86%DB%8C%D9%BE%D9%84%D9%86)

سر چارلز سپینسر "چارلی" چیپلن[2]، آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (16 اپریل 1889ء تا 25 دسمبر 1977ء) برطانوی مزاحیہ اداکار اور فلم ہدایتکار تھا۔ امریکی سینما کے کلاسیکی ہالیوڈ کے ابتدائی سے درمیانی دور میں چارلی چیپلن نے بطور فلمساز اور موسیقار بہت شہرت پائی۔

چارلی چیپلین نے خاموش فلموں کے دور میں اپنی فلموں میں نہ صرف خود اداکاری کی بلکہ ان کا مصنف، خالق، ہدایتکار، پیشکار، اور بعد ازاں موسیقار بھی خود ہی تھا اور اس دور کے سب سے بااثر فلمی شخصیات میں سے تھا۔ چارلی چیپلن فرانس کی خاموش فلموں کے مزاحیہ اداکار میکس لنڈر سے بہت متاثر تھا۔ اس نے اپنی ایک فلم بھی میکس لنڈر کے نام کی۔ چیپلن کا تخلیقی کام 75 برس پر محیط ہے، جو اس کے بچپن میں ملکہ وکٹوریہ دور میں برطانوی سٹیج اور موسیقی کے ہالوں سے شروع اور 88 برس کی عمر میں اس کی موت تک جاری رہا۔ میری پکفورڈ، ڈگلس فیئربینکس اور ڈی۔ ڈبلیو۔ گرفتھ کے ساتھ مل 1919ء میں چارلی چیپلن نے یونائیٹڈ آرٹسٹس نامی فلم سٹوڈیو قائم کیا۔

1999ء میں امیرکن فلم انسٹیٹیوٹ نے چیپلن کو تمام ادوار کا 10 واں بہترین اداکار قرار دیا۔ 2008ء میں چارلی: اے لائف نامی کتاب پر تبصرہ میں مارٹن سیف نے تحریر کیا، "چیپلن صرف بڑا نہیں تھا، وہ دیوہیکل تھا۔" جارج برنارڈ شا کو چیپلن کے کام کے معیار کے لاثانی ہونے کا بہت احساس تھا اور اس کی فلموں قریبا ہر حیثیت میں کام کیا جیسے اداکار، ہدایتکار، پیشکار، مکالمہ نویس، موسیقار وغیرہ۔ وہ چیپلن کو "فلمی صنعت کا واحد جینیئس" کہتا تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

چارلز سپینسر چیپلن 16 اپریل 1889ء کو ایسٹ‏ سٹریٹ، والورتھ، لندن، انگلستان میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین پرطانیہ کے موسیقی کے ہالوں کی روایت سے تعلق رکھنے والے فنکار تھے۔ اس کا باپ، چارلز سپینسر چیپلن سینیئر، ایک صداکار و اداکار تھا اور اس کی ماں، ہیناہ سپینسر، ایک گلوکارہ و اداکارہ تھی۔ ان دونوں میں اس وقت علیحدگی ہو گئی جب چارلی کی عمر 3 سال سے بھی کم تھی۔ اس نے اپنے ماں باپ سے گانے کی تربیت حاصل کی۔ 1891ء کی مردم شماری سے پتا چلتا ہے کہ چارلی اور اس کا بڑا سوتیلا بھائی سڈنی اپنی ماں کے ساتھ بارلو سٹریٹ، والورتھ میں رہتے تھے۔

چارلی اپنے بچپن میں اپنی ماں کے ساتھ لیمبتھ میں کیننگٹن روڈ پر اور اس کے اردو گرد کے پتوں پر بھی رہا۔ ان میں 3 پاؤول ٹیرس، چیسٹر سٹریٹ اور 39 میتھلی سٹریٹ شامل ہیں۔ اس کی ماں اور نانی کا تعلق رومانیچلز کے سمتھ خاندان سے تھا، جس پراس کو انتہائی فخر تھا، اگرچہ اس تعلق کو اس نے اپنی خود نوشت میں "اپنے خاندان کی الماری میں ڈھانچہ" کہا تھا۔ چیپلن کا باپ چارلز چیپلن سینیئر شراب کا عادی تھا اور اس کا اپنے بیٹے سے بہت کم رابطہ تھا اگرچہ چارلی اور اس کا سوتیلا بھائی مختصر عرصے کیلیے اپنے باپ اور اس کی معشوقہ، لوئیس، کے ساتھ 287 کیننگٹن روڈ پر رہے تھے جہاں آج ایک تختی اس حقیقت کی یادگیری کیلیے کندہ ہے۔ دونوں سوتیلے بھائی اس یہاں رہے جب ان کی زہنی مریضہ ماں کولسڈن میں کین ہل کے پاگل خانے میں تھی۔ چارلی کے باپ کی معشوقہ نے اسے آرچبشپ ٹیمپلز بوئیز سکول بھیج دیا۔ 1901ء میں، جب چارلی 12 برس کا تھا، اس کا باپ جگر کے تشمع سے انتقال کر گیا۔ 1901ء کی مردم شماری کے مطابق چارلی لیمبتھ میں 94 فرنڈیل روڈ پر دی ایٹ لنکاشائر بوئز کے ساتھ رہتا تھا۔ دی ایٹ لنکاشائر بوئز ایک رقص کا طائفہ تھا جس کا امیر 17 سالہ جان ویلیئم جیکسن تھا۔ جیکسن اس طائفہ کے بانیوں میں سے کسی کا بیٹا تھا۔

نرخرے میں خلل کی وجہ سے چارلی کی ماں (جو اپنے سٹیج کے نام للی ہارلے سے جانی جاتی تھی) نے گانا چھوڑ دیا۔ ہیناہ کیلیے مشکل وقت کا آغاز 1894ء میں البرشاٹ کے ایک تھیٹر میں دی کینٹین نامی ڈرامے میں ادائیگئ فن کے دوران ہوا۔ اس تھیٹر کے گاہک زیادہ تر دنگے باز اور فوجی تھے۔ ڈرامے کے دوران ہیناہ پر آوازے کسے گئے اور مختلف اشیاء پھینکی گئیں جن میں سے کوئی چیز لگنے سے وہ شدید زخمی ہو گئی اور اسے سٹیج سے ہٹا دیا گیا۔ سٹیج کے پس پردہ وہ خوب روئی اور اپنے مینیجر بحث کی۔ اسی دوران پانچ سالہ چیپلن اکیلا سٹیج پر گیا اور اس وقت کا ایک مشہور گیت "جیک جونز" گانے لگا۔

چارلی کی ماں کے کین ہل اسائیلم میں داخلہ کے بعد، اسے جنوبی لندن میں لیمبیتھ کے ورک ہاؤس میں چھوڑ دیا گیا جہاں سے چند ہفتے بعد اسے ہینول میں غرباء کے سینٹرل لنڈن ڈسٹرکٹ سکول میں منتقل کر دیا گیا۔ ان حالات میں زندہ رہنے کیلیے دونوں بھائیوں نے آپس کا قرب بہت بڑھا لیا۔ بچپن ہی سے دونوں میوزک ہال کی طرف بہت مائل تھے اور دونوں میں سٹیج پر کام کرنے کی فطری قابلیت بھی کافی حد تک موجود تھی۔ چارلی کے کرداروں پر اس کی ابتدائی زندگی کی غربت نے بہت گہرے اثرات تھے۔ اس کی بعد کی فلموں میں اس کے لیبیتھ کے دنوں کی عکاسی ملتی ہے۔

چیپلن کی ماں نے 1928ء میں ہالیووڈ میں انتقال کیا۔ اسے 7 سال قبل ہی اس کے بیٹے امریکہ لائے تھے۔ چارلی اور سڈنی کو کئی برس بعد پتا چلا کہ ان کا باپ کی طرف سے ایک اور سوتیلا بھائی بھی تھا۔ ویلر ڈرائیدن (1892ء تا 1957ء) کی پرورش اس کے باپ نے ملک سے باہر کی تھی لیکن بعد ازاں وہ اپنے باقی خاندان سے مل گیا اور ہالیووڈ میں اپنے بھائی چارلی کے سٹوڈیو میں ملازمت اختیار کر لی۔ ڈرائیدن، سپینسر ڈرائیدن (1938ء تا 2005ء) کا باپ تھا۔

امریکہ میں ابتدائی سال[ترمیم]

چیپلن نے امریکہ کا پہلا دورہ فریڈ کارنو طائفہ کے ساتھ 1910ء سے 1912ء تک کیا۔ برطانیہ میں پانچ ماہ گزارنے کے بعد چیپلن کارنو طائفہ کے ساتھ 2 اکتوبر 1912ء کو امریکہ کے دوسرے دورے پر آیا۔ کارنو کمپنی میں آرتھر سٹینلی جیفرسن بھی تھا جو بعد میں سٹین لارل کے نام سے مشہور ہوا۔ چیپلن اور لارل بورڈنگ ہاؤس کے ایک ہی کمرے میں ٹھہرے تھے۔ سٹین لارل تو واپس برطانیہ چلا گیا لیکن چیپلن نے امریکہ ہی میں قیام کیا۔ اواخر 1913ء میں میک سنیٹ، میبل نورمنڈ، منٹا ڈفری اور فیٹی آربکل نے کارنو طائفہ میں چیپلن کے فن کا مظاہرہ دیکھا۔ سنیٹ نے نے اسے اپنے سٹوڈیو، کیسٹون فلم کمپنی میں فورڈ سٹرلنگ کے متبادل کو طور پر بھرتی کر لیا۔ ابتدا میں چیپلن کو فلمی اداکاری کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں بہت مشکل پیش آئی جس سے اس کی اداکاری پر بھی برا اثر پڑا۔ چارلی کی پہلی فلم "میکنگ اے لونگ" کی تکمیل کے بعد سنیٹ نے محسوس کیا کہ وہ ایک بہت مہنگی غلطی کر بیٹھا تھا۔ زیادہ تر تاریخدان اس بات پر متفق ہیں کہ نورمنڈ نے اسے اس بات پر مائل کیا کہ وہ چارلی کو ایک اور موقع دے۔

چیپلن کو نورمنڈ کے حوالے کر دیا گیا، جس نے اس کی چند ابتدائی ترین فلموں کو تحریر کیا اور ان کی ہدایات دیں۔ چیپلن کو ایک عورت سے ہدایات لینا اچھا نہ لگا، اور دونوں میں اکثر اختلاف ہوتا تھا۔ آخرکار دونوں نے اپنے اختلافات کو دور کر لیا اور چیپلن کے کیسٹون چھوڑے کے بعد بھی دونوں کی دوستی قائم رہی۔ چارلی چیپلن کے شہرۂ آفاق کردار دی ٹریمپ (آوارہ گرد) کا آغاز خاموش فلموں کے دور کی کیسٹون کی مزاحیہ فلم کڈ آٹو ریسز ایٹ وینس (اجراء مؤرخہ 7 فروری 1914ء) میں ہوا۔ کیسٹون کے ہدایتکار میک سنیٹ کے کرداروں میں چیپلن کا لٹل ٹریمپ (ننھا آوارہ گرد) سب سے زیادہ مشہور ہو گیا۔ چیپلن نے ٹریمپ کے کردار کی ادائیگی کو درجنوں چھوٹی فلموں اور مٹھی بھر طویل فلموں میں جاری رکھا۔ اس نے بہت کم دوسری پیشکشوں میں اس کردار کو ادا کیا۔

دی ٹریمپ خاموش فلموں کی علامت بن گیا اور ایک بین الاقوامی کردار سمجھا جانے لگا۔ 1920ء کی دہائی میں جب بولتی فلموں کا آغاز ہوا تو چیپلن نے اس کردار پر مبنی ٹاکی بنانے سے انکار کر دیا۔ 1931ء میں پیش کردہ فلم سٹی لائیٹس بھی بغیر مکالموں کے تھی۔ چارلی نے اس کردار کو باضابطہ طور پر ماڈرن ٹائمز میں سبکدوش کر دیا۔ یہ فلم 5 فروری 1936ء کو جاری ہوئی۔ اس کے آخر میں دی ٹریمپ کو اس کی سبکدوشی کی علامت کے طور پر افق کی جانب ایک لاانتہا سڑک پر چلتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ فلم صرف جزوی طور پر ٹاکی تھی اور اسے اکثر آخری خاموش فلم کہا جاتا ہے۔ اس میں فلم کے آخرت تک دی ٹریمپ خاموش رہتا ہے، حتی کہ اس کی آواز فراسیسی اور اطالوی زبانوں کے ایک بے معنی اختلاط پر مبنی گیت میں سنائی دیتی ہے۔ اس طرح سے ٹریمپ کو آواز بھی مل گئی لیکن اس کے خاموش فلموں سے تعلق پر حرف بھی نہیں آیا۔

1915ء میں بننے والی دو فلموں، دی ٹریمپ اور دی بینک، نے پردہ سکرین پر ان ٹریمپ کی امتیازی خصوصیات کی شکیل کی۔ اگرچہ میک سنیٹ نے اسے فوری طور پر خبردار نہیں کیا تھا لیکن چیپلن کو یقین تھا کہ اسے نورمنڈ سے ایک اختلاف کے بعد نوکری سے برطرف کر دیا جائے گا۔ تاہم، چیپلن کی فلموں کامیابی نے اسے جلد کیسٹون کے سب سے بڑے ستاروں کی صف لا کھڑا کیا۔

دا ٹریمپ[ترمیم]

چارلی چیپلن کا مجسمہ ٹریمپ کے روپ میں

چیپلن کی اولین فلمیں مین سنیٹ کے کیسٹون سٹوڈیوز نے بنائی تھیں۔ ان فلموں میں چیپلن نے ٹریمپ کا کردار تخلیق کیا، فلمسازی کی کا فن سیکھا اور اس میں مہارت حاصل کی۔ لوگوں نے ٹریمپ کو پہلی مرتبہ اس وقت دیکھا جب 24 سالہ چیپلن 7 فروری 1914ء میں جاری ہونے والی فلم کڈ آٹو ریسز ایٹ وینس میں اس کردار کے طور پر آیا۔

تاہم، اس نے ٹریمپ کا لباس چند پہلے بننے والی فلم میبلز سٹرینج پریڈیکیمینٹ کیلیے وضع کیا تھا۔ یہ فلم بعد میں 9 فروری 1914ء کو جاری ہوئی۔ میک سنیٹ نے اسے "مزاح کیلیے میک آپ" کرنے کو کہا تھا۔

"دا ٹریمپ" ایک ایسا آوارہ گرد ہے جو اعلی اخلاقیات کا حامل ہے، اچھا لباس پہنتا ہے اور ایک شریف آدمی کی طرح باوقار ہے۔ اس کردار کی تخلیق کیلیے "فیٹی" آربکل نے اپنے وسیع و عریض پتلون اور اپنے سسر کی ڈربی ٹوپی مہیا کی۔ چیسٹر کانکلن نے چاک والا دمدار کوٹ دیا اور فورڈ صترلنگ سے 14 نمبر کے جوتے حاصل ہوئے۔ یہ جوتے اس قدر بڑے تھے کہ چارلی دائیا جاتا بائیں پاؤں پر اور بائیاں دائیں پاؤں پر پہننا پڑا تاکہ یہ خود بخود اتر نہ جائیں۔ چارلی نے میک سوین سے حاصل کیے گئے مصنوعی بالوں سے مونچھیں تیار کیں۔ صرف وینگی چھڑی چیپلن کی اپنی تھی۔ ٹریمپ کا یہ کردار سینما کے تماشائیوں میں جلد بے پناہ مقبول ہو گیا۔ یہ کردار فرانسیسی دنیا، اٹلی، سپین، اینڈورا، پرتگال، یونان، رومانیا اور ترکی میں "چارلوٹ"، برازیل اور ارجنٹینا میں "کارلیٹوس"، اور جرمنی میں "ڈر ویگابانڈ" کے ناموں سے مقبول ہوا۔

موت (1977)[ترمیم]

سویٹزرلینڈ میں چارلی چیپلن کی قبر

چارلی چیپلن کی شاندار صحت انکی آخری فلم "اے کاؤنٹیس فرام ہانگ کانگ" کی تکمیل کے بعد 1960 کی دہائی کے اواخر میں گرنے لگی، اور 1972 میں انھیں اکیڈمی ایوارڈ ملنے کے بعد اس میں تیزی آگئی۔ 1977 میں انھیں بولنے اور چلنے پھرنے میں مشکل ہونے لگی اور انھوں نے وہیل چیئر کا استعمال شروع کردیا۔ ویوی ، سویٹزرلینڈ میں 1977 کے کرسمس کے دن نیند میں ان کی موت واقع ہوگئی[3]

انہیں کورسیئر سر ویوی قبرستان ، واؤڈ ، سویٹزرلینڈ میں دفن کیا گیا۔[4] 1 مارچ 1978 کو ان کے خاندان سے ناجائز طور پر رقم ہتھیانے کے لیے سویس کاریگروں کے ایک گروہ نے قبر سے ان کا جسد خاکی چُرا لیا۔[5] تاہم یہ سازش ناکام ہوگئی؛ چوروں کو گرفتار کرلیا گیا اور جسد خاکی 11 ہفتوں کے بعد جھیل جنیوا کے قریب سے برآمد کرلیا گیا۔ ان کی دوبارہ تدفین کے بعد قبر پر 6 فٹ موٹی کنکریٹ کی تہ ڈال دی گئی تاکہ مستقبل میں کوئی دوبارہ ایسی کوشش نہ کرے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Trivia for A Woman of Paris: A Drama of Fate (1923)". Internet Movie Database. http://imdb.com/title/tt0014624/trivia. Retrieved 22 June 2007. 
  2. ^ انگریزی روایت کے مطابق کسی بھی شخص کی عرفیت اس کے آخری نام سے پہلے واوین میں تحریر کی جاتی ہے۔ یہاں چارلی کا لفظ عرفیت ہے۔
  3. ^ "Charlie Chaplin Dead at 88; Made the Film an Art Form.". New York Times. 26 December 1977, Monday. http://www.nytimes.com/books/97/03/30/reviews/chaplin-obit.html. Retrieved 2007-08-21. "Charlie Chaplin, the poignant little tramp with the cane and comic walk who almost single-handedly elevated the novelty entertainment medium of motion pictures into art, died peacefully yesterday at his home in Switzerland. He was 88 years old." 
  4. ^ "Henri Langlois (1914–1977) – Find A Grave Memorial". www.findagrave.com. http://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=1234. Retrieved 2010-07-22. 
  5. ^ "Chaplin Body Stolen From Swiss Grave. Vehicle Apparently Used. British Envoy 'Appalled'.". New York Times. 3 March 1978, Friday. "The body of Charlie Chaplin was stolen last night or early today from the grave where it was buried two months ago in a small cemetery in the Swiss village of Corsier-surVevey, overlooking the eastern end of Lake Geneva."