ڈیوڈ ھلبرٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اصطلاح term

ھلبرٹ فضا
دالہ تحلیل
مسلمات
منطقی
عمومی اضافیت
میدانی مساوات
غیر متضاد نظام
نظریہ نامکمل
مقداریہ آلاتیات

Hilbert Space
Functional analysis
Axioms
Logical
General Relativity
Field Equations
Non-contradictory System
Incompleteness Theorem
Quantum mechanics

ڈیوڈ ھلبرٹ[ترمیم]

ڈیوڈ ھلبرٹ

ڈیوڈ ھلبرٹ ایک مشہور جرمن ریاضی دان تھا۔ اُس نے ریاضی کی بہت سی شاخوں میں کام کیا اور بہت سے بنیادی قوانین دریافت کئے۔ اُس نے ھلبرٹ فضا (Hilbert Space) کے اصول بھی واضع کئے [1]۔ وہ دالہ تحلیل (Functional Analysis) کے بانیوں میں سے تھا۔

زندگی[ترمیم]

ھلبرٹ 23 جنوری 1862ء کو پیدا ہوا۔ وہ اپنے والدین، اوٹو اور ماریہ ھلبرٹ کی پہلی اولاد تھا۔ 1880ء میں اُس نے گریجویشن کی اور 1885ء میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ 1892ء میں اُس نے کیتھی سے شادی کی۔ 1895ء میں اُس نے فیلکس کلین کی دعوت پر جامعہ گوٹنگن محکمہ ریاضی کے سربراہ کی حیشیت سے شامل ہوا، جو کہ اُس وقت دنیا میں ریاضی کی تحقیق کا سب سے بہترین ادارہ تھا، اور مرتے دم تک وہیں رہا۔ اُس کے 75 پی ایچ ڈی کے شاگرد تھے۔ ھلبرٹ 1902ء سے 1939ء تک ریاضی کے ایک معروف جرمن جریدے Mathematische Annalen کا مدیر رہا ہے۔ اُس کا 14 فروری 1943ء کو انتقال ہو گیا۔

ھلبرٹ کے مشہور 23 مسائل[ترمیم]

انٹرنیشنل کانگریش آف میتھمیٹکس کے 1900ء کے پیرس کے اجلاس میں ھلبرٹ نے ریاضی کے 23 غیرحل شدہ مسائل پیش کئے ۔ یہ مسائل عموما نہیایت کامیاب اور گہرے تالیف کیے ہوئے غیر حل شدہ مسائل میں گنے جاتے ہیں۔ اس دوران ھلبرٹ نے یہ کہا

"ہم میں سے کون نہیں ہے جو آنے والی صدیوں میں مستقبل سے، جو کہ ہم سے پوشیدہ ہے، سا ئنس میں ہونے والی پیش رفت اور اس کے خفیہ رازوں سے پردہ اُٹھانا چاہتا ہو؟ آنے والی سائنسی پیش رفت اور اس کے رازوں کو آنے والی صدیوں میں دیکھنا چاہتا ہو۔ [2]"

اُس نے دس مسائل اجلاس میں پیش کیے، جو کہ اجلاس میں شائع ہوئے۔ بعد کی اشاعت میں ھلبرٹ نے اس میں توسع کی اور ہم اُسے آج ھلبرٹ کے 23 مسائل کے نام سے جانتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مسائل بہت جلد ہی حل ہو گئے مگر کچھ پر پوری بیسوی صدی میں بحث ہوتی رہی اور کچھ آج بھی ریاضی دانوں کے لیے چیلنچ بنے ہوئے ہیں۔

طبیعیات[ترمیم]

1912ء تک ھلبرٹ خالص ریاضی دان تھا۔ جب اُس نے بون جانے کا ارادہ کیا تو اُس نے طبیعیات کو نہایت دلچسپی سے پڑھنا شروع کیا۔ اُس نے اپنے لیے ایک طبیعا کے استاد کا بھی بندوبست کیا۔ 1907ء تک البرٹ آئنسٹائن کشش ثقل کے اصول کا بنیادی کام کر چکا تھا،مگر 8 سالوں تک اُسے ان اصول کو مکمل کرنے میں مشکلات ہوتی رہیں۔ 1915ء میں ھلبرٹ عمومی اضافیت (General Relativity) میں کافی دلچسپی لے رہا تھا اس لیے اُس نے آئنسٹائن کو دعوت دی اور ایک ہفتے تک اُسے اس مضمون پر لیکچر دیے[3] Einstein received an enthusiastic reception at Göttingen.[4]۔ آئنسٹائن کو اندازہ ہوا کہ ھلبرٹ بھی اُنہی میدانی مساوات (Field equations) پر کام کر رہا ہے۔ نومبر 1915 میں آئنسٹائن نے کئی پرچے اس مضمون پر شائع کیے۔ اسی دوران ھلبرٹ نے بھی اسی موضوع پر ایک پرچہ لکھا مگر اُن مساوات کا سہراآئنسٹائن کو ہی دیا اور اُن کی زندگی میں کبھی بھی اس بات پر جھگڑا نہیں ہوا۔

اس نے مقداریہ آلاتیات (Quantum mechanics) کی ریاضی پر بھی بہت کام کیا۔ اپنے طبعیات کے کام کے دوران اس نے اس بات پر کام کیا کے طبیعیات کے لیے ریاضی اتنی ہی ٹھوس، منطقی اور سخت اصولوں پر ہو جس طرح ریاضی ہوتی ہے۔ طبیعیات دان اگرچہ بہت اعلی درجے کی ریاضی اپنے کام میں استعمال کرتے ہیں، مگر وہ استعمال کرتے ہوئے کچھ لاپرواہ ہو جاتے ہیں۔ ھلبرٹ جیسے بلند پایا ریاضی دان کے لیے یہ نا صرف بدصورت تھا بلکہ سمجھنے میں بھی مشکل تھا۔

ھلبرٹ منصوبہ[ترمیم]

ھلبرٹ نے 1920ء میں ایک تحقیقاتی منصوبے کی تجویز دی جو کہ بعد میں ھلبرٹ منصوبہ کے نام سے مشہور ہوا۔ وہ چاہتا تھا کہ ریاضی کو ٹھوس اور منطقی (Logical) بنیادوں پر اخز کیا جائے۔ اُسے یقین تھا کہ اگر ریاضی کی تمام شاخیں درستگی سے چنے ہوئے متناہی مسلمات (Axioms) سے اخر کی جائے تو یہ کام ہو سکتا ہے۔

یہ منصوبہ آج بھی سب سے مشہور فلسفہ ریاضی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

گوڈل کا کام[ترمیم]

ھلبرٹ اور دوسرے ریاضی دان کے اصول واضح کرنے پر کام کر رہے تھے۔ کرٹ گوڈل ایک جرمن ریاضی دان نے یہ دکھایا کہ کوئی بھی غیر متضاد نظام (Non-contradictory System) اپنے ہی مسلمات (Axioms) سے مکمل نہیں ہو سکتا۔ اُس نے 1931ء کے نظریہ نامکمل (Incompleteness Theorem) میں یہ ثابت کیا کہ ھلبرٹ کا منصوبہ ناممکن ہے۔

اقتباسات[ترمیم]

ڈیوڈھلبرٹ کا مقبرہ
ہمیں ضرور جاننا ہے،
ہم جان جائیں گے

ہمیں ضرور جاننا ہے، ہم جان جائیں گے۔ : 1930ء
ڈیوڈ ھلبرٹ کا یہ مشہور قول جو اُس نے اپنی ریٹایر منٹ کے دن خطاب کرے ہوئے کہا تھا، اُس کی قبر پر لکھا ہوا ہے۔

کوئی ہمیں اُس جنت سے نہیں نکالے گا جو کہ جورج کنٹور نے بنائی ہے۔

ریاضی کی کوئی ذات نہیں ہے کوئی جغرافیائی سرحد نہیں ہے۔ ریاضی کی ثقافتی دنیا میں صرف ایک ملک ہے۔

اگر میں ہزار سال تک سوتا رہوں تو جاگنے کے بعد میرا پہلا سوال ہو گا کہ کیا ریمان کا مفروضہ حل ہو گیا ہے۔

ریاضی قدرتی مظاہر کے درست علم کی بنیاد ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "David Hilbert". Encyclopedia Britannica. 2007. http://www.britannica.com/eb/article-9040439/David-Hilbert. Retrieved 2007-09-08. 
  2. ^ www.seas.harvard.edu/courses/cs121/handouts/Hilbert.pdf
  3. ^ Sauer 1999, Folsing 1998, Isaacson 2007:212
  4. ^ Isaacson 2007:213

بیرونی روابط[ترمیم]