کتاب نحمیاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کتاب نحمیاہ چونکہ حضرت نحمیاہ کے حالات پر مشتمل ہے اس لیے اسے حضرت نحمیاہ کی تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ بعض علماءکا خیال ہے کہ یہ کتاب حضرت عزرا کی کتاب کا تتمہ ہے۔ بعض شواہد کی بنا پر اس کتاب کو 423 سے 400 قبل مسیح کی تصنیف سمجھا گیا ہے۔
حضرت نحمیاہ یہودیوں کی بابل اسیری کے زمانہ میں ارتخششتا اول ، شہنشاہ ایران جس کا دور 465 سے 424 قبل مسیح ہے،کے قابل اعتماد اور با وفا ساقی تھے۔ بادشاہ کو اُس کی دلپسند مشروبات بہم پہنچانے کا کام ایک اعلیٰ عہدہ سمجھا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہی ساقی صرف مشروبات ہی باہم نہیں پہنچاتا تھا بلکہ بادشاہ کا رازدار اور مشیر بھی ہوتا تھا۔اس اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہوئے بھی حضرت نحمیاہ کے دل میں ایک معمولی شہر یروشلیم واپسی کی خواہش رہتی تھی۔آپ بڑے خدا ترس اور راست باز شخص تھے اور تمام امرا اور درباری آپ کے تدبر اور سیاسی شعور کے قائل تھے۔
حضرت عزرا کی یروشلیم کو واپسی کے 12 سال بعد آپ خود بھی عازم یروشلیم ہوئے۔ بادشاہ نے آپ کی خدمات سے خوش ہو کر آپ کو واپسی کی اجازت عطا فرمائی۔ چونکہ آپ سیاست سے دلچسپی رکھتے تھے، آپ یروشلیم کے گورنر کی حیثیت سے سرفراز کیے گئے۔ اُن دنوں یروشلیم چاروں طرف سے دشمنوں سے گھر ہوا تھا۔ آپ نے دشمنوں کو یروشلیم کے خلاف کبھی کامیاب نہ ہونے دیا۔ اس کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ آپ نے یروشلیم کی فصیلوں کو ازسر نو تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کی اور شہر والوں کو اپنے دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ہمت دلائیَ۔
آپ نے اپنی واپسی پر شہر کی خستہ حالت ملاحظہ فرمائی اور آپ کو اُس شہر کی فوری مرمت اور اُس کی فصیلوں کو از سر نو تعمیر کرنے کا خیال آیا۔ بادشاہ نے نہ صرف آپ کو یروشلیم واپسی کی اجازت دی بلکہ شہر کی تعمیر نو کے لیے جس سازوسامان کی آپ کو ضرورت تھی ، وہ سامان آپ کو فراہم کیا۔آپ نے باوجود مخالفت کے اپنی اصطلاحات جاری رکھیں اور صرف باون دنوں میں دن رات محنت کر کے تعمیر کے کام کو انجام دیا۔
حضرت نحمیاہ کے کتاب توریت کو ڈھونڈ کر اسے بنی اسرائیل کو حرف بہ حرف پڑھ کر سنانے کے واقعہ سے اس کتاب کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔کتاب توریت کی بازیافتگی کے نتیجہ میں بعض احکام اور اہم مذہبی رسومات جنہیں لوگ تقریباً فراموش کر چکے تھے، پھر سے رائج کی گئیں۔ آپ کچھ عرصہ کے لیے بابل لوٹ گئے مگر جلد ہی پھر یروشلیم آ کر یہودیوں کی سماجی، مذہبی اور سیاسی زندگی کو سدھارنے کی غرض سے کئی اقدامات کیے اور مکروہات کا سدباب کیا اور اپنی قوم اسرائیل کو آزادی کا سانس لینے اور خوشحال زندگی بسر کرنے کا موقع بخشا۔ آپ کی تمام اصطلاحات کی تمام کوششوں میں خدا کی مدد ہمیشہ آپ کے شامل حال رہی اور حضرت عزرا اور حضرت ملاکی نے بھی آپ کو بہت سہارا دیا۔
اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. حضرت نحمیاہ کا یروشلیم جانا اور شہر کی فصیلوں کی تعمیر نو ( باب 1 تا باب 6)
  2. آپ کی اصلاحات کا پہلا دور (باب 7 تا باب 10)
  3. آپ کی اصلاحات کا دوسرا دور (باب 11 تا باب 13)