مندرجات کا رخ کریں

چارلس ببیج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
چارلس ببیج
(انگریزی میں: Charles Babbage ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 26 دسمبر 1791ء [1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والورتھ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 اکتوبر 1871ء (80 سال)[4][5][6][7][8][9][10]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میریلیبون [11][12]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات گردے فیل   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سوسائٹی ،  باوارین اکیڈمی آف سائنس اینڈ ہیومنٹیز ،  روس کی اکادمی برائے سائنس ،  امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون   ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 8 [13]  ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی پیٹر ہاؤس (–1814)
ٹرینٹی کالج، کیمبرج (21 اپریل 1810–)[14]  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بی اے [14]،  ایم اے [14]  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ریاضی دان ،  کمپیوٹر سائنس دان ،  موجد ،  ماہر معاشیات ،  فلسفی ،  استاد جامعہ ،  انجینئر ،  ماہر فلکیات ،  مصنف [15]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی [1][16]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل ریاضی ،  کمپیوٹر سائنس   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ کیمبرج   ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ایڈا لولیس   ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز (1832)[17]
ایڈن برگ رائل سوسائٹی فیلو شپ (1820)[18]
رائل سوسائٹی فیلو   (1816)[14]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 

چارلس ببیج (انگریزی: Charles Babbag، پیدائش: 26 دسمبر 1791ء، وفات: 18 اکتوبر 1871ء) ایک انگریز ہر فن مولا شخصیت تھےـ[19] آپ ریاضی دان، فلسفی، موجد اور میکانی مہندس تھےـ چارلس ببیج ڈیجیٹل پروگرام ایبل کمپیوٹر (programmable computer) كے تصور کے خالق تھے۔[20] بعض لوگ انھیں کمپیوٹر کا باپ کہتے ہیں۔[20][21][22][23]

انھوں نے ہی پہلا مکینیکل کمپیوٹر ایجاد کیا جو الیکٹرونک کمپیوٹر کی بنیاد بنا۔ جدید کمپیوٹر کا تصور ببیج کے اینالیٹکل انجن (analytical engine) ہی کے مطابق ہے۔[20][24]

سوانح حیات اور تعلیم

[ترمیم]

چارلس 26 دسمبر 1791ء کو لندن، انگلستان کے مقام پر پیدا ہوئےـ ان کا باپ بنیامین ببیج لندن میں ایک بینک کار اور امیر آدمی تھا لہذا چارلس کے لیے ابتدائی تعلیم اشرافیہ اسکولوں اور اساتذہ سے حاصل کرنا ممکن تھاـ ان کی والدہ کا نام بی پی ٹیلے تھا۔ تقریباً آٹھ سال کی عمر میں انھیں ایک خطرناک بخار سے بچنے کے لیے ایک نواحی اسکول میں منتقل کرنا پڑاـ اس کے بعد، انھوں نے ٹوٹنس، جنوبی ڈیون میں کنگ ایڈورڈ VI گرامر اسکول میں شمولیت اختیار کی، لیکن نازک صحت نے انھیں نجی تدریس کی جانب واپسی پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد، انھوں نے ریورنڈ اسٹیفن فری مین کی طرف سے منظم ایک 30-سٹوڈنٹ کلوزڈ اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔ اکیڈمی میں ایک بڑی لائبریری تھی جہاں ببیج خود سے ریاضی کا مطالعہ کرتے تھے۔ اس طرح انھیں ریاضی سے لگاؤ ہو گیا۔ اکیڈمی سے جانے کے بعد ان کے دو سے زیادہ ذاتی معلم تھے۔ 1812ء میں، جب ببیج کو پیٹر ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا، وہ سب سے اچھے ریاضی دان تھے لیکن وہ اعزاز کے ساتھ سندیافتہ ہونے میں ناکام رہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے 1814ء میں بغیر امتحان کے ایک اعزازی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے 18 اکتوبر 1871ء میں وفات پائی۔[25]

کمپیوٹر کا باپ

[ترمیم]

ببیج نے ریاضی اور اعداد و شمار کے جدولوں (tables) كی تیاری کے لیے کلرکوں کے ایک گروہ كو ملازم ركها تھا۔ ان جدولوں کی جانچ پڑتال کے لیے انھيں كئى گھنٹے صرف کرنا پڑتے۔ ليكن احتیاطی تدابیر انسانی غلطیوں کو ختم نہیں کر سکتیں۔ وہ بار بار جدول بنانے كے كام سے اكتا گئے۔ نتیجاتاً، وہ ایک ايسى مشین بنانے کے بارے میں سوچنا شروع ہوئے جو بنا غلطى كئے جدولوں كا حساب كر سكے۔

ڈفرینشل انجن

[ترمیم]

1822ء میں انھوں نے ڈفرینشل انجن (differential engine) کی تیار پر کام شروع کیا جو قابل اعتماد جدول بنا سکے۔ 1831 میں پہلا پروٹوٹائپ انجن تیار ہوا جو نامکمل تھا۔ اس کے کئی حصے اب بھی میوزم آف ہسٹری آف سائنس ، اوکسفرڈ میں محفوظ ہیں۔ یہی پروٹوٹائپ بعد ازاں پہلے ڈفرینشل انجن میں سامنے آئی۔

تجزیاتی انجن (Analytical Engine)

[ترمیم]

چارلس بیبج نے تجزیاتی انجن (Analytical Engine) تیار کرکے کمپیوٹر کی ایجاد کا آغاز کیا۔ تجزیاتی انجن میکانیکی حساب سے مکمل طور پر عمومی مقاصد کی حساب کاری کی طرف منتقلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ چارلس ببیج کی کمپیوٹر کے بانی کے طور پر شہرت کا بنیادی سبب یہی ہے۔ [26]

اہم جدت یہ تھی کہ تجزیاتی انجن کو پنچ کارڈ کے ذریعے پروگرام کیا جانا تھا: انجن کا کام یہ تھا کہ جیکوارڈ کے پنچ کارڈز کے لوپس استعمال کر کے ایک میکانیکی کیلکولیٹر کو کنٹرول کیا جائے جو پچھلی حساب کاریوں کے نتائج کو بطور ان پٹ استعمال کر سکتا تھا۔ یہ مشین جدید کمپیوٹروں میں بعد میں استعمال ہونے والی کئی خصوصیات کو بھی استعمال کرنے والی تھی، جن میں تسلسلی کنٹرول، شاخ بندی اور پھیرے (looping) شامل ہیں۔ یہ اصولاً ٹیورنگ مکمل ہونے والا پہلا میکانیکی آلہ ہوتا۔

چارلس بیبیج نے 1837 سے 1840 تک تجزیاتی انجن کے لیے پروگراموں کی ایک سیریز لکھی۔ پہلا پروگرام 1837 میں مکمل ہوا۔ یہ انجن کوئی ایک واحد طبیعی مشین نہیں تھی بلکہ ڈیزائنوں کا ایک تسلسل تھا جس میں چارلس بیبیج نے اپنی موت یعنی 1871 تک تبدیلیاں کرتے رہے۔

ذاتی زندگی

[ترمیم]

چارلس بیبج نے 1814 میں جورجینیا وائٹ مور نامی خاتون سے شادی کی۔ آپ کے اٹھ بچے ہوئے جن میں سب سے چھوٹے بیٹے ہنری پری وسٹ بیج تھے جنھوں نے اپنے والد کے کمپیوٹر پروگرام کو مزید بہتر بنایا۔


بیرونی روابط

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12124143j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. عنوان : Баббидж, Чарльз — جلد: IIa — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12124143j
  3. بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12124143j — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2017
  4. ^ ا ب عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Charles-Babbage — بنام: Charles Babbage — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6mp5525 — بنام: Charles Babbage — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/memorial/12433 — بنام: Charles Babbage — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب عنوان : Brockhaus Enzyklopädie — Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/babbage-charles — بنام: Charles Babbage
  8. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=ola2002150481 — اخذ شدہ بتاریخ: 23 نومبر 2019
  9. عنوان : Gran Enciclopèdia Catalana — گرین انسائکلوپیڈیا کیٹلینا آئی ڈی: https://www.enciclopedia.cat/ec-gec-0006459.xml — بنام: Charles Babbage
  10. عنوان : Internet Philosophy Ontology project — InPhO ID: https://www.inphoproject.org/thinker/2581 — بنام: Charles Babbage — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  11. عنوان : Баббидж, Чарльз — جلد: IIa
  12. Accademia delle Scienze di Torino ID: https://www.accademiadellescienze.it/accademia/soci/charles-babbage — اخذ شدہ بتاریخ: 1 دسمبر 2020
  13. این این ڈی بی شخصی آئی ڈی: https://www.nndb.com/people/913/000031820/ — اخذ شدہ بتاریخ: 15 مئی 2018
  14. ^ ا ب پ http://venn.lib.cam.ac.uk/cgi-bin/search-2016.pl?sur=&suro=w&fir=&firo=c&cit=&cito=c&c=all&z=all&tex=BBG810C&sye=&eye=&col=all&maxcount=50 — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اکتوبر 2017
  15. عنوان : Library of the World's Best Literature — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.bartleby.com/lit-hub/library
  16. کونر آئی ڈی: https://plus-legacy.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/246841187
  17. https://www.amacad.org/person/charles-babbage
  18. https://www.amacad.org/person/charles-babbage
  19. Terence Whalen (1999ء)۔ Edgar Allan Poe and the masses: the political economy of literature in antebellum America۔ Princeton University Press۔ ص 254۔ ISBN:978-0-691-00199-9۔ 2019-01-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-18
  20. ^ ا ب پ B. Jack Copeland (18 دسمبر 2000ء)۔ "The Modern History of Computing (Stanford Encyclopedia of Philosophy)"۔ اسٹنفورڈ دائرۃ المعارف برائے فلسفہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-03-01
  21. Halacy, Daniel Stephen (1970ء)۔ Charles Babbage, Father of the Computer۔ Crowell-Collier Press۔ ISBN:0-02-741370-5
  22. "Charles Babbage Institute: Who Was Charles Babbage?"۔ www.cbi.umn.edu۔ 2019-01-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-02-21
  23. Swade, Doron (2002ء)۔ The Difference Engine: Charles Babbage and the Quest to Build the First Computer.۔ Penguin
  24. Newman, M.H.A. (1948ء)۔ ‘General Principles of the Design of All-Purpose Computing Machines’۔ Proceedings of the Royal Society of London, series A, 195۔ ص 271–274
  25. http://www.charlesbabbage.net/۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-12-15 {{حوالہ ویب}}: پیرامیٹر |title= غیر موجود یا خالی (معاونت)
  26. "The Baggage Engine"۔ Computer History Museum۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-03-06