خرد مالیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خرد مالیہ یا مائیکرو فائنانس سے مراد مال و دولت سے محروم آبادی میں کم مالیتی ادھار کی فراہمی ہے۔ یہ معاشی ترقی کے لیے ایک لازمی ذریعہ ہے جس سے اس آبادی کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا خرد مالیہ پروگرام[ترمیم]

بھارت میں نیشنل بینک فار انڈسٹریل اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نابارڈ) اپنے خود کا خود مالیہ نظام چلا رہا ہے۔ اس کے تحت خود امدادی زمروں (Self-Help Groups) کی مدد پچھلے کئی دہائیوں کی جاتی رہی ہے جس سے دیہاتی عورتیں استفادہ کرتی ہیں۔ اس منصوبے کی بے پناہ کامیابی روایتی سوچ کو بدل دے چکی ہے اور رسمی شعبے اس تحریک سے وابستہ ہونے کے لیے آمادہ ہوچکے ہیں۔ تاحال نابارڈ کے ذریعے فروغ پا رہے خود امدادی زمرہ جات- بینک باہمی رابطہ پروگرام (Self Help Group Linkage Programme) دنیا بھر میں خردمالیہ کے سرمایے کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔

چند غور طلب امور[ترمیم]

  • موجودہ دور میں بھارت کے زیادہ تر خود مالیہ قرضہ جات کی مالیت 15,000 روپیے سے کم ہیں اور ادائیگی کے لیے مشکل سے چند ہفتے یا مہینے دیے جاتے ہیں۔ اس سے ان قرضوں کی غیرثمر آوری ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
  • اکثر قرضدار نہ صرف مالیہ سے محروم ہوتے ہیں، وہ تجارتی ہنر اور پیشہ ورانہ مہارت سے بھی خالی ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ باتیں ان کی صحیح سمت میں گامزن ہونے میں مانع ہوتے ہیں۔ اس کے لیے حکومت یا غیرسرکاری اداروں کی تربیت کے ذریعے صلاحیتوں کو ابھارنے کا کام کرنا چاہیے۔
  • خرد مالیہ سے قرض گیرندے اکثر شرح سود کی زیادتی سے پریشان ہوتے ہیں جو کافی زیادہ ہوتا ہے۔

بھارت سرکار کا ایک مستحسن اقدام[ترمیم]

بھارت سرکار "خرد مالیہ ادارہ (ترقی اور نگرانی)" (The Micro Finance Institutions (Development and Regulation) لانے جارہی ہے تاکہ ان مالیاتی اداروں کو بااثر بنایا جاسکے۔ اس بل کی رو سے خرد مالی ادارے نہ صرف قرض دے سکیں گے، بلکہ وہ خرد رقمی جمعبندی (microdeposits) بھی لے سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی بیمہ، وظیفہ اور رقمی منتقلی (money transfer) جیسی خدمات فراہم کرسکیں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بل کی رو سے یہ ادارہ جات بھارت کے مرکزی بینک (ریزرو بینک) کے تحت آجائیں گے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. “Microfinance: An Imperative for Financial Inclusion”, Preetha Reddy, Indian Management, March 2014, Volume 53, Issue3, Page 9.