پطرس کا دوسرا خط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


پطرس کا دوسرا خط(انگریزی: Second Epistle of Peter) جسے 2-پطرس بھی لکھا جاتا ہے۔ عہد نامہ جدید میں شامل ایک تحریر ہے۔ جو پطرس حواری سے منسوب ہے اگرچہ بالکل ابتدائی مسیحی علما میں سے بھی کئی اس کو جعلی اور مشکوک قرار دیتے تھے۔ پھر چوتھی صدی میں جا کر اسے باقاعدہ پطرس کا خط مانا گیا اور اسے شامل کتاب کیا گیا، دور جدید کے اکثر ماہرین اسے جعلی قرار دیتے ہیں کہ پطرس کی طرف اس کی نسبت درست نہیں۔[1]

پطرس-2 میں یہوداہ کے کئی اقتباسات موجود ہیں یا یہوداہ کے خط میں یہ پطرس کے اس خط سے اخذ کیے گئے،[2] باب 2 یہوداہ کے خط سے نمایاں طور پر مشابہت رکھتا ہے۔

مواد[ترمیم]

اس خط کا اسلوب اور مواد پطرس کے پہلے خط سے بالکل جدا ہے۔[3]

خط کا مواد کافی حد تک یہوداہ کے خط سے مماثلت رکھتا ہے، 1:5 یہوداہ 3 سے ; 1:12 یہوداہ 5 سے ; 2:1 یہوداہ 4 سے ; 2:4 یہوداہ 6 سے ; 2:5 یہوداہ 5 سے ; 2:6 یہوداہ 7 سے ; 2:10–11 یہوداہ 8–9 سے ; 2:12 یہوداہ 10 سے ; 2:13–17 یہوداہ 11–13 سے ; 2:18 یہوداہ 16 سے ; 3:2ایف یہوداہ 17ایف سے ; 3:3 یہوداہ 18 سے ; 3:14 یہوداہ 24 سے ; اور 3:18 یہوداہ 25 سے ۔[4] کیونکہ یہوداہ کا خط پطرس-2 کے مقابل بہت چھوٹا ہے اور اس کے خاص اسلوب کی تفصیلات کی وجہ سے ماہرین اس خط کا ماخذ یہوداہ کے خط کو قرار دیتے ہیں۔[4][5]

سامعین[ترمیم]

اس خط میں سامعین عام طور پر ایشیائے کوچک میں مختلف گرجا گھروں کے ہیں۔

خاکہ[ترمیم]

عام طور پر خط کو درجہ ذیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔[3]

  • خطاب (2 پطرس 1:1–2)
  • مسیحی فضیلت کے لیے نصیحت (2 پطرس 1:3–21)
  • جھوٹے اساتذہ کی مذمت (2 پطرس 2:1–22)
  • تاخیر آمد ثانی (2 پطرس 3:1–16)
  • حتمی نصیحت اور Doxology (2 پطرس 3:17–18)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Wallace, Daniel Second Peter: Introduction, Argument, and Outline
  2. Albert E. Barnett, The Interpreters' Bible, 1957, volume 12, p. 154 "The incorporation of Jude as its seconed chapter"
  3. ^ ا ب 2 Peter Introduction, New American Bible
  4. ^ ا ب T. Callan, "Use of the Letter of Jude by the Second Letter of Peter", Biblica 85 (2004), pp. 42–64.
  5. The Westminster dictionary of New Testament and early Christian literature, David Edward Aune, p. 256