ابولولو فیروز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابولولو فیروز
ابولولو فیروز کی قبر
ابولولو فیروز کی قبر

معلومات شخصیت
پیدائش صدی 7  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ساتویں صدی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت ساسانی سلطنت
Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فوجی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

تعارف

ابولولو فیروز کو پیر نہاوندی بھی کہا جاتا ہے وہ عمر بن خطاب کا قاتل تھا، وہ ایرانی الاصل اور مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا۔ اس نے مدینہ منورہ میں عمر بن خطاب کو خنجر سے وار کرکے قتل کیا۔[1]

نام اور اصلی وطن

ابو لؤلؤہ کا اصلی نام فیروز نہاوندی تھا، مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا ، ابو لؤلؤہ اس کی کنیت تھی، اردو بولنے والے اسے ابولولو فیروز کہتے ہیں ، لیکن اس کا اصلی نام فیروز نہاوندی اور کنیت ابولؤلؤہ تھی۔
رومیوں کی ایرانیوں سے جنگ میں اسے اسیر بنا لیا گیا اور جب مسلمانوں کی رومیوں سے جنگ ہوئی تو مسلمانوں نے اسے اپنا قیدی بنا لیا، یہ اسیر اور غلام مغیرہ بن شعبہ کے حصے میں آیا۔

ابو لولو کی ناراضی کا سبب

ابو لولو کا مالک اس سے بہت زیادہ پیسے لیتا تھا۔ اس نے خلیفہ دوم عمر بن خطاب سے شکایت کی۔ عمر فاروق نے بات سن کر جواب دیا کہ تمہارے ہنر کے مقابلے میں یہ زیادہ پیسے نہیں ہیں۔ اس پر ابولولو نے کہا کہ وہ عمر فاروق کے لیے بھی ایک چکی بنائے گا۔ عمر فاروق نے اپنے ساتھیوں کو کہہ دیا کہ اس نے مجھے قتل کی دھمکی دی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

اہل تشیع و اہل سنت کے نزدیک

شیعوں کا نظریہ

شیعہ علماء نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابو لولوہ مسلمان تھا اور امیر المومنین علی بن ابی طالب کے شیعوں میں سے تھا[2]۔ جبکہ ذہبی نے المختصر فی الرجال میں کہا ہے کہ ابو لولوہ عبداللہ بن ذکوان کا بھائی تھا، عبداللہ ثقہ اور حدیث میں قابل اعتبار اور اہل مدینہ کے بزرگ محدثین اور فقہاء میں سے تھے۔اور پھر عمر بن خطاب کے فرزند عبید اللہ نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ابو لولوہ کی بیٹی کو قتل کردیا ، امیر المومنین علی اور مقداد اور دیگر صحابہ نے ابو لولوہ کے قتل کا قصاص لینے کے لیے عثمان بن عفان سے مطالبہ کیا لیکن انہوں نے قصاص لینے سے انکار کردیا [3]۔

سنیوں کا نظریہ

اہل سنت کے نزدیک ابو لولوہ اپنے اصلی دین آتش پرستی پر قائم تھا۔ اس کے لیے وہ عبد اللہ بن عباس کا قول مرسلا نقل کرتے ہیں (روی عن ابن عباس: کان ابو لولوہ مجوسیا) ابن عباس سے روایت ہے کہ ابو لولوہ مجوسی اور آتش پرست تھا۔اس کے مسلمان یا کافر کا فیصلہ نہ بھی ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ ایک غلام، ایک منافق اور قاتل تھا۔

حوالہ جات

  1. شہادتِ عمر فاروق
  2. دیکھیے سفینۃ البحار، میرزا عبداللہ قمی، ج7،ص559
  3. دیکھیے، تاریخ الطبری، ج3،ص302