اردو قواعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ انگریزی میں قواعد کو grammar کہتے ہیں۔ قواعد یا گرامر، لسانیات کی ایک اہم شاخ ہے، اور اس کا مطالعہ زبان پہ دسترس حاصل کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ یہ مضمون اردو زبان کے قواعد کے متعلق ہے۔

اردو قواعد کے دو حصے ہیں:

  1. حصۂ صرف
  2. حصۂ نحو

اِن کی تفصیلات ذیل میں درج ہیں:

حصۂ صرف[ترمیم]

صرف، قواعد کا وہ حصہ ہے جس میں جملوں اور مرکبات کے بجائے، فقط الفاظ کے بارے میں بحث کی جاتی ہے؛ اُن کی ساخت، بناوٹ اور معانى کی وضاحت کی جاتی ہے اور صرف الفاظ کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔

لفظ[ترمیم]

انسان اپنے منہ سے جو کچھ کہتا ہے اس کی بنیادی اکائی لفظ ہوتی ہے۔ اسے انگریزی میں word کہتے ہیں۔

لفظِ موضوع[ترمیم]

جس لفظ یا الفاظ کے مجموعے کے کچھ معنى ہوں، اسے لفظ موضوع کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کوئی بھی با معنى لفظ یا الفاظ کا مجموعہ لفظ موضوع ہوتا ہے۔ اسے انگریزی میں (meaningful word(s کہا جا سکتا ہے۔

اس کی دو اقسام ہیں، کلمہ اور کلام۔ کلمے کی بحث حصۂ صرف میں آتی ہے، جبکہ کلام کی بحث حصۂ نحو میں آتی ہے۔

کلمہ[ترمیم]

وہ اکیلا لفظ جس کے کچھ معنى ہوں، کلمہ کہلاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کوئی بھی اکیلا با معنى لفظ کلمہ ہوتا ہے؛ جیسے:

  • مسجد
  • کیا
  • کرنا

ان مثالوں میں تینوں خط کشیدہہ الفاظ کلمے ہیں۔ انگریزی میں اسے meaningful word کہا جا سکتا ہے۔

اسم[ترمیم]

اسم وہ کلمہ ہے جو کسی شخص، جگہ، چیز، یا کیفیت کے لئے استعمال کیا جائے؛ جیسے:

  • الله سب سے بڑا ہے۔
  • وہ میرا دوست تھا۔
  • شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے۔

ان جملوں میں خط کشیدہ الفاظ (کلمے) اسماء ہیں۔ انگریزی میں اسے nominal کہتے ہیں۔

معنوں کے لحاظ سے اسم کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

۱۔ اسم ذات

  • اسم معرفہ یا اسم خاص
    • اسم علم
      • خطاب
      • لقب
      • تخلص
      • کنیت
      • عرف
    • اسم ضمیر
      • ضمیر شخصی
        • ضمیر متکلم
        • ضمیر مخاطب
        • ضمیر غائب
      • ضمیر اشارہ
        • ضمیر اشارۂ قریب
        • ضمیر اشارۂ بعید
      • ضمیر استفہام
      • ضمیر موصول
      • ضمیر تنکیر
    • اسم اشارہ
      • اشارۂ قریب
      • اشارۀ بعید
    • اسم موصول
  • اسم نکرہ یا اسم عام
    • اسم آلہ
    • اسم صوت
    • اسم تصغیر یا اسم مصغر
    • اسم مُکَبَّر
    • اسم ظَرف
      • اسم ظَرفِ زَمان
      • اسم ظَرفِ مَکان
    • اِسمِ جَمع

3۔ اِسمِ صِفَت

  • صِفَتِ ذاتی/اَصلی
    • صِفَتِ نَفسی
    • صِفَتِ بَعض
    • صِفَتِ کُلّ
  • صِفَتِ نِسبَتی
  • صِفَتِ عَدَدی
    • صِفَتِ مُعَیِّن
    • صِفَتِ غَیرمُعَیِّن
    • صِفَتِ تَرتِیبی
    • صِفَتِ اِضافی
    • صِفَتِ کَسری
    • صِفَتِ اِستِغراقی
  • صِفَتِ مِقداری
  • صِفَتِ اِشارَه
  • صِفَتِ مُشَبَّہ
فعل[ترمیم]

فعل وه کلمہ ہے، جو کسی کام کا کرنا، ہونا یا سَہنا ظاہر کرے؛ جیسے:

← «وه گهر آیا۔»

← «یہ باغ خوبصورت ہے۔»

← «اُس نے مجهے مارا۔»

ان اَمثِلَہ میں بالا خط کشیده کلمے اَفعال ہیں۔ اَنگریزی میں اِسے Verbal کہا جا سکتا ہے۔

معنوں کے اعتبار سے اَفعال کو مندرجہ ذیل اِقسام میں تقسیم کِیا جاتا ہے۔

  • فِعلِ لازِم
  • فِعلِ مُتَعَدّی
  • فِعلِ تام
  • فِعلِ ناقِص
  • تَمِیز/مُتَعَلِّقِ فِعل
حرف[ترمیم]

حَرف وه کلمہ ہے، جو اکیلے کچھ معنٰى نہ دے، بلکہ اَسماء اور اَفعال کے ساتھ مِل کے اپنے پورے معنٰى ظاہر کرے، جیسے:

← «اُس نے کہا، ”ہم پہ خدا کے  بےشمار احسانات ہیں۔“»

← «حضرت عمرؓ کے زمانے میں شیر اور بکری ایک گهاٹ پانی پیتے تهے۔»

اِن مثالوں میں بالا خط کشیده الفاظ حروف ہیں۔ انگریزی میں حرف کو Particle کہتے ہیں۔

استعمال کے لحاظ حروف کو چار بڑے بڑے گروہوں میں تقسیم کِیا جاتا ہے:

اَوَّل: وه حروف، جو اَسماء اور اَفعال کے باہمی تعلّق کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں:۔
  • عَلامَتِ فاعِل
  • عَلامَتِ مَفعُول
  • حَرفِ اِضافت
  • حَرفِ جارّ
  • حَرفِ تَشبِیہ
دُوُّم: وه حروف، جو تأکید وتخصیص کا کام دیتے ہیں:۔
  • حَرفِ تَأکِىد
  • حَرفِ تَخصِیص
  • حَرفِ شُمُول وَشِرکَت
سوُّم: وه حروف، جو دو اِسموں، دو فِعلوں یا دو جُملوں کو مِلاتے ہیں:۔
  • حَرفِ عَطَف
  • حَرفِ تَردید
  • حَرفِ اِضراب
  • حَرفِ اِستِدراک
  • حَرفِ اِستِثناء
  • حَرفِ بَیان
  • حَرفِ عِلَّت
  • حَرفِ شَرط وَجَزاء
چہارُم: وه حروف، جو جُملوں میں قائم مقام ہوتے ہیں:۔
  • حَرفِ نِدا
  • حَرفِ جَواب
  • حَرفِ نُدبَہ وَتَأَسُّف
  • حَرفِ اِبنِساط
  • حَرفِ تَعَجُّب
  • حَرفِ نَفرِین وَنَفرَت
  • حَرفِ تَحسِین وَآفرِین
  • حَرفِ تَنبِِیہ
  • حَرفِ قَسَم
  • حَرفِ تَوبَہ و اَمان

لفظِ مہمل[ترمیم]

جن لفظوں کے کچھ معنٰى نہ ہوں، وه الفاظ مُہمِل کہلاتے ہیں۔

حصۂ نَحو[ترمیم]

نَحو، قواعد کا وه حصہ ہے جس میں علٰیحده علٰیحده الفاظ کے بجائے الفاظ کے مجموعوں، مُرَکَّب جُملوں یا عِبارتوں سے بحث کی جاتی ہے۔

کَلام/مُرَکَّب[ترمیم]

کوئی بهی دو یا دو سے زیاده پُر معنٰى لفظوں کا مجموعہ، کَلام یا مُرَکَّب ہوتا ہے۔ اِسے انگریزی میں Phrase and Clause یا Group of meaningful words کہا جا سکتا ہے۔