احمد رضا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امام احمد رضا خان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
اعلٰی حضرت،امام اہلسنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سابقہ شرف دہندہ (P511) ویکی ڈیٹا پر
احمد رضا خان
(اردو میں: احمد رضا خان)،(ہندی میں: अहमद रज़ा खान خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Imamahmedrazakhan.png 

معلومات شخصیت
پیدائش 14 جون 1856  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بریلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 اکتوبر 1921 (65 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بریلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن درگاہ اعلیٰ حضرت،  بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ سنی
فقہ حنفی
زوجہ ارشاد بیگم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد حامد رضا خان،  مصطفٰی رضا خان،  مصطفائی بیگم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 7   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
والد نقی علی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ حسینی خانم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
استاد نقی علی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
قابل ذکر طلبا ظفر الدین بہاری،  مفتی امجد علی اعظمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث،  مترجم،  مصنف،  مصنف[3]،  نعت خواں،  شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں فتاویٰ رضویہ،  کنز الایمان،  حدائق بخشش،  جامعہ رضویہ منظر اسلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر امام ابو حنیفہ، عبد القادر جیلانی، رومی، نقی علی خان، شاہ عبدالحق، فضل حق خیر آبادی
متاثر پیر سیف الرحمن مبارک،مصطفٰی رضا خان، احمد سعید کاظمی، عبد العلیم صدیقی، مولانا شاہ احمد نورانی، محمد اختر رضا خان قادری، ضیاء الدین مدنی، محمد الیاس قادری، قمر الزمان اعظمى، محمد عبدالحکیم شرف قادری، محمد ارشد القادری
P islam.svg باب اسلام

امام احمد رضا خان (14 جون 1856ء28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے ممتاز سنی کے نامور حنفی فقہیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف[4] جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ آپ نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنقی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔[5] آپ نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرع حیثیت سے ناجائز ہے۔[6] عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی،[7] عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔[8]

کثرت سے فقہی مسائل پر رسائل اور عقائد و اعمال کی اصلاح کے لیے کتابیں تصنیف کیں، ریاضی اور فلکیات کے علاوہ سائنس کے دیگر کئی موضوعات پر علمی اور مذہبی نکتہ نظر سے اپنی آرا پیش کیں۔ بریلی میں منظر اسلام کے نام سے اسلامی جامعہ قائم کی، بریلوی مکتب فکر کو متعارف کروایا، جس کی وجہ شہرت عشق رسول میں شدت اور تصوف کی طرف مائل ہونا ہے۔ آپ کو اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت اور حسان الہند جیسے القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 25 صفر کو یوم رضا کے نام سے آپ کا عرس کیا جاتا ہے۔

سوانح

اعلیٰ حضرت کی پیدائش 14 جون 1856ء کو بریلی میں ہوئی۔دینی علوم کی تکمیل گھر پر اپنے والد مولوی نقی علی خان سے کی۔ دو مرتبہ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ درس و تدریس کے علاوہ مختلف علوم و فنون پر کئی کتابیں اور رسائل تصنیف و تالیف کیے۔ قرآن کا اردو ترجمہ بھی کیا جو کنز الایمان کے نام سے مشہور ہے۔ علوم ریاضی و جفر میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شعر و شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بہت سی نعتیں اور سلام لکھے ہیں۔ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو میں ایک ہزار کے قریب کتابیں تصنیف کیں۔ بعض جگہ ان کتابوں کی تعداد چودہ سو ہے۔ ۔[9][10][11]

خاندان

رضا علی خان
پہلی شادیدوسری شادی
(دختر) زوجہ مہدی علینقی علی خانمستجاب بیگمببی جان
احمد رضا خانحسن رضا خان
حامد رضا خانمصطفٰی رضا خان
ابراہیم رضا خان
اختر رضا خان

آپ کا تعلق پٹھانوں کے قبیلہ بڑيچ سے ہے۔ آپ کے جد اعلیٰ سعید اللہ خان قندھار کے پٹھان تھے۔ سلطنت مغلیہ کے عہد میں محمد شاہ کے ہمراہ ہندوستان آئے اور بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ لاہور کا شیش محل انھی کے زیر اقتدار تھا۔ آپ کو مغل بادشاہ نے شش ہزاری کے منصف سے سرفراز کیا اور شجاعت جنگ کا خطاب دیا۔ سعید اللہ کے فرزند سعادت یار خان تھے، آپ کو مغلیہ حکومت نے روہیل کھنڈ کی جنگی مہم پر بھیجا، جس میں کامیابی پر آپ کو بریلی کا صوبہ دار منتخب کیا گیا اور بدایوں و روہیل کھنڈ کے متعدد مواضع جاگیر میں ديئے گئے۔ سعادت یار کے بیٹے محمد اعظم خان تھے، آپ کا مزاج مذہبی تھا، علوم و فنون سے گہری دلچسپی تھی۔ سلطنت مغلیہ میں بریلی میں وزارت ملی ہوئی تھی، لیکن مذہب سے شدید وابستگی نے اس عہدہ سے سکبدوش کرا دیا۔ ان کے بیٹے کاظم علی خان تھے جو بدایوں کے تحصیل دار تھے، آپ کو اٹھ گاؤں جاگیر میں ملے ہوئے تھے۔ آپ سے متعدد کرامات مشہور ہیں۔ کاظم علی کے بیٹے رضا علی خان تھے جھنوں نے ہندوستان میں پہلا باقاعدہ دارالافتا قائم کیا اور جنگ آزادی ہند 1857ء میں حصہ لیا، جنرل ہڈسن نے آپ کے سر کی قیمت پانچ سو روپے مقرر کی تھی۔ آپ تصوف کی طرف مائل تہے۔ آپ کی وفات 1865ء میں ہوئی۔ آپ نے بیٹے نقی علی خان تھے جو صاحب تصانیف بزرگ ہیں۔ آپ نے زندگی بھر دینی تعلیم کی تدریس کی۔

ابتدائی زندگی

آپ کل چھ بہن بھائی پیدا ہوئے، جن میں سے تین بھائی اور تین بہنیں تھیں، سب سے چھوٹی بہن کا جوانی ہی میں انتقال ہو کيا۔ احمد رضا خان بھائیوں سے بڑے اور دیگر دو بہنوں سے چھوٹے تھے۔ چار برس کی ننھی عمر میں قرآن مجید ناظرہ کیا اور چھ سال کی عمر میں منبر پر مجمع کے سامنے مولود پڑھا۔ اردو، فارسی اور عربی پڑھنے کے بعد اپنے والد نقی علی خان سے عربی زبان میں دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تیرہ برس دس مہینے کی عمر میں ایک عالم دین ہو گئے۔ 14 شعبان 1286ھ مطابق 19 نومبر 1869ء میں آپ کو عالم دین کی سند دی گئی اور اسی دن والد نے آپ کے علمی کمال اور پختگی کو دیکھ کر فتویٰ نویسی کی خدمت ان کے سپرد کی۔ جسے آپ نے 1340ھ مطابق 1921ء اپنی وفات کے وقت تک جاری رکھا۔ آپ کے ابتدائے شباب میں والد کا انتقال ہو کيا تھا۔

سلسلہ تعلیم

رسم بسم اللہ خوانی کے بعد ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ آپ نے اپنی چار برس کی ننھی سی عمر میں جب کہ عموما دو سرے بچے اس عمر میں اپنے وجود سے بھی بے خبر رہتے ہیں قرآن مجید ناظرہ ختم کر لیا۔ چھ سال کی عمر میں ماہ مبارک ربیع الاول شریف کی تقریب میں منبر پر رونق افروز ہوکر بہت بڑے مجمع کی موجودگی میں ذکر میلاد شریف پڑھا۔ اردو فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد مرزا غلام قادر بیگ سے میزان منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ نے اپنے والد نقی علی خان سے مندرجہ ذیل اکیس علوم پڑھے : علم قرآن، علم تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، کتب فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی و مالکی و حنبلی، اصول فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام، علم نجوم، علم صرف، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ، علم فلسفہ مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب تا جمع، تفریق، ضرب، تقسیم، ابتدائی علم ہندسہ۔ تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر شریف میں 14 شعبان 1286 ھ مطابق 19 نومبر 1869ء کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے۔ اسی دن مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی لکھ کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا۔ جواب بالکل صحیح تھا۔ والد ماجد نے ذہن نقاد و طبع وقاد دیکھ کر اسی وقت سے فتوی نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کے سپرد کردی۔ آپ نے تعلیم و طریقت سید آل رسول مارہروی سے حاصل کی۔ مرشد کے وصال کے بعد بعض تعلیم طریقت نیز ابتدائی علم تکسیر و ابتدائی علم جفر و غیر ہ سید ابو الحسین احمد نوری مارہروی سے حاصل فرمایا۔ شرح چغمینی کا بعض حصہ عبد العلی رامپوری سے پڑھا، پھر آپ نے کسی استاذ سے بغیر پڑھے محض خدا داد بصیرت نورانی سے حسب ذیل علوم و فنون میں دسترس حاصل کی اور ان کے شیخ و امام ہوئے : قراءت، تجوید، تصوف، سلوک، علم اخلاق، اسماء الرجال، سیر، تواریخ، لغت، ادب، مع جملہ فنون، ارثما طیقی، جبرو مقابلہ، حساب ستیسنی، لوغارثمات یعنی لوگاریتہم، علم التوقیت، مناظرہ، علم الاکر، زیجات، مثلث کروی، مثلث مسطح، ہیئت جدیدہ یعنی انگریزی فلسفہ، مربعات، منتہی علم جفر، علم زائچہ، علم فرائض، نظم عربی، نظم فارسی، نظم ہندی، انشاء نثر عربی، انشاء نثر فارسی، انشاء نثر ہندی، خط نسخ، خط نستعلیق، منتہی علم حساب، منتہی علم ہیئت، منتہی علم ہندسہ، منتہی علم تکسیر، علم رسم خط قرآن مجید۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مولانا کے اساتذہ کی فہرست تو بہت مختصر ہے لیکن مولانا نے بہت سے فنون میں کتابیں لکھیں سید ظفر الدین بہاری نے 1327ھ مطابق 1909ء میں مولانا کی تصانیف کی ایک فہرست بنام المجمل المعدد لتالیفات المجدد مرتب فرمائی اور آخر میں ایک جدول پیش کی جس میں ان سبھی علوم و فنون کا نام ہے جن میں 1327ء تک مولانا کتابیں تصنیف کیں۔[12]

معلمین

آپ کے اساتذہ[13]

  • مرزا غلام قادر بیگ بریلوی م 1898ء
  • والد ماجد مولانا محمد نقی علی خان بریلوی م 1297ھ 1880ء
  • مولانا عبد العلی خان رامپوری م 1303ھ 1885ء تلمیذ علامہ فضل حق خیرآبادی م 1278ھ 1861ء
  • شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی م 1324 ھ 1906ء مولانا نور احمد بدایونی م 1301ھ
  • شاہ آل رسول مارہروی م 1297ھ 1879ء تلمیذ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی م 1239ھ۔
  • امام شافعیہ شیخ حسین صالح م 1306ھ 1884ء
  • مفتی حنفیہ شیخ عبد الرحمٰن سراج م 1301ھ 1883ء
  • مفتی شافعیہ شیخ احمد بن زین دحلان م 1299ھ 1881ء قاضی القضاۃ حرم محترم۔

بیعت و خلافت

فاضل بریلوی 1294ھ،1877ء میں اپنے والد نقی علی خان کے ہمراہ حضرت شاہ آل (م 1878ء ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے -فاضل بریلوی نے اپنے دیوان میں اپنے مرشد کی شان میں ایک منقبت لکھی جس کا مطلع ہے

خوشا دلے کہ دہندش ولائے آل رسول

خوشا مردے کہ کنندش فدائے آل رسول

فاضل بریلوی مندرجہ ذیل سلسلوں میں اجازت بیعت حاصل تھی:-قادریہ برکاتیہ جدیدہ، قادریہ آبائیہ قدیمہ، قادرہ رزاقیہ، قادریہ منوریہ، چشتیہ نظامیہ قدیمہ، قادرہ اہدلیہ ،چشتیہ محبوبیہ جدیدہ، سہروردیہ فضیلہ، نقشبندیہ علائیہ صدیقیہ، نقشبندیہ علائیہ علویہ، بدیعیہ، علویہ منامیہ وغیرہ- مندرجہ بالا سلاسل میں اجازت کے علاوہ فاضل بریلوی کو مصافحات اربعہ (مصا حفۃ الحسنیہ ،مصاحفۃ العمریہ، مصاحفۃ،الخضریہ، مصافحۃ المنانیہ) کی سند بھی ملی۔

ان مصافحات و اجازت کے علاوہ مختلف اذکار اشغال و اعمال وغیرہ کی بھی آپ کو اجازت حاصل تھی جیسے خواص القرآن اسماء الٰہیہ،دلائل الخیرات، حصن حصین،حزب البحر،صزب النصر،حرز الامیرین،حرزالیمانی دعاءمغنی،دعا حیدری،دعا عزارائیلی،دعا سریانی،قصیدہ غوثیہ،قصیدہ بردہ وغیرہ وغیرہ-

حج و زیارت

ذوالحجہ 1294ھ مطابق دسمبر 1877ء میں پہلی بار مولانا نے حج کیا پھر ربیع الاول 1324ھ مطابق اپریل 1906ء میں محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ ایک ماہ تک مدینہ طیبہ میں رہ کر بارگاہ رسالت کی زیارت کرتے رہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے بڑے بڑے علما آپ کے علمی کمالات اور دینی خدمات کو دیکھ کر آپ کے نورانی ہاتھوں پر مرید ہوئے اور آپ کو استاد و پیشوا مانا[14][15][16]

اشاعت اسلام

مولانا نے ہوش سنبھالنے کے بعد اپنی ساری زندگی اسلام کے خدمت اور سنیت کی اشاعت میں صرف فرمائی اور تقریباً ایک ہزار کتابیں لکھیں جن میں فتوی رضویہ بہت ہی ضخیم کتاب ہے۔ مولانا نے قرآن مجید کا صحیح ترجمہ اردو میں تحریر فرمایا جس کو عالم اسلام کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن کہتی ہے۔

مدرسہ منظر اسلام بریلی

نظریات

رد احمدیہ

  1. جزاء اللّٰہ عدوّہ لابائہ ختم النبوۃ
  2. قھرالدیان علی مرتد بقادیان
  3. المبین معنی ختم النبیین
  4. السوء والعقاب علی المسیح الکذاب
  5. الجراز الدیانی علی المرتدالقادیانی

رد شیعیت

شیعیت کے خلاف آپ نے کئی فتوی جاری کیے اور کتب و رسائل لکھے، جن میں شیعی عقائد و رسومات کی پرزور مذمت کی اور شیعہ کے بعض عقائد کی بنیاد پر ان کو کافر کہا۔[17][حا-1] آپ نے اپنی کتاب احکام شریعت میں امیر معاویہ پر طعن کرنے والے کو جہنمی کتا کہا اور رد الرفضہ نامی رسالے میں خلافت ابو بکر کے منکر کے بارے لکھا کہ وہ مذہب صحیح (یعنی حنفیت کا ثابت شدہ مسئلہ) پر کافر ہے، یوں ہی شیخین (یعنی ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب) کو برا کہنے والے یا تبرا کرنے والے کو کافر لکھا اور کتاب برہان شرح مواہب الرحمن کے حوالے سے خلافت عٹمان کے منکر کو بھی کافر کہا۔ اور ایسے امام کے پیچے نماز کو ناجائز کہا جو خلفا ثلاثہ (پہلے تین خلاف اسلام) کو برا کہے یا تنقیص کرے۔ اسی کتاب میں سنی شخص کو شیعہ کا شرعی وارث نہ ہونے کا فتوی موجود ہے۔

دیگر رسائل و فتاوی میں شیعی اذان میں کلمہ خلیفہ بلا فصل کا رد، کیا تعزیہ داری اور شہادت نامہ جیسے اعمال کو حرام قرار دیا، پہلے خلیفہ برحق کی تحقیق میں ابوبکر صدی قکی خلافت کو پر دلائل دیے، شیخین کی علی ابن طالب پر فضیلت پر دلائل، تفضی و امیر معاویہ پر تنقید کرنے والوں کا رد کیا۔

رد وہابیت

احمد رضا خان کے زمانے میں کئی مکاتب فکر اور فرقے کے لوگ ظاہر ہوئے تھے جن کے بارے میں ان کا تجزیہ تھا کہ وہ اسلام و سنیت کے خلاف دھوکے کا جال بچھا کر بھولے بھالے مسلمانوں میں خوب گمراہی پھیلا رکھی تھی۔ آپ نے دین و شریعت کی حمایت میں ان مبینہ طور گمراہ گروہوں سے اور حق و باطل کو خوب واضح کر کے پیش کرنے کی کوشش کی۔[18] آپ کے فتاوے اور کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالی نے ہزاروں مسلمانوں کو حلقہ بگوش کیا۔ بہت سے وہ علما جودوسرے مسلکوں کے سیلاب میں بہتے جا رہے تھے آپ کی رہنمائی سے متاثر ہوئے۔ جب کچھ دوسرے مسلکوں کے لوگوں نے سرکار محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے شان میں گستاخی اور توہین کتابوں میں لکھ کر شائع کی اور مسلمانوں کو بگاڑنا شروع کیا تو آپ نے اٹل پہاڑ کی طرح جم کر سرکار محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی محبت کا پرچم لہرایا اور مسلمانوں کو سرکار کی محبت و تعظیم کا سبق دیا اور گستاخی کرنے والوں کا حقیقی چہرہ پیش کرنے کی کوشش کی۔[19]

تصنیفات

آپ نے کم و بیش پچاس[20] مختلف علوم فنون پر ایک ہزار کتابیں لکھیں ہیں۔[21] ان میں چند مندرجہ ذیل ہیں :

  • العطايا النبويہ في الفتاوي الرضويہ: یوں تو آپ نے 1286ھ سے 1340ھ تک ہزاروں فتوے لکھے۔ لیکن سب کو نقل نہ کیا جاسکا، جو نقل کر لیے گئے تھے ان کا نام العطا یا النبویہ فی الفتاوی رضویہ رکھا گیا۔ فتاویٰ رضویہ جدید کی 33 جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 22 ہزار سے زیادہ کل سوالات مع جوابات 6847 اور کل رسائل 206 ہیں۔ ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔[22] قرآن و حدیث، فقہ منطق اور کلام وغیرہ میں آپ کی وسعت نظری کا اندازہ آپ کے فتاوے کے مطالعے سے ہی ہو سکتا ہے۔
  • نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان: اس کتاب میں آپ نے قرآنی آیات سے زمین کو ساکن ثابت کیا ہے۔[23] اور سائنس دانوں کے اس نظریے کا کہ زمین گردش کرتی ہے رد فرمایا ہے۔
  • جد الممتار علی الردالمختار:علامہ ابن عابدین شامی کی ردالمختار شرح درمختار پر عربی حواشی ہیں۔
  • الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ: دوسری بار جب حج کے لیے مکہ میں تھے، اس وقت کچھ ہندوستانی حضرات نے مسئلہ علم غیب سے متعلق ایک استفتاء پیش کیا۔ قرآن و حدیث کے علاوہ اس کتاب میں منطق، فلسفہ اور ریاضیاتی دلائل پیش کیے گئے اس کتاب پر اس وقت 50 علما حرمین اور 15 دیکر بلاد اسلامیہ کے علما نے تقاریط لکھیں۔[24]
  • کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم: (1906ء) کاغذی کرنسی، سے متعلق علمائے حرمین کے سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ اس دور میں یہ مسئلہ متنازع تھا اور مگر آپ کے جوابات دیکھ کر علمائے حرمین نے دل کھول کر تعریف کی۔ 1911ء میں ایک ضمیمہ کا اضافہ کیا اور اس کا اردو ترجمہ کیا۔ سید ابو الحسن ندوی نے کفل الفقیہ کا بطور خاص ذکر کیا ہے اور فقاہت میں احمد رضا خان کی مہارت کا شاہد و گواہ قرار دیا۔[25]
  • حسام الحرمین، مرزا غلام احمد قیادیانی، رشید احمد گنکوہی، اشرف علی تھانوی، محمد قاسم نانوتوی، خلیل احمد انبہٹوی وغیر کی عبارات پر علمائے حرمین کا فتوی کفر۔
  • کنزالایمان، قرآن مجید کا ترجمہ کیا۔ ۔[26] جس پر آپ کے خلیفہ سید نعیم الدین مراد آبادی نے حاشیہ لکھا ہے۔ اس ترجمہ کا انگریزی (میں تین بار)، ہندی، سندھی، گجراتی، ڈچ، بنگلہ وغیرہ میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

نعت گوئی

آپ نے اردو، عربی، فارسی تین زبانوں میں نعت گوئی و منقبت نگاری کی۔

حدائق بخشش

آپ کا نعتیہ دیوان حدائق بخشش تین جلدوں میں ہے، پہلے دو جلدیں آپ کی حیات میں اور تیسری، بعد از وفات جمع کر کے کلام شائع کیا گيا، مگر اس میں رضا کا تخلص رکھنے والے ایک دوسرے عام سے شاعر کا عامیانہ کلام بھی در آیا، جس پر کافی تنقید ہوئی، جس کو تحقیق کے بعد نکال دیا گیا۔ حدائق بخشش اردو نعتیہ شاعری کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی جس نے اپنے بعد آنے والے تمام نعت گوؤوں کو ایک ادب کا جامہ پہنا دیا، ورنہ اس سے پہلے اردو نعت صرف عقیدت کے طور پر دیواں کے شروع میں شامل نظر آتی، مگر حدائق بخشش کے بعد اردو نعت ادب کا ایک مستقل حصہ بنا، جس کی نعتیں آج بھی مشہور و معروف ہے۔

مصطفٰی جانِ رحمت پے لاکھوں سلام

شمع بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

بہت مشہور ہے

عربی کلام

آپ کا عربی کلام جامعہ ازہر کے مصری محقق پروفیسر حازم محمد احمد نے بساتین الغفران کے نام سے مرتب کیا ہے۔[27] آپ کے عربی کلام میں سلاست و روانی کی رنگا رنگی بہت نمایاں ہے اور بے ساختگی، عربی تراکیب کی بندش اور مناسب و برمحل الفاظ کے استعمال پر آپ کو یدطولی حاصل تھا۔ تشبیہات و استعارات آپ کے کلام کی عدیم المثال خصوصیات ہیں۔ آپ کا عربی کلام کلام منتشر اوراق اور مخطوطات میں غیر مرتب پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر حامد علی خان (مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ) نے شعبۂ عربی سے ہندوستان میں عربی شاعری کے موضوع پر جو تحقیقی مقالہ پی ایچ ڈی کے لیے لکھا، اس میں مختلف مآخذ سے احمد رضا خان عربی زبان میں اشعار کو بھی اکٹھا کیا جن کی مجموعی تعداد 390 ہے۔ محمود احمد کانپوری نے بھی مختلف مآخذ سے 1145 اشعار یکجا کیے تھے۔ جب کہ ڈاکٹر محمود حسین بریلوی نے اپنے ایم فل کے مقالہ جو مولانا احمد رضا خان کی عربی زبان و ادب میں خدمات کے عنوان سے طبع شدہ موجود ہے، اس میں 1120 اشعار جمع کیے ہیں۔[28]

فارسی کلام

آپ کے دستیاب فارسی کلام کا کچھ حصّہ حدائق بخشش میں موجود ہے جب کہ آپ کی منتخب فارسی نعتوں کا ایک مجموعہ ارممغان رضا کے نام سے، ادارہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا نے پہلی بار، 1994 میں شائع کیا، اس میں حمد و نعت، قصائد و مناقب اور رباعیات شامل ہیں۔ لیکن ابھی بہت سا فارسی کلام منتشر ہے۔[29]

یا رب زمن بر شہ ابرار درودی

برسید و مولائی من زار، درودی

بر آبروی آن قبلہ قوسین سلامی

بر چشم خطا پوش، عطا بار، درودی

[30]

آپ کا فارسی قصیدہ اکسیر اعظم جو شیخ عبد القادر جيلانی کی شان میں لکھا، مشہور ہے۔ خود ہی اس کی شرح فارسی زبان میں تصنیف فرمائی جس کا نام ”مُجِیرِ مُعظّم“ رکھا۔ فارسی کلام اور شرح کا اردو ترجمہ ”تابِ مُنظّم“ کے نام سے محمد احمد مصباحی نے کیا ہے۔ اس کا ایک شعر بطور نمونہ؛

اولیا را گر گُہر باشد تو بحرِ گوہری

در بدستِ شاں زرے دادند زر راکاں توئی

ترجمہ:اولیا کے پاس اگر موتی ہے تو موتی کا سمندر تم ہو اور اگر ان کے ہاتھ میں کوئی سونا دیا گیا ہے تو سونے کی کان تم ہو۔[31]

کنزالایمان ترجمہ قرآن شریف

آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا۔ ۔[26] آپ کے ترجمہ کا نام "کنز الایمان" ہے۔ جس پر آپ کے خلیفہ سید نعیم الدین مراد آبادی نے حاشیہ لکھا ہے۔ اس ترجمہ کو اب تک انگریزی (میں تین بار)، ہندی، سندھی، گجراتی، ڈچ، بنگلہ وغیرہ میں ڈھالا جا چکا ہے۔

وفات و مزار

25 صفر 1340ھ مطابق 1921ء کو جمعہ کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ پر عین اذان کے وقت ادھر موذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزار بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے۔[32]

بریلی میں واقع احمد رضا خان کی قبر

درگاہ شریف

آپ کا مزار پرانا بریلی شہر سے تین چار فرلانگ کے فاصلہ پر محلہ سوداگران میں واقع ہے۔ اور ایک خانقاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزار میں آپ کے بیٹے حامد رضا خان کی بھی قبر ہے۔ درگاہ پر ہر سال 25 صفر کو عرس رضوی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس میں دنیا بھر سے معتقدین و علما و مشائخ شرکت کرتے ہیں۔ 2018ء میں سواں عرس رضوی منعقد کیا جا رہا ہے۔

اولاد

آپ کی زوجہ ارشاد بیگم سے پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے۔ دونوں بیٹے حامد رضا خان اور مصطفٰی رضا خان نامور علما شمار ہوئے۔ بیٹیوں میں بالترتیب مصطفائی بیگم، کنیز حسن (عرف منجھلی بیگم)، کنیز حسنین (عرف سنجھلی بیگم)، کنیز حسین (عرف چھوٹی بیگم) اور مرتضائی بیگم (عرف چھوٹی بنو) تھیں۔[33]

خلفا

عرب خلفا
  • سید محمد عبد الححی
  • شیخ محمد صالح کمال مکی، مفتی حنفیہ
  • سید اسماعیل مکی، محافظ کتب خانہ حرم
  • سید مصطفا بن سید خلیل مکی
  • سید ابو حسین محمد مرزوقی۔
  • شیخ اسد دہان مکی
  • شیخ عبد الرحمن دہان مکی
  • شیخ محمد بن عابد بن حسین مکی، مفتی مالکیہ
  • شیخ علی بن حسین مکی
  • شیخ جمال بن محمد امیر مکی
  • شیخ عبد اللہ بن شیخ احمد ابو الخیر میردار مکی
  • سید عبد اللہ دحلان مکی
  • شیخ بکر رفیع مکی
  • شیخ حسن عجیمی
  • سید سالم بن عپدروس بار علوی حضرمی
  • سید علوی بن حسن الکاف حضرمی
  • سید ابوبکر بن سال مبار علوی حضرمی
  • سید محمد بن عثمان دحلان مکی
  • شیخ محمد یوسف، مدرسہ رحمت اللہ مہاجر مکی
  • شیخ عبد القادر کر دی مکی، شاگر صالح کمال مکی
  • شیخ عبد اللہ فرید بن عبد القادر
  • سید عمر بن سید ابوبکر مکی
  • شیخ احمد حضراوی مکی
  • سید مامون بری مدنی
  • سید محمد سعید مدنی

شاگرد

جامعاتی تحقیق

1979ء میں پہلی بار ڈاکٹر حسن رضا خان نے ڈاکٹر اطہر شیر کی زیر نگرانی جامعہ پٹنہ، بھارت سے احمد رضا خان کی فقہی خدمات پر پی ایچ ڈی کی۔ ان کے بعد ڈاکٹر اوشا سانیال نے جامعہ کولمبیا امریکا سے 1990ء میں کی، بعد ازاں آپ کی شاعری پر ڈاکٹر سید جمال الدین نے ڈاکٹر ہری سنگھ کوردیشا ودھیالہ یونیورسٹی، آگرہ سے، ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی نے روہیل کھنڈ یونیورسٹی سے، ڈاکٹر سراج احمد بستوی نے کانپور یونیورسٹی سے، ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے حامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی۔ جب کہ فقہی خدمات پر ڈاکٹر محمد انور خان نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے، ترجمہ قرآن پر پروفیسر مجید اللہ قادری نے جامعہ کراچی نے، حیات و علمی خدمات پر ڈاکٹر محمد طیب رضا نے ہندو یونیورسٹی بنارس سے اور ڈاکٹر الباری صدیقی نے سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ تصور عشق پر پر ڈاکٹر غلام مصطفٰی نجم قادری نے میسور یونیورسٹی سے، انشاء پردازی پر ڈاکٹر غلام غوث نے رانچی یونیورسٹی سے، افکار پر ڈاکٹر امجد رضا نے ویرکنور سنگھ یونیورسٹی سے، ادبی خدمات پر ڈاکٹر رضا الرحمان عاکف سنبھلی نے روہیل کھنڈ یونیورسٹی سے اور مکتوبات پر غلام جابر شمس مصباحی نے بی آر امبیڈکھر، بہار یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ اس کے علاوہ عربی زبان ادب، فارسی زبان و ادب، تفسیری خدمات، خدمات علوم حدیث، عربی شاعری، سیاسی افکار پر بھی پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے ہیں ان 30 پی ہیچ ڈی مقالات میں 4 عربی زبان میں ایک انگریزی میں اور بقیہ اردو زبان میں لکھے گئے ہیں اور ان 30 جامعات میں سے ایک امریکا، ایک سوڈان، 19 بھارت اور بقیہ کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جب کہ پاکستان کی جامعات میں ایک کا تعلق اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، دو کا تعلق جامعہ پنجاب، دو کا تعلق سندھ یونیورسٹی اور بقیہ 4 کا تعلق جامعہ کراچی سے ہے۔ جب کہ ایم فل کے ذیل میں بیس سے زائد تحقیقی مقالات لکھے جا چکے ہیں، جن میں سے 9 عربی زبان میں ہیں۔ مجموعی طور پر 35 سے زائد جامعات میں تحقیقاتی کام ہو چکا ہے۔[34]

شہرت

قدر شناسی

یادگاریں

معاشرتی مؤثریت

مزید دیکھیے

حواشی

^[حا-1] شیعہ اثنا عشری بدترین کافر ہیں اور الفاظ یہ ہیں کہ شیعہ بڑا ہو یا چھوٹا مرد ہو یا عورت شہری ہو یا دیہاتی کوئی بھی ہو لاریب و لاشک قطعاً خارج از اسلام ہیں اور صرف اتنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے اور لکھتے ہیں۔

من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ترجمہ:۔ جو شخص شیعہ کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ (کتاب، رد الرفضہ)

حوالہ جات

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119480301 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. او ایل آئی ڈی: https://openlibrary.org/works/OL103285A — بنام: Aḥmad Raz̤ā K̲h̲ān̲ — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: آرون سوارٹز — اجازت نامہ: اے جی پی ایل-3.0
  3. https://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=7475
  4. تعارف، مولانا احمد رضا خان۔ لاہور: کتاب محل۔ 2017۔ صفحہ 38۔ 
  5. علامہ اقبال کا تصور اجتہاد (مجموعۂ مقالات)۔ لاہور: اقبال اکادمی۔ 2008۔ صفحہ 269۔ آئی ایس بی این 978-969-416-420-5۔ 
  6. شاہکار انسائیکلوپیڈیا قرآنیات۔ لاہور: شاہکار بک فاؤنڈیشن۔ 2009ء۔ صفحہ 402۔ 
  7. احمد رضا خان، فتاوی رضویہ جلد 10، صفحہ 46
  8. احمد رضا خان (2015ء)۔ فتاوی رضویہ جلد 9 – Risala 8 – زیارت قبور۔ کراچی: مکتبۃ المدینہ۔ صفحہ 6۔ 
  9. الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ ،1312ھ، مطبع اہلسنت بریلی و رضا اکیڈمی ممبئی (ستروجہ سے امام وہابیہ دہلوی پر لزوم کفر
  10. فتاوی الحرمین برجف ندوۃالمین 1317ھ، (عربی)، مطبع گلزار حسینی ومکتبہ ایایشیق استنبول (ندوۃ العلماء والوں کے عقائد اور ان پر فتاوائے حرمین
  11. الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ 1323ھ(عربی)، مطبح اہلسنت وجاعت بریلی، (الدولۃ والمکیۃ پر مصنف کا مبسوط حاشیہ فرقہ نیچریہ کا رد۔ یہ کتاب اعلیٰ حضرت نے مکہ مکرمہ میں اس وقت لکھی جب آپ سے علم غیب رسول کے بارے میں سوال کیا گیا بغیر کسی کتاب کی مدد کے زبانی طور پر یہ کتاب چند گھنٹوں میں تحریر ہوئی اور اس پر علمائے حرمین شریفین یعنی علمائے مکہ و مدینہ نے تصدیقات رقم کیں، یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ بھی متعدد بار طبع ہوئی ہے۔
  12. سوانح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مرتبہ بدر الدین احمد قادری، ناشر قادری مشن بریلی شریف
  13. امام احمد رضا کی فقہی بصیرت مرتبہ محمد یٰس اختر مصباحی، ناشر رضوی کتاب گھر دہلی
  14. الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیۃ 1323ھ(عربی)، مطبح اہلسنت وجاعت بریلی، (الدولۃ والمکیۃ پر مصنف کا مبسوط حاشیہ فرقہ نیچریہ کا رد۔ یہ کتاب اعلیحضرت نے مکہ مکرمہ میں اس وقت لکھا جب آپ سے علم غیب رسول کے بارے میں سوال کیا گیا بغیر کسی کتاب کی مدد کے زبانی طور پر یہ کتاب چند گھنٹوں میں تحریر ہوئی اور اس پر علمائے حرمیں شریفین یعنی علمائے مکہ و مدینہ نے تصدیقات رقم کیں، یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ بھی متعدد بار طبع ہوئی ہے۔
  15. الاجازۃ الرضویہ لمجبل مکۃ البہیۃ، 1323ھ (عربی) مکتبہ قادریہ لوہاری گیٹ لاہور (اجازت نامے جو اعلیٰ حضرت نے علمائے مکہ کو دیے
  16. الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ و المدینۃ، 1324 ھ (عربی) مکتبہ قادریہ لوہاری گیٹ لاہور و رضا اکیڈمی ممبئی وغیرہ جس میں علمائے مکہ و مدینہ کی عطا کردہ اجازتیں ہیں، مرتبہ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خلیف اکبر اعلیٰ حضرت علیہما الرحمہ
  17. Sampark: Journal of Global Understanding۔ Sampark Literary Services۔ 2004۔ 
  18. Historic Judgment of Session Judge, Fyzabad,UP, India 30. اپریل 1949.
  19. العطا یا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ، مطبع اہلسنت وجماعت بریلی و رضا اکیڈمی ممبئی و کتب خانہ سمنانی، میرٹھ، و سنی دار الاشاعت مبارکپور و لائلپور
  20. محمد ظفر الدین بہاری، المجمل المعدد لتالیفات المجدد، مطبوعہ پٹہ
  21. عبد الحی ندوی، نزھتہ الخواطر، جلد8، صفحہ 40، مطبوعہ کراچی
  22. فتاویٰ رضویہ جدید، ج 30، ص 10، رضا فائونڈیشن مرکز الاولیاء لاہور۔
  23. امام احمد رضا اور حرکتِ زمین از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مطبع ادارہ تحقیقات امام احمد رضا، کراچیز
  24. پروفیسر محمد مسعود احمد، فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں، مطبوعہ لاہور، 1973ء
  25. عبد الحی ندوی، نزھتہ الخواطر، جلد8، صفحہ 41، مطبوعہ کراچی
  26. ^ ا ب سوانح امام احمد رضا، ص 373، مکتبہ نوریہ، رضویہ سکھر
  27. "بساتین الغفران کے مقدمے کا ترجمہ"۔ رضا اکیدمی، لاہور۔ 1998ء۔ صفحہ 10۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 اکتوبر 2018۔ 
  28. مولانا احمد رضا خان کی عربی زبان و ادب میں خدمات۔ کراچی: ادارہ تحقیقات امام احمد رضا۔ 2006۔ صفحہ 202۔ 
  29. تاریخِ نعت گوئی میں امام احمد رضا کا مقام، ص21
  30. ارمغان رضا، امام احمد رضا خان بریلوی، مرتبہ پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد رضوی، ادارہ تحقیقات رضا، کراچی، پاکستان- 1994، صفحہ 23
  31. Faizaan-e-Aala Hazrat
  32. سوانح امام احمد رضا، ص 391، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر
  33. تاریخ بڑیچ۔ کوئٹہ: غزنوی کتب خانہ۔ 2006ء۔ صفحہ 295ب- 296ت۔ 
  34. وجاہت رسول قادری (مارچ 2005ء). "امام احمد رضا اور انٹرنیشنل جامعات". معارف رضا 25 (3): 357-365. http://imamahmadraza.net/Images/Books/2004%20Salnama.pdf. 

بیرونی روابط