عمر البشیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عمر حسن احمد البشیر سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عمر البشیر
(عربی میں: عمر البشير ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Omar al-Bashir, 12th AU Summit, 090202-N-0506A-137 cropped.jpg
 

مناصب
صدر سوڈان[1] (7 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
30 جون 1989  – 11 اپریل 2019 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
احمد عوض بن عوف‎  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1944 (76 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حوش بانقا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام نظر بندی خرطوم[3]  ویکی ڈیٹا پر (P2632) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Sudan.svg سوڈان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت سوڈانی سوشلسٹ پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی سوڈانی ملٹری کالج
مصری ملٹری اکیڈمی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام و سزا
جرم منی لانڈرنگ  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
شاخ ہوائی افواج  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ سالار  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کمانڈر سوڈانی مسلح افواج  ویکی ڈیٹا پر (P598) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں جنگ یوم کپور،  دوسری سوڈانی خانہ جنگی،  دارفور تنازع،  جنوبی سوڈان-سوڈان سرحدی جنگ 2012ء  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Order of the Republic of Serbia - 2nd Class - ribbon bar.png آرڈر آف دی ریپبلک آف سربیا  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عمر البشیر (پیدائش، 1 جنوری 1944ء) جن کا پورا نام عمر حسن احمد البشیر ہے۔ سوڈان کی نیشنل کانگریس کے سربراہ اور سوڈان کے ساتويں صدر رہے ہیں۔ 1956 میں سوڈان کی آزادی کے بعد سے اب تک عمر حسن البشیر کو طویل ترین عرصے تک صدارت کے عہدے پر فائز رہنے کا اعزاز حاصل ہے، انہوں نے یہ منصب 16 اکتوبر 1993 کو سنبھالا تھا۔ عمرالبشیر اپریل 2015ء میں دوسری بار اس عہدے کے لیے منتخب ہوئے۔ 1989ء میں سوڈانی فوج کے ایک بریگیڈیئر کے طور پر عمر البشیر جنوب میں باغیوں کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کے بعد وزیر اعظم صادق المہدی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو معزول کرنے والے فوجی گروہ میں شریک تھے۔[5] اس کے بعد سے، انہیں تین بار منتخب صدر ہونے کے باوجود غبن کرنے کرنے کے الزام کا سامنا رہا ہے[6]۔ مارچ 2009ء میں پہلی بار البشیر پر بین الاقوامی عدالت جرائم میں دارفر میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر قتل کی ہدایات دینے، عصمت دری کرنے اور شہریوں کی املاک لوٹنے کا حکم دینے کا الزام لگایا گيا۔[7]

صدارت کے عہدے سے استعفی[ترمیم]

سوڈان میں اشیاء خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عوام سراپا احتجاج تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ صدر عمر حسن کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ 11 اپریل 2019 کو عمر حسن البشیر نے شدید عوامی احتجاج کے بعد عہدے سے استعفی دے دیا جس کے بعد تقریباً تین دہائی پر محیط اُن کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا اور فوج نے امور مملکت سنبھال لیے۔ گزشتہ 6 روز سے صدر عمر حسن البشیر کے خلاف احتجاجاً ہزاروں افراد آرمی ہیڈ کوارٹر کے باہر جمع تھے جس کے بعد عمر حسن البشیر صدارت کے عہدے سے استعفی دے دیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.theguardian.com/world/2019/apr/11/sudan-army-ousts-bashir-after-30-years-in-power
  2. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000019182 — بنام: Omar Hassan Ahmad al- Bashir — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. http://www.rfi.fr/afrique/20190417-soudan-omar-el-bechir-transfere-une-prison-khartoum
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb16256447k — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. "FACTBOX – Sudan's President Omar Hassan al-Bashir". روئٹرز. Jul 14, 2008. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ Jul 16, 2008. 
  6. "BBC News – Dream election result for Sudan's President Bashir". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2014. 
  7. "Genocide in Darfur – United Human Rights Council". United Human Rights Council. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2014.