اروندھتی رائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اروندھتی رائے
Arundhati Roy W.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 24 نومبر 1961 (58 سال)[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شیلانگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی دہلی یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ناول نگار[5]،  مصنفہ،  منظر نویس،  مضمون نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل مضمون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں سسکتے لوگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:The Algebra of Infinite Justice) (2005)[7]
مین بکر پرائز (برائے:سسکتے لوگ) (1997)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
ArundhatiRoy Autograph.jpg 
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

سوزننا اروندھتی رائے (پیدائش 24 نومبر 1961ء)[8] بھارتی مصنفہ ہیں جو اپنی شاہکار ناول سسکتے لوگ کے لیے جانی جاتی ہیں۔ اس ناول کے لیے ان کو 1997ء میں مین بکر پرائز اعزاز سے نوازا گیا اور یہ کتاب کسی بھی بھارتی کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی تھی۔ وہ ایک سیاسی فعال پسند بھی ہیں جو انسانی حقوق اور ماحولیاتی شعور کے لیے کام کرتی ہیں۔ [9]

ابتدائی حالات زندگی[ترمیم]

اروندھتی رائے کی پیدائش شیلانگ، میگھالیہ، بھارت میں ہوئی۔ [10] ۔ ان کی والدہ میری رائے ایک ملیالی نسل کی مار توما مسیحی مذہب کو ماننے والی اور عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم تھیں۔ ان کا تعلق کیرلا سے تھا۔اروندھتی رائے سے والد ایک بنگالی ہندو تھے اور کولکاتا میں چائے کی کھیتی میں مینیجر تھے۔ رائے محض دو سال کی تھیں جب انے والدین کا طلاق ہو گیا اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ کیرلا میں آ بسیں۔ [11] ایک وقت تک ان کا خاندان نانا کے یہاں اوٹی، تمل ناڈو میں رہا پھر جب وہ پانچ سال کی تھیں تب کیرلا واپس چلی گئیں جہاں ان کی والدہ نے اپنا ایک اسکول کھول لیا تھا۔ [11]

ذاتی زندگی[ترمیم]

رائے دہلی آگئیں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیرز میں ان کو ایک عہدہ مل گیا۔ [11] 1984ء میں ان کی ملاقات ایک آزاد فلم ساز پردیپ کرشن سے ہوئی جنہوں نے رائے کو اپنی انعام یافتہ فلم ماسے صاحب میں گودر کا رول دیا۔ بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔ [12] ان دونوں تحریک آزادی پر ایک ٹی وی سلسلہ میں ساتھ کام کیا اور دو فلمیں بھی ساتھ میں کیں۔ بعد میں دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ [11]

ان کی ناول دی گاڈ آف اسمال تھنگز (سسکتے لوگ) کی کامیابی کے بعد ان کی معاشی حالت سدھر گئی۔ اس کی اشاعت 1997ء میں ہوئی تھی۔ بھارت کے نامی خبر رساں ٹی وی میڈیا گروپ این ڈی ٹی وی کے صدر پرینوئے رائے کی کزن ہیں۔ [13] اور فی الحال دہلی میں مقیم ہیں۔ [11]

عملی زندگی[ترمیم]

ابتدائی عملی زندگی: سکرین پلے[ترمیم]

ابتداءا رائے نے ٹی وی اور فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے ان وچ اینی گرز اٹ دوز ہنز 1989ء فلم میں منظرنامہ لکھا۔ یہ فلم فن تعمیر کے طالبعلم کے تجربوں پر مبنی تھی اور اس میں رائے نے بھی کردار نبھایا تھا۔ ان کی دوسری فلم الیکٹرک مون 1992ء تھی۔ [14] دونوں ان کے شوہر نے ڈائریکٹ کیں۔ رائے کو اول الذکر فلم کے لیے 1988ء میں نیشنل فلم اوارڈ فار بیسٹ اسکرین پلے سے نوازا گیا۔ [15] 1994ء میں ان کو اس وقت خوب شہرت ملی جب انہوں نے پھولن دیوی کی زندگی پر مبنی شیکھر کپور کی فلم بنڈت کوین کی تنقید کی۔ [14] انہوں نے اپنے تنقید نامے کو ‘‘بھارت میں عصمت دری کی عظیم چال‘‘ کا نام دیا اور ایک زندہ عورت کی عصمت دری کو اس کی اجازت کے بغیر اس طرح دکھائے جانے پر سوال اٹھایا اور کپور پر دیوی پر استحصال کا الزام بھی لگا دیا۔ [16][17][18]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Arundhati-Roy — بنام: Arundhati Roy — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/1050500 — بنام: Arundhati Roy — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. بنام: Arundhati Roy — FemBio ID: http://www.fembio.org/biographie.php/frau/frauendatenbank?fem_id=23745 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. https://www.hindustantimes.com/books/arundhati-roy-and-mohsin-hamid-among-five-finalists-for-top-us-book-critics-award/story-uu4DxNkbYvUuZRIyarrIQI.html
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb131959009 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  7. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#ENGLISH — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2019
  8. "Arundhati Roy"۔ Encyclopædia Britannica۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2013۔
  9. Dhanusha Gokulan۔ "'Fairy princess' to 'instinctive critic'"۔ Khaleej Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-11-02۔
  10. "Arundhati Roy, 1959–"۔ The South Asian Literary Recordings Project۔ کتب خانہ کانگریس، New Delhi Office۔ مورخہ 4 اپریل 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2009۔
  11. ^ ا ب پ ت ٹ Siddhartha Deb, "Arundhati Roy, the Not-So-Reluctant Renegade وثق شدہ بتاریخ 21 اپریل 2016 در وے بیک مشینThe New York Times، 5 مارچ 2014. Accessed 5 مارچ 2014.
  12. Massey Sahib انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس (IMDb) پر
  13. Nayare Ali۔ "There's something about Mary"۔ Times of India۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2013۔
  14. ^ ا ب "Arundhati Roy, Author-Activist" وثق شدہ بتاریخ 24 نومبر 2010 در وے بیک مشین، India Today۔ Retrieved 16 جون 2013
  15. "36th National Film Awards (PDF)" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Directorate of Film Festivals۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2015۔
  16. The Great Indian Rape-Trick وثق شدہ بتاریخ 14 اپریل 2016 در وے بیک مشین @ SAWNET -The South Asian Women's NETwork. Retrieved 25 نومبر 2011.
  17. "Arundhati Roy: A 'small hero'"۔ BBC News۔
  18. Randeep Ramesh۔ "Live to tell"۔ The Guardian۔ London۔ مورخہ 6 مئی 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2009۔