چارلس ببیج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
چارلس بیبج
Charles Babbage - 1860.jpg
Charles Babbage in 1860
پیدائش 26 دسمبر 1791 (1791-12-26)لندن، انگلستان
وفات 18 اکتوبر 1871 (عمر 79 سال)میریلیبون، لندن، انگلستان
قومیت انگریز
میدان ریاضی، ہندسیات، کمپیوٹنگ، سیاسی معاشیات
ادارے ٹرینیٹی کالج، کیمبرج
مادر علمی پیٹر ہاؤس
وجہِ معروفیت برائے ریاضی، ابتدائی شمارندیات
اثرات Robert Woodhouse، Gaspard Monge، John Herschel
متاثر کارل مارکس، John Stuart Mill
دستخط
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

چارلس بیبج (انگریزی: Charles Babbage، پیدائش: 26 دسمبر 1791ء، وفات: 18 اکتوبر 1871ء) کیمبرج یونیورسٹی میں انیسویں صدی کے پروفیسر، ایک انگریز ہر فن مولا شخصیت تھےـ آپ ریاضی دان، فلسفی، موجد اور میکانی مہندس تھےـ چارلس بیبج كو جدید رقمی (Digital) قابل برنامج کمپیوٹر (Programmable Computer) كا باپ سمجھا جاتا ہے۔

سوانح حیات اور تعلیم[ترمیم]

چارلس 26 دسمبر 1791ء کو لندن، انگلستان کے مقام پر پیدا ہوئےـ ان کا باپ بنیامین بیبج Benjamin Babbage لندن میں ایک بینک کار اور امیر آدمی تھا، لہذا چارلس کے لئے ابتدائی تعلیم اشرافیہ اسکولوں اور اساتذہ سے حاصل کرنا ممکن تھاـ تقریباً آٹھ سال کی عمر میں انہیں ایک خطرناک بخار سے بچنے کے لئے ایک نواحی اسکول میں منتقل کرنا پڑاـ اس کے بعد، انہوں نے ٹوٹنس، جنوبی ڈیون میں کنگ ایڈورڈ VI گرامر اسکول میں شمولیت اختیار کی، لیکن نازک صحت نے انہیں نجی تدریس کی جانب واپسی پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد، انہوں نے ریورنڈ اسٹیفن فری مین کی طرف سے منظم ایک 30-سٹوڈنٹ کلوزڈ اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔ اکیڈمی میں ایک بڑی لائبریری تھی جہاں بیبج خود سے ریاضی کا مطالعہ کرتے تھے۔ اس طرح انہیں ریاضی سے لگاؤ ہو گیا۔ اکیڈمی سے جانے کے بعد ان کے دو سے زیادہ ذاتی معلم تھے۔ 1812ء میں، جب بیبج کو پیٹر ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا، وہ سب سے اچھے ریاضی دان تھے۔ لیکن وہ اعزاز کے ساتھ سندیافتہ ہونے میں ناکام رہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے 1814ء میں بغیر امتحان کے ایک اعزازی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے 18 اکتوبر 1871ء میں وفات پائی۔ [1]

کمپیوٹر کا باپ[ترمیم]

بیبج ﻧﮯ ریاضی ﺍﻭﺭ ﺍﻋﺪﺍﺩ ﻭ ﺷﻤﺎﺭ کے جدولوں كی ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻠﺮﮐﻮﮞ کے ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭہ كو ﻣﻼﺯﻡ ركها ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ جدولوں ﮐﯽ ﺟﺎﻧﭻ ﭘﮍﺗﺎﻝ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ انہيں كئى ﮔﮭﻨﭩﮯ صرف ﮐﺮﻧﮯ پڑتے۔ ليكن ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﯽ ﺗﺪﺍﺑﯿﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻏﻠﻄﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ سكتيں۔ ﻭﮦ بار بار جدول بنانے كے كام سے اكتا گئے۔ نتيجتا، ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ايسى ﻣﺸﯿﻦ بنانے ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮچنا ﺷﺮﻭﻉ ہوئے جو بنا غلطى كئے جدولوں كا حساب كر سكے۔ 1822ء میں انہوں نے Differential Engine تیار کیا جو قابل اعتماد جدول بنا سکتا تھا۔ 1842ء میں انہوں نے اینالیٹکل انجن (Analytical Engine) کا خیال پیش کیا، جو فی منٹ 60 اضافے کی اوسط رفتار سے ریاضی کے کسی بھی مسئلہ کے لئے حساب کے افعال کو مکمل طور پر خود کار طریقے سے انجام دے۔ بدقسمتی سے، وہ اس مشین کا قابل عمل نمونہ تیار کرنے کے قابل نہیں تھے۔ [2]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.charlesbabbage.net/. اخذ کردہ بتاریخ 15 دسمبر 2016.  |title= مفقود أو فارغ (معاونت)
  2. سانچہ:Computer Fundamentals by Pradeep K. Sinha & Priti Sinha 6th Edition