مندرجات کا رخ کریں

خلیج ٹائمز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
خلیج ٹائمز
16 اپریل 2018ء کا صفحہ اول
قسمروزنامہ
ہیئتبروڈ شیٹ
مالکGaladari Brothers Group
Suhail Galadari, Co-Chairman[1]
Mohammed Galadari, Co-Chairman
ناشرGaladari Printing and Publishing
مدیرVaman Vassudev Kamat
آغاز16 اپریل 1978؛ 47 سال قبل (1978-04-16)
زبانEnglish
او سی ایل سی نمبر60637427
ویب گاہKhaleejTimes.com


'خلیج ٹائمز (انگریزی: Khaleej Times) متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی سے شائع ہونے والا انگریزی زبان کا روزنامہ اخبار ہے۔[2][3][4]

تاریخ اور آغاز

[ترمیم]

جلداری پرنٹنگ اینڈ پبلشنگ اور پاکستان کے ڈان میڈیا گروپ کی شراکت داری کے تحت، خلیج ٹائمز پہلی بار 16 اپریل 1978ء کو شائع ہوا تھا — یوں یہ متحدہ عرب امارات کا پہلا انگریزی زبان روزنامہ اخبار ثابت ہوا۔[5] اس طرح خلیج ٹائمز متحدہ عرب امارات میں جاری سب سے طویل عرصے سے شائع ہونے والا انگریزی اخبار بھی ہے۔[6]

عہدِ آغاز میں اس اخبار کے بانی ادارتی عملے میں نامور صحافی شامل تھے: محمود ہارون، مزمل احمد، ایم جے زاہدی، میلکم پینے (پہلے ایڈیٹر-ان-چیف) اوراقبال نوری (سرِ تقسیم) شامل تھے اور بعد ازاں پیڑک ہیلینڈ (اعلانیات اور پروموشن) بھی شامل ہوئے۔[7]

ادارتی اور نشریاتی پہلو

[ترمیم]

خلیج ٹائمز ایک بروڈ شیٹ فارمیٹ کا روزنامہ ہے اور اس کے صفحات عمومی خبریں، کاروبار، کھیل، لائف اسٹائل و تفریح، شہروں کی خبریں (City Times) اور اشتہارات /کلاسیفائڈز پر مشتمل ہوتے ہیں۔[8] اس کے علاوہ کاغذی اشاعت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا پر بھی اس کی مضبوط موجودگی ہے: 1995ء میں آن لائن ورژن پیش کیا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے آن لائن پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر بھی ترقی دی گئی۔[9]

خلیج ٹائمز نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ خلیجی خطے کے دیگر ممالک — جیسا کہ بحرین، عمان، کویت، قطر اور سعودی عرب — میں بھی تقسیم ہوتا ہے اور اس کا رسائی نیٹ ورک وسیع ہے۔[10]

کردار اور اہمیت

[ترمیم]

گذشتہ چار دہائیوں کے دوران، خلیج ٹائمز نے متحدہ عرب امارات اور خطے میں معاشی، سیاسی اور سماجی ترقیات کی رپورٹنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔[11] اس نے شاندار صحافتی روایت قائم کی اور اخباری صنعت میں پیشہ ورانہ طرزِ عمل، تقسیم و مارکیٹنگ اور شائع کاری کے اصول متعارف کروائے۔[12]

خلیج ٹائمز نے ہو‎نہار اور متنوع اداری عملہ تشکیل دیا ہے — جن میں برصغیر (پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش) کے صحافیوں کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک، برطانیہ اور دیگر علاقوں کے افراد شامل ہیں۔[13]

تبدیلیاں اور جدید دور

[ترمیم]

سال 2023 میں خلیج ٹائمز نے اعلان کیا کہ ہفتہ وار ایڈیشن (weekend print) ختم کیا جائے گا، یعنی 3 جون 2023 سے صرف ڈیجیٹل / آن لائن اشاعت ہوگی۔[14] اس کے علاوہ، حالیہ برسوں میں اس نے اپنی ڈیجیٹل پہنچ کو مزید بڑھایا ہے — مثال کے طور پر 2024–2025 میں نیا ڈیجیٹل مواد تیار کرنے والا ادارہ کے ٹی پلس لانچ ہوا، جو ویڈیوز، سوشل میڈیا سیریز اور ڈیجیٹل اسٹوری ٹیلنگ پر فوکس کرتا ہے۔[15]

یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ خلیج ٹائمز نے وقت کے ساتھ خود کو روایتی اخبارات سے جدید میڈیا ہاؤس میں تبدیل کر لیا ہے، تاکہ بدلتے میڈیا کے تقاضوں اور قاریوں کی عادات کے مطابق مطابقت اختیار کی جاسکے۔[16]

مجموعی کیفیت

[ترمیم]

خلیج ٹائمز متحدہ عرب امارات کا سب سے طویل عرصے سے چلنے والا انگریزی اخبار ہے، جس نے 1978 سے 2025 تک تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط عرصے میں نہ صرف خبروں کی ترسیل کی بلکہ اخباری اور ڈیجیٹل صحافت دونوں میں معیار اور جدت کو فروغ دیا۔ اس کی مستحکم اشاعت، بین الاقوامی نکاتی نظر اور وسیع قارئین کی پہنچ نے اسے خلیجی خطے میں ایک معتبر اور اثرورسوخ اخبار ثابت کیا ہے۔


حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Shining through"۔ Khaleej Times Magazine۔ 19 اکتوبر 2012۔ 2021-06-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-06-30۔ ...welcomed warmly by Suhail Abdul Latif Galadari, Director of Galadari Brothers...
  2. Vicky Kapur۔ "KT@40: Celebrating four decades of togetherness"۔ www.khaleejtimes.com۔ 2018-08-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-04-16
  3. Lisa Reinisch۔ "Environmental Journalism in the UAE" (PDF)۔ Arab Media & Society۔ 2017-10-10 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-16
  4. United Arab Emirates Yearbook 2006۔ Trident Press Ltd۔ 2006۔ ص 264۔ ISBN:978-1-905486-05-2 {{حوالہ کتاب}}: الوسيط |پہلا= يفتقد |آخر= (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |تیسرا= رد کیا گیا (معاونتنامعلوم پیرامیٹر |دوسرا= رد کیا گیا (معاونت)، وپیرامیٹر |تاریخ رسائی |یوآرایل= درکار (معاونت)
  5. "Khaleej Times"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  6. Peyman Pejman (Winter 2009)۔ "English newspapers in the United Arab Emirates: Navigating the crowded market"۔ Arab Media & Society: –۔ 2009-03-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  7. "Down the memory lane of Khaleej Times"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  8. "Khaleej Times"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  9. "The evolution of Khaleej Times"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  10. "Khaleej Times – Media Partner"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  11. "The UAE's first, longest-running English daily paper, Khaleej Times, celebrates 45th anniversary"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  12. "Down the memory lane of Khaleej Times"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  13. "Khaleej Times"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  14. "Khaleej Times"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  15. "Khaleej Times"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26
  16. "Celebrating 47 Years of Khaleej Times: Redefining the Media Landscape in UAE"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-26