ابولولو فیروز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابولولو فیروز کا مقبرہ

ابولولو فیروز نہاوندی


تعارف

ابولولو فیروز نہاوندی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا، وہ ایرانی الاصل اور مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا۔ مدینہ منورہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خنجرسے وار کرکے شہید کیا۔[1]

نام اور اصلی وطن

ابو لؤلؤہ کا اصلی نام فیروز نہاوندی تھا، مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا ، ابو لؤلؤہ اس کی کنیت تھی، اردو بولنے والے اسے ابولولو فیروز کے نام سے یاد کرتے ہیں ، لیکن اس کا اصلی نام فیروز نہاوندی اور کنیت ابولؤلؤہ تھی۔
رومیوں کی ایرانیوں سے جنگ میں اسے اسیر بنا لیا گیا اور جب مسلمانوں کی رومیوں سے جنگ ہوئی تو مسلمانوں نے اسے اپنا قیدی بنا لیا، یہ اسیر اور غلام مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا۔

ابو لؤلؤہ کی ناراضی کا سبب

کہتے ہیں کہ وقت کے حکمران عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابولؤلؤہ پر بھاری ٹیکس عائد کررکھا تھا جس کی وجہ سے ابولؤلؤہ ان سے ناراض رہتا تھا۔ جیسا کہ اس بات کی طرف عالم اسلام کے بہت بڑے مؤرخ ابن کثیر نے اپنی تاریخ کی کتاب البدایہ والنہایہ میں ذکر کیا ہے کہ (وکان عمر قد وضع علیہ من الخراج کل یوم درہمین، فثقل علیہ الامر) کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر ہر دن میں دو درہم ٹیکس عائد کر دیا تھا جو اس پر گراں گزرا۔

ابو لؤلؤہ اور حضرت عمر کی شہادت

حکومت وقت کا عجمیوں اور خصوصاً ایرانیوں سے سلوک کچھ اچھانہیں تھا انہیں اس حکومت کے سائے تلے رہتے ہوئے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا کبھی انہیں مجوسی اور تو کبھی آتش پرست کا طعنہ دیا جاتا۔ ابولولوہ بھی اس سے مستثنی نہ تھا۔ اسی غم وغصہ کو نکالنے کے لیے اس نے خلیفہ وقت اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا۔[2]

ابو لولو مسلمان یا آتش پرست و مجوسی؟

شیعوں کا نظریہ

شیعہ علماء نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابو لولوہ مسلمان تھا اور امیر المومنین علی بن ابی طالب کے شیعوں میں سے تھا۔ دیکھیے (سفینۃ البحار، میرزا عبداللہ قمی، ج7،ص559) جبکہ ذہبی نے المختصر فی الرجال میں کہا ہے کہ ابو لولوہ عبداللہ بن ذکوان کا بھائی تھا، عبداللہ ثقہ اور حدیث میں قابل اعتبار اور اہل مدینہ کے بزرگ محدثین اور فقہاء میں سے تھے۔اور پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فرزند عبیداللہ نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ابو لولوہ کی بیٹی کو قتل کردیا ، امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اور مقداد اور دیگر صحابہ نے ابو لولوہ کے قتل کا قصاص لینے کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا لیکن انہوں نے قصاص لینے سے انکار کردیا (دیکھیے، تاریخ الطبری، ج3،ص302) اگر ابو لولوہ اور اسکی بیٹی مسلمان نہ تھے تو صحابہ کرام اور امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اس کے قتل کے قصاص کا مطالبہ کیوں کررہے ہیں۔

سنیوں کا نظریہ

اہل سنت کے نزدیک ابو لولوہ اپنے اصلی دین آتش پرستی پر قائم تھا۔ اس کے لیے وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مرسلا نقل کرتے ہیں (روی عن ابن عباس: کان ابو لولوہ مجوسیا) ابن عباس سے روایت ہے کہ ابو لولوہ مجوسی اور آتش پرست تھا۔ شیعہ اس دلیل پر اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ابو لولوہ کافر تھا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو مدینہ میں داخل کیوں ہونے دیا۔مسلمان یا کافر کا فیصلہ نہ بھی ہو لیکن یہ بات عقید ہے کہ وہ ایک منافق اور قاتل تھا۔

حوالہ جات