مصطفیٰ رضا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مصطفیٰ رضا خان قادری ایک بھارتی عالم دین اور حنفی فقیہ تھے۔ ان کی پیدائش 22 ذوالحجہ 1310ھ کو ہوئی ان کا نام محمد رکھا گیا اور وہ مصطفی رضاکے نام سے معروف ہوئے۔انہوں نے جملہ اپنے والد احمد رضا خان، بھائی محمد حامد رضا خان، علامہ شاہ رحم الہی منگلوری، سید بشیر احمد علی گڑ ہی اور ظہور الحسین رامپوری سے مختلف دینی و دنیاوی علوم و فنون میں تعلیم حاصل کی۔

خدمات[ترمیم]

انہوں نے جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی میں تقریباً تیس سال تک تدریس کا فریضہ انجام دیا۔ وہ اپنی جماعت رضائے مصطفی کے پلیٹ فارم سے شدھی تحریک جیسی تحریکوں کے خلاف جہاد کرتے رہے اور انہوں نےقیام پاکستان کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔ بہت سے فتاویٰ جات لکھے اور کتب لکھیں۔

کتب و رسائل[ترمیم]

آپ کی تصنیفات کے متعلق اب تک جو علم ہو سکا ان کی مجموعی تعداد 38 ہے، جو تصنیفات، تالیفات اور حواشی پر مبنی ہیں۔[1]

تصنیفات[ترمیم]

  • القسوۃ علی ادوارِ الحمرا الکفرۃ، 1334ہجری
  • القول العجیب فی جواز التثویب، 1342 ہجری
  • النکۃ علی مراء کلکتہ،
  • مقتل اکذب و اجھل
  • حجۃ و اھرہ بوجوب الحجۃ الحاضرۃ، 1342 ہجری
  • مقتل کذب و کید، 1332 ہجری
  • وقعات السنان فی حلق المسماۃ بسط البنان، 1330 ہجری
  • الموت الالحمر، 1337 ہجری
  • طرق الھدیٰ والارشاد الی احکام الامارۃ و الجھاد، 1341 ہجری
  • فتاویٰ مصطفویہ، 1349 ہجری
  • ادخال السنان الی حنک الحلقی بسط البنان
  • سامان بخشش عرف گلستان نعت نوری
  • طرد الشیطان (عمدۃ البیان)
  • صلیم الدیان لتقطیع حبالۃ الشیطان
  • وقایۃ اھل السنۃ عن مکر دیوبند و الفتنہ
  • الھیٰ ضرب بہ اھل لحرب
  • مسائل سماع
  • سیف القھار علی عبید الکفار، 1322 ہجری
  • مسلک مرادآباد پر معترضانہ ریمارک، 1922ء
  • فصل الخلافۃ، 1922ء
  • کانگریسیوں کا رد، 200 صفحات
  • الرحم الدیانی علی راس الوسواس الشیطانی
  • نھاء السنان
  • تنویر الحجۃ بالتواء الحجۃ
  • داڑھی کا مسئلہ
  • وہابیہ کی تقیہ بازی
  • القثم القاصم للداسم القاسم
  • الکادی وی العادی والغادی
  • اشد الباس علی عابد الخناس
  • نورالفرقانین جندالالہ و احزاب الشیطان
  • شفاء العی فی جواب سوال بمبئی

تالیفات[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  • کشف ضلال دیوبند (حواشی وتکمیلات والاستمداد)
  • حاشیہ تفسیر احمدی
  • حاشیہ فتاوی عزیزی
  • حاشیہ فتاویٰ رضویہ کتاب النکاح

شاگرد[ترمیم]

ان کے بہت سے شاگرد اور خلیفہ ہیں، جن میں مفتی محمد اعجاز ولی خاں صاحب بریلی، مفتی محمد شریف الحق امجدی، محمد ضیاء المصطفی اعظمی(مبارکپور)، مفتی محمد رجب علی نانپاروی، مفتی غلام جیلانی گھوسوی، محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی،سید احمد سعید کاظمی، حبیب الرحمن (اڑ یسہ)، حشمت علی خاں، حاجی مبین الدین امرہوی، عبد المصطفی ازہری، مفتی محمد شریف الحق امجدی گھوسی، قاضی شمس الدین احمد جونپوری، محمد سردار احمد قادری ، مشتاق احمد نظامی،قاری مصلح الدین کراچی،مولانا محمد سبطین رضا خان،مولانا محمد تحسین رضا خاں، ریحان رضا خاں،مولانا محمد اختر رضا خان قادری، سید مبشر علی میاں، سیدشاہد علی زیادہ نمایاں ہیں۔

وفات[ترمیم]

14محرم 1402 ہجری/11 نومبر 1981ءرات ایک بج کر چالیس منٹ پر فوت ہوگئے۔ جمعہ کی نماز کے بعد لاکھوں افراد نے نماز جنازہ اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں ادا کی اور اپنے والد احمد رضا خان کے پہلو میں بریلی شہر میں دفن کر دیا گیا ۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حضور مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مصطفی رضا خاں نور اللہ مرقدہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد شکیل مصباحی، جہان مفتی اعظم، شبیر برادرز، لاہور۔ صفحہ 757 تا 776