انکسار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

لہروں کا کسی رکاوٹ سے ٹکرا کر اسکے گرد مڑ جانا یا کسی سراخ سےگزر کر پھیل جانا انکسار diffraction کہلاتا ہے۔ ایسا اسوقت نمایاں ہوتا ہے جب رکاوٹ کی موٹائ یا سراخ کا قطر لہروں کے طول موج کے لگ بھگ مساوی ہو۔ یہ انکسار ہر طرح کی لہروں میں ہوتا ہے جیسے پانی کی لہریں، آواز کی لہریں یا برقناطیسی امواج electromagnetic waves۔



ہبل کی دوربین Hubble Telescope سے لی گئی ایک تصویر۔ ہر ستارے کے اوپر نیچے اور دائیں بائیں سے پھوٹتی ہوئی روشنی کی کرنیں اصلی نہیں ہیں بلکہ انکسار کی وجہ سے پیدا ہونے والا تصویری نقص ہے۔ انعکاسی دوربین میں چھوٹے آئنے کو سہارا دینے والی چار سلاخوں کے گرد روشنی کے انکسار کی وجہ سے یہ نقص پیدا ہوتا ہے۔ انعطافی دوربین میں روشنی کو سہارا دینے والی سلاخوں سے نہیں گزرنا پڑتا اس لیے انعطافی دوربین کی تصویروں میں یہ نقص نہیں ہوتا۔


کسی CD پر بنے tracts اتنے قریب قریب ہوتے ہیں کہ روشنی کی لہروں میں انکسار diffraction ہو جاتا ہے اور روشنی اپنے رنگوں میں بکھر کر قوس قزح جیسی شباہت پیدا کرتی ہے۔
یہاں لال رنگ سے ایک رکاوٹ دکھائی گئی ہے جس کے درمیان ایک سوراخ ہے۔ بائیں جانب سے ایک لہر اس سوراخ سے گزر کر جب دائیں جانب پہنچتی ہے تو نہ صرف پھیل جاتی ہے بلکہ اس میں phase reversals بھی واقع ہو جاتا ہے۔
Graph and image of single-slit diffraction
اگر روشنی کی راہ میں حائل رکاوٹ میں ایک چھوٹا سا چوکور سوراخ ہو تو انکسار کے بعد ایسا نمونہ حاصل ہوتا ہے۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]