سرئیلرازم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سرئیلرازم (Surrealism) ایک 1920 کی دہائی کی ایک فنکارانہ اور ادبی رویہ اور تحریک۔۔۔۔ دو عالمی جنگوں کے درمیاں جب فرد شدید زہنی انتشار کا شکار ھوا۔ تو یورپی معاشروں تو سریلسٹ تحریک کا آغاز ھوا ۔عموما کہا جاتا ہے کہ سریلیسٹ تحریک پر سگمنڈ فرائڈ کےنفسی نظریات کے سبب پروان چڑھی۔ حالانکہ اصل میں اس کا ماخذ ہیگل کے فلسفیانہ نظریات میں بہت پہلے نظر آگئے تھے۔ سرئیلزم کے معنی" حقیقت سے ماورا ایک اور حقیقت" کے ہیں۔ اس کے علاوہ اظہاری اور فنکارانہ طور پر یہ تحریک" تحت الشعور میں ڈوب کر فن کو تخلیق" کرنے کا دوسرا نام ہے۔ جو ڈاڈا ازم کا فکری اور فنکارانہ ردعمل بھی تھا۔مگر اس میں سرئیلرازم کی خاصی مماثلث بھی ہے۔ اس تحریک کے بانی اندرے برئیتوں تھے۔ جس کو وہ خالص نفسی خود کاریت (PURE PSYEHIE AUTOMATISM) کہتے تھے۔ یہ تحریری، زبان، اور دیگر مفاہیم میں استعمال ھوتی ہے۔ سرئیلرازم میں فکر تصورات اور اظہار کی سچائی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ تمام ان زہنی مشقوں سے متعلق ہے جو جمالیاتی، اخلاقی قدروں اور معاشرتی تحریمات سے انحراف کرتی ہے۔ مگر یہ تحریک زیادہ عرصے چل نہ سکی اور اس کے بہت سے اراکین اس تحریک سے علحیدہ ھو گئے۔مثال کے طور پر لوئی آرگن اور فلپ سوپول نے اس تحریک سے الگ ھوکر یسساریت پسند (LEFTISM) تحریک میں شمولت اختیار کی۔۔۔ یہ تحریک ایک انتشاری اور نفی دانش کی تحریک تھی۔ جو خواب اور حقیقت کو ایک نکتے پر دیکھنا چاھتی تھی۔ھربرٹ ریڈ کے بقول " جو تخلیق کا زاریہ مشاہدہ کے بجائے وجدان، تجزیے کے بجائے ادغام اور حقیقت کے بجائے تمثال کے طرف موڈ دیتے ہیں۔ اس تحریک کے اثرات مصوری، ڈراما، فلم، ادب، مجسمہ سازی اور آرکیٹیکچر پر ھوئے۔ اردو مین ساٹھویں کی دہائی کی شاعری میں سرئیلرازم کے خاصے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔

خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھنا مشکل ہے آئینے میں پھول کھلا ہے ہاتھ لگانا مشگل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ (قمر جمیل)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوابوں کے سب تارے جل کر راکھ ہوئے اب ہم سے کیا مانگ رہی ہے کالی رات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(فرحت زاہد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج کے زخموں سے رستا لال لہو دور افق پر بہتے بہتے اس ساحل تک آپہنچا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (گلزار) تحریر: احمدسہیل

حوالہ جات[ترمیم]