ابولولو فیروز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابولولو فیروز
(فارسی میں: پیروز نهاوندی)،(عربی میں: فيروز النهاوندي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 7ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نہاوند،  کاشان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 نومبر 644  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ،  کاشان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات استنزاف  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات خود کشی  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Derafsh Kaviani flag of the late Sassanid Empire.svg ساسانی سلطنت
Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فوجی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پہلوی زبان،  کلاسیکی عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں قادسیہ کی لڑائی  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیروز نهاوندی یا فیروز جسے ابولؤلؤ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کا اصل تاریخی تعارف خلیفہ دوم عمر بن خطاب کو شہید کرنے کا ہے۔ وہ نہاوند شہر کا ایک مشہور اور ماہر ترین بڑھئی تھا۔ اس نے خلیفہ دوم کو شہید کرنے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔

پیروز نهاوندی یا فیروز جسے ابولؤلؤ اور باباشجاع الدین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے رستم فرخ زاد کی زیر کمان ایرانی مجوسی فوج کا سپاہی تھا اور جنگ قادسیہ (نہاوند) میں ساسانی فوج کی شکست کے بعد غلام کے طور پر مدینہ لایا گیا- سن 23 ہجری میں مسجد نبوی میں دوران نماز اس نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر خنجر سے وار کیا- سیدنا فاروق اعظم کی شہادت کے بعد اسے قصاص میں قتل کیا گیا- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ابو لولوہ مجوسی اور آتش پرست تھا۔اسکے بارے میں آتا ہے کہ ایک عمدہ لوہار اور بڑھئی تھا- اسکے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکا تعلق نہاوند سے تھا- فیروز مجوسی کا مزار قم سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر کاشان - فنس روڈ پر واقع ہے- یہ گیارہویں صدی کے شاہانہ انداز میں تعمیر کی گئی عمارت ہے جو مرکزی ہال، صحن اور نیلے کلر کی ایرانی ٹائلوں سے مزین مخروطی گنبد پر مشتمل ہے- اسکی درست تاریخ بنیاد تو نہیں معلوم مگر چودھویں صدی کے آخری نصف میں اسے پوری طرح بحال کردیا گیا تھا اور اس پر نیا لوح تربت لگایا گیا تھا-

شیعہ اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کرنے کے عوض بابا شجاع الدین (دین کا بہادر سپوت) کا اعزاز دیتے ہیں- حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا دن آج بھی ایران کے دور دراز کے قصبات میں فیروز نہاوندی کی عظمت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جو کچھ سال پہلے تک تمام شہروں میں جشن عمر کشی کے نام سے منایا جاتا تھا جو عرب ممالک کے احتجاج پر حکام نے بند کروادیا.

2010 میں مسلمان علماء کی عالمی تنظیم نے اپیل کی کہ فیروز مجوسی کے مقبرے کو مسمار کردیا جائے- مگر ایرانی حکومت نے ماننے سے انکار کردیا- اسکے بعد جامعہ الازہر نے بھی اس مقبرے کو گرانے کا مطالبہ کیا اور ایرانی حکومت سے سفارتی تعلقات ختم کردیے- چنانچہ ایران حکومت اس مزار کو بند کرنے پر مجبور ہوگئی اور اسکی جگہ مقامی پولیس کا ہیڈ کورٹر بنادیا گیا-

تعارف

ابولولو فیروز کو پیر نہاوندی بھی کہا جاتا ہے وہ عمر بن خطاب کا قاتل تھا، وہ ایرانی الاصل اور مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا۔ اس نے مدینہ منورہ میں عمر بن خطاب کو خنجر سے وار کرکے شہید کیا۔[1]

نام اور اصلی وطن

ابو لؤلؤہ کا اصلی نام فیروز نہاوندی تھا، مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا، ابو لؤلؤہ اس کی کنیت تھی، اردو بولنے والے اسے ابولولو فیروز کہتے ہیں، لیکن اس کا اصلی نام فیروز نہاوندی اور کنیت ابولؤلؤہ تھی۔
رومیوں کی ایرانیوں سے جنگ میں اسے اسیر بنا لیا گیا اور جب مسلمانوں کی رومیوں سے جنگ ہوئی تو مسلمانوں نے اسے اپنا قیدی بنا لیا، یہ اسیر اور غلام مغیرہ بن شعبہ کے حصے میں آیا۔

ابو لولو کی ناراضی کا سبب

ابو لولو کا مالک اس سے بہت زیادہ پیسے لیتا تھا۔ اس نے خلیفہ دوم عمر بن خطاب سے شکایت کی۔ عمر فاروق نے بات سن کر جواب دیا کہ تمہارے ہنر کے مقابلے میں یہ زیادہ پیسے نہیں ہیں۔ اس پر ابولولو نے کہا کہ وہ عمر فاروق کے لیے بھی ایک چکی بنائے گا۔ عمر فاروق نے اپنے ساتھیوں کو کہہ دیا کہ اس نے مجھے قتل کی دھمکی دی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

اہل تشیع و اہل سنت کے نزدیک

شیعوں کا نظریہ

شیعہ علما نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابو لولوہ مسلمان تھا اور امیر المومنین علی بن ابی طالب کے شیعوں میں سے تھا۔[2] جبکہ ذہبی نے المختصر فی الرجال میں کہا ہے کہ ابو لولوہ عبد اللہ بن ذکوان کا بھائی تھا، عبد اللہ ثقہ اور حدیث میں قابل اعتبار اور اہل مدینہ کے بزرگ محدثین اور فقہا میں سے تھے۔ اور پھر عمر بن خطاب کے فرزند عبید اللہ نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ابو لولوہ کی بیٹی کو قتل کر دیا، امیر المومنین علی اور مقداد اور دیگر صحابہ نے ابو لولوہ کے قتل کا قصاص لینے کے لیے عثمان بن عفان سے مطالبہ کیا لیکن انہوں نے قصاص لینے سے انکار کر دیا ۔[3]

سنیوں کا نظریہ

اہل سنت کے نزدیک ابو لولوہ اپنے اصلی دین آتش پرستی پر قائم تھا۔ اس کے لیے وہ عبد اللہ بن عباس کا قول مرسلا نقل کرتے ہیں (روی عن ابن عباس: کان ابو لولوہ مجوسیا) ابن عباس سے روایت ہے کہ ابو لولوہ مجوسی اور آتش پرست تھا۔ اس کے مسلمان یا کافر کا فیصلہ نہ بھی ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ ایک غلام، ایک منافق اور قاتل تھا۔

حوالہ جات

  1. شہادتِ عمر فاروق[مردہ ربط]
  2. دیکھیے سفینۃ البحار، میرزا عبد اللہ قمی، ج7،ص559
  3. دیکھیے، تاریخ الطبری، ج3،ص302