مختار نامہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مختارنامہ
Mokhtar nameh poster.jpg
تحریر داؤد میر باقری
ہدایات داؤد میر باقری
نمایاں اداکار فریبرز عرب نیا
نشر ایران
زبان فارسی
تیاری
فلم ساز سیما فلم
دورانیہ اقساط40:دورانیہ فی قسط 60 ثانیہ
تقسیم کار اسلامی جمہوریہ ایران کا نشریاتی ادارہ

مختار نامہ ایران کے فلم و سیما ادارے کا تیار کردہ ایک تاریخی اسلامی سلسلے وار ڈراما ہے جس کی کہانی مختار ثقفی کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس ڈرامے میں 140 سے زائد اہم اداکاروں نے کام کیاہے۔

زمینہ[ترمیم]

اس سلسلے وار ڈرامے کی کہانی مختار ثقفی کی زندگی سے اخذ کی گئی ہے۔ مختار ثقفی تاریخ اسلام کا ایک سنہرا باب ہے جس نے قاتلان حسین رضہ سے انتقام لینے کی خاطرشہر کوفہ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ حسین بن علی رضہ مسلمانوں کے پیارے نبی آخرلزماں صلعم کے نواسے تھے۔

تیاری کے مراحل[ترمیم]

مختار نامہ ڈرامے کو ایران کے ادارے فلم و سیما کے لیے 5 سال کے عرصے میں عکس بند کیا گیا۔ اس کھیل کی 40 اقساط ہیں اور ہر قسط تقریباً 60منٹ کے دورانئے پر مشتمل ہے۔ اس کھیل میں حسین بن علی کے قاتلان اور شہدائے کربلا کے قاتلان سے انتقام کے مناظر کے علاوہ مختار کے قیام، حکومت، آل زبیر سے جنگ و جدل، یزیدی افواج کا مکہ و مدینہ پر حملہ اور مکہ و مدینہ کی بے حرمتی سمیت واقعہ عاشورا مختار ثقفی کی حکومت کے متعلقہ بہت سے تاریخی مناظر عکس بند کیے گئے ہیں۔ اس ڈرامے کے ہدایت کار اور مکالمہ نویس داؤد میر باقری ہیں۔ یہ انکا سولہواں سلسلے وار ڈراما ہے جس کی انہوں نے ہدایت کاری کی ہے۔

اداکار[ترمیم]

اداکار کردار
فریبرز عرب نیا مختار ثقفی
مہدی فخیم زادہ عمر بن سعد
انوشیروان ارجمند رفاعہ ابن شداد
ژالہ علو دومہ الحسنا والدہ مختار ثقفی
ویشکا آسایش جعدہ بنت اشعث بن قیس، زوجہ حسن مجتبی
ابراہیم آبادی عبیدہ
شہرام حقیقت دوست عبید اللہ بن حر جعفی
بہناز جعفری ماریہ همسر ابن حر
بہنوش طباطبائی خاشعہ عروس زبیریان ہمسر منذر بن زبیر
الہام حمیدی شیرین ہمسر کیان ابوعمرہ
انوش معظمی حرملہ بن کاہل اسدی
حدیث فولادوند راحلہ، ہمسر ابراہیم بن مالک اشتر
مریم بوبانی دلہم زوجہ زہیر بن قین
رضا رویگری کیان ابوعمرہ سردار سپاہ ایرانی
فریبا کوثری عمرہ بنت نعمان بن بشیر، زوجہ دوم مختار ثقفی
نسرین مقانلو ناریہ بنت سمرہ بن جندب، ام ثابت، زوجہ اول مختار ثقفی
آہو خردمند ہمسر خولی
رضا کیانیان عبد اللہ ابن زبیر زبیری خلیفہ۔
داؤد رشیدی نعمان بن بشیر انصاری مختار ثقفی کی زوجہ کا والد
امین زندگانی مسلم بن عقیل
فرهاد اصلانی عبید اللہ بن زیاد
محمد فیلی شمر بن ذی الجوشن
فرخ نعمتی ہانی بن عروہ
پرویز پورحسینی میثم تمار
جعفر دہقان مصعب بن زبیر
حامد حدادی یحیی بن زمزم
محمد صادقی عبد اللہ بن مطیع
سیامک اطلسی حصین بن نمیر
حسن میر باقری ابراہیم بن مالک اشتر
اکبر زنجانپور سعید بن مسعود ثقفی (فرمانروا مدائن و عموی مختار)
گوہر خیراندیش حنانہ (خالہ جاریہ، خواہر خواندہ مختار)
سید جواد ہاشمی طبیان (سردار سپاہ حسن مجتبی)
پروین سلیمانی سلیمہ (اچار فروخت کرنے والی عورت)
ماہ چہرہ خلیلی جاریہ (خواہرخواندہ مختار ثقفی)
احمد ایراندوست ہارون بن منصور نعلبند، ہمبند عمر بن سعد
حسین محب اهری ابوبصیر عرب حضرمی
محمد رضا شریفی نیا محمد بن حنفیہ، محمد بن علی، برادر امام حسین
کاوہ فتوحی ابوالفضل العباس چہرہ پوشیدہ رکھا گیا تھا ۔۔ مگر بعد میں اس کردار کو حذف کر دیا گیا۔
شہرہ لرستانی از زنان قبیلہ حمدان - عمر سعدبن ابی وقاص پر سنگباری کرنے والے
صدر الدین حجازی خولی
حسن پورشیرازی بہرام رنگرز
مصطفی طاری عمرو بن حریث، کوفہ کی انتظامی فوج کا سربراہ
کریم اکبری مبارکہ احمر بن شمیط
محمد قاسم پورستار حبیب بن مظاہر
رضا آقاربی عبداللہ بن وائل
بیژن افشار محمد بن اشعث بن قیس
محمود اردلان زائدہ بن قدامہ و زہیر بن قین
عباس امیری عامر بن مسعود
روژان آریامنش حرہ دختر مختار ثقفی
رحمان باقریان زربی، غلام مختار ثقفی
بهناز توکلی ام وہب
محمود جعفری معقل، غلام عبید اللہ زیاد
مسعود خدابخشیان ابراہیم بن محمد بن طلحہ الخیر
مہرداد ضیائی بن ہمام اموی شاعر
حسین خانی بیگ ایاس بن مضارب
رضا خندان سنان بن انس
جمشید شاہ محمدی عبد اللہ بن عمر
حبیب دہقان نسب یزید بن انس مختار ثقفی کا دوست
میر صلاح حسینی عمرو بن حجاج
بہرام شاہ محمد لو بن یزید وزیر عبد اللہ بن زبیر
فریدون سورانی مسیب بن نجبہ
عنایت شفیعی عبداللہ بن کامل مختار ثقفی کا دوست
محمود بنفشہ خواہ طبیب شمر
ولی شیراندامی سلیمان بن صرد خزاعی
احمد علامہ دہر عبدالرحمن بن شریح، مختار ثقفی کا دوست
آفرین عبیسی صفیہ، مختار ثقفی کی بہن اور عبد اللہ عمر کی زوجہ
حمیدرضا عطایی سائب بن مالک اشعری، مختار ثقفی کا دوست
مجید علی اسلام منذر بن زبیر
وحید فارسی امام حسن مجتبی، چہرہ پوشیدہ رکھاگیاتھا
رضا میرباقری امام حسین، چہرہ پوشیدہ رکھاگیاتھا
صالح میرزایی آقایی جعفر بن زبیر
مظفر مقدم شبث بن ربعی
حمید مظفری مسلم بن عوسجہ
ولی اللہ مومنی شرحبیل بن ذی کلاع
حامد میرباقری وہب نصرانی اور ثابت بن مختار ثقفی (دوکردار)
مسعود ولدبیگی نجدہ بن عامر، سردار خوارج
کاظم ہژیر آزاد مہلب بن سفرہ
محمد یگانہ اسماعیل بن کثیر مختار ثقفی کا دوست جو مختار کو دھوکا دیتا ہے
اکبر سلطان علی شمر کا غلام رستم، قاتل ام وہب
بہنام تشکر پرندوں کو اڑانے کے لیے لگایاجانے والا پتلا

کہانی[ترمیم]

اس کھیل کی کہانی کو صدر اسلام میں ہونے والے واقعات، روایات اور کتب تاریخ سے اخذ کیاگیاہے۔ مختار ثقفی کے والد کا نام ابو عبید ہ ثقفی تھا جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق کی ایک مہم میں سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا جہاں وہ شہید ہو گئے۔ مختار کی پرورش ان کے چچا سعید ثقفی نے کی جو مدائن کے حاکم تھے۔ مختار ثقفی تلوار و سنان سے قطع تعلق کرکے بیلچے اور درانتی سے تعلق قائم کرچکاہے اور مدائن میں اپنے کھیتوں کاشکتاری کرتاہے۔ وہ اپنی بی وی ناریہ اور بہن جاریہ کے ہمراہ مدائن میں ہی رہائش پزیر ہے کہ ایک دن اس کو اطلاع ملتی ہے کہ حضرت حسن جو میدان جنگ سے واپس آ رہے تھے کہ ایک خارجی نے خنجر سے ان پر حملہ کرکے انکو انتہائی زخمی کر دیاہے۔ پورا عرب معاویہ بن سفیان کے زیر نگین ہے اور معاویہ رضہ نے حضرت حسن کے سر کے بدلے اپنی خاص کنیز اور سونے کے سکوں کا اعلان کیاہے۔ ان پر آشوب حالات میں حسن عہ کسی پر اعتماد نہیں کرسکتے مگر سعید ثقفی پر۔ حضرت حسن رضہ مدائن کے سفید محل میں پناہ گزین ہوتے ہیں تاکہ وہاں علاج کراسکیں۔ اسی دوران میں جب ان کے زخمی ہونے کی اطلاع مدائن میں پھیلتی ہے تو وہاں فسادات پھیل جاتے ہیں۔ بعد میں انکی زوجہ جعدہ بنت اشعث بھی مدینہ سے وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ حضرت حسن کا ارادہ ہے کہ مسلمان ان کا ساتھ دیں تاکہ وہ خلافت اس کے صحیح حقداروں تک پہنچاسکیں۔ مگر عام مسلمان حتٰی شیعان علی بھی انکا ساتھ دینے سے گریزاں ہیں۔ سعید ثقفی اپنے بھتیجے مختار کو بلاتے ہیں تاکہ وہ مدائن کے حالات کو بھی قابو کرسکے اور حضرت حسن کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لیے لائحہ عمل مرتب کرسکے۔ مختار ثقفی اس انداز سے جدوجہد کرنے کا قائل نہیں جس انداز سے اب تک شیعان علی جدوجہد کر رہے تھے تاہم وہ وعدہ کرتاہے کہ وہ حضرت حسن کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مدائن کے حالات کو بھی قابو کرنے کی کوشش کرے گا اور خوارج کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائے گا۔ اسی دوران میں حضرت حسن اور معاویہ بن سفیان میں صلح ہوجاتی ہے اور حضرت حسن واپس مدینہ روانہ ہوجاتے ہیں۔ مختار اپنے مشغلوں میں گم ہوجاتاہے کہ ایک دن اطلاع ملتی ہے کہ حضرت حسن کو زہر دے کر شہید کر دیاگیاہے۔ جس کے بعد دوبارہ فتنے اٹھتے ہیں۔ مختار کوفہ جارہتاہے۔ جبکہ اہلیان کوفہ اس سے قبل حضرت حسین رضہ کو نامے لکھ چکے ہوتے ہیں کہ اگر وہ کوفہ آجائیں تو اہلیان کوفہ انکی بیعت کرینگے اور اموی حکومت کی بیعت سے بیزاری کا اظہار کرینگے۔ اہلیان کوفہ منتظر ہیں کہ حضرت حسین تشریف لائیں۔ وہ پرجوش ہیں اور گلیوں و بازاروں میں نعرے لگاتے ہیں جبکہ کوفہ کا حاکم نعمان بن بشیر صحابی ء رسول ہے جس کی بیٹی عمرہ مختار ثقفی کی بیوی ہے۔ مختار ثقفی اموی حکومت کے خلاف سرگرم ہے۔ نعمان بن بشیر کو معطل کرکے عبداللہ بن زیاد کو بصرہ سے کوفہ بطور والیء کوفہ بھیجاجاتاہے تاکہ وہ اموی حکومت کے خلاف سرگرم عناصر کی بازپرس کرسکے۔ عبد اللہ بن زیاد بھیس بدل کر کوفہ میں داخل ہوکر دارالامارہ میں داخل ہوجاتاہے اور مسلم بن عقیل کو تلاش کرواتاہے۔ مسلم بن عقیل حضرت حسین کی طرف سے اہلیان کوفہ کے بلانے پر کوفہ آئے ہیں تاکہ وہ یہاں کے حالات معلوم کریں اورخفیہ طور پر کوفیوں سے حضرت حسین کی بیعت لیں۔ عبد اللہ بن زیاد کسی لحاظ اور احترام کے بغیر کارروائیاں انجام دیکر مسلم بن عقیل کا پتہ چلاتاہے اور بالاآخر اسے مجبور کرتاہے کہ وہ تلوار سونت کر میدان میں آجائیں۔ مسلم بن عقیل دیگر شیعہ رہنماؤں کے ہمراہ کوفہ کے دارلامارہ کے سامنے آجاتاہے۔ اموی حکومت سونے کے سکوں اور مکر کے زور پر مسلم بن عقیل کے مددگاروں کو توڑ لیتی ہے اور مسلم بن عقیل اکیلے رہ جانے کے بعد گرفتاری کے بعد انتہائی مظلومیت کے حالات میں دارلامارہ کے بلند مینار سے گرادیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد عبد اللہ بن زیاد انتہائی مکر سے مختار ثقفی کو گھیرتاہے اور اسے داخل زندان کرتاہے۔ مختار کی قید کے دوران میں عاشورہ کا انتہائی دردناک واقعہ رونما ہوتاہے جب آل محمد و دیگر محبان آل محمد کو ماسوائے خواتین اور ایک بیمار فرزند رسول کے سب کو شہید کر دیاجاتاہے۔ زندان سے مختار ثقفی اپنی بہن صفیہ کہ جو عبداللہ بن عمر رضہ کی بیوی ہے کو خط لکھتاہے کہ وہ اپنے شوہر کو سفارش کرے کہ وہ اموی خلیفہ کو کہے کہ مختار کو رہاکرے۔ اموی حکموت بلاشبہ عبد اللہ بن عمر، عبد الرحمٰن بن ابو بکر صدیق اور عبد اللہ بن زبیر رضہ جیسے بزرگان کی طاقت سے خوفزدہ تھی۔ عبد اللہ بن عمر کی سفارش پر مختار ثقفی کو رہاکر دیاجاتاہے مگر عبد اللہ بن زیاد شرط رکھتاہے کہ مخصوص ایام کے اندر وہ کوفہ چھوڑدے۔ مختار وہاں سے مکہ جاتاہے، عمرہ اداکرتاہے اور محمد الحنفیہ اور عبد اللہ بن زبیر سے ملاقات کرتاہے اور اموی حکومت کی بے اعتدالیوں پر بات چیت کرتاہے۔ اسی دوران مکہ پر اموی فوج حملہ آور ہوتی ہے اور کعبہ کو آگ لگ جاتی ہے۔ مختار ثقفی اموی افواج کا مقابلہ جانفشانی سے کرتاہے۔ اموی فوج مکہ کے محاصرہ کرلیتی ہے مگر یزید بن معاویہ کی وفات کی اطلاع کے بعد اموی فوج محاصرہ چھوڑ کر واپس چلی جاتی ہے۔ جبکہ مختار ثقفی کوفے واپس آجاتاہے۔ کوفے آکر وہ شیعان علی کو اپنے ساتھ ملاتاہے اور اموی حکمران اور بعد میں زبیری حکمران کو کوفے سے نکال کر خود امیر کوفہ بن جاتاہے۔ اس نے اس شرط پر امارت سنبھالی تھی کہ وہ قاتلان حسین سے بدلہ لیناچاہتاہے اور حکومت عدل قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ پس اسی لیے تمام بزرگان کوفہ اور دیگر مسلمانان نے مختار ثقفی کاساتھ دیا اور کوفہ میں حکومت قائم کی۔ حسب وعدہ مختار ثقفی نے قاتلان حسین سے بدلہ لینے کی شروعات کیں اور ایک ایک کرکے تمام قاتلان حسین یا جو بھی عاشورہ کے واقعہ میں کسی نہ کسی طرح آل رسول محمد صلعم کو نقصان پہنچانے میں ملوث تھے کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے ہوئے سب کو واصل جہنم کیا۔ عمر بن سعد بن ابی وقاص کہ جو مختار بن ثقفی کا رشتہ دار بھی ہے مختار کی بہن کا جاریہ کا رشتہ مانگتاہے اور مختار کے نہ چاہنے کے باوجود جاریہ اس رشتے کو قبول کرتی ہے۔ پسر سعد بھی عاشورہ کے دن میدان عاشورہ میں موجود تھا اور فاطمہ کے لخت جگر کے خیموں کی طرف پہلا تیر بھی اسی نے پھینکاتھا۔ اس لیے مختار ثقفی عمر سعد سے بدلہ لیناچاہتاتھ اور اس نے اس میں کامیابی بھی حاصل کی۔ اموی حکومت زبوں حالی کاشکار ہوجاتی ہے جبکہ زبیری حکومت حجاز مقدس کے ایک بڑے حصے پر حکمرانی کر رہی ہوتی ہے کوفے پر حملہ آور ہوتی ہے اوربہت سے معرکوں کے بعد مختار کو شکست دے کر کوفہ پر قبضہ کرلیتی ہے۔

حذف شدہ مناظر[ترمیم]

اس سلسلے وار ڈرامے کی کہانی صدر اسلام سے متعلق واقعات پر منحصر ہے۔ ایسے میں کہانی اہل بیت اور اہل بیت عہ کے چاہنے والوں کے مابین گھومتی ہے۔ ایرانی ٹی وی کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ داؤدمیرباقری صاحب نے کربلا اور عاشور کے واقعات کو عکسبند کیا اور بالخصوص میدان عاشورمیں حضرت حسین عہ کی آخری نمازظہرکے مناظر بھی شامل کیے گئے تھے۔ داؤدمیر باقری صاحب نے اس کھیل کے لیے حضرت عباس (حضرت حسین کے بھائی) کا کرداربھی عکسبند کرنے کا منصوبہ بنایا حتیٰ کہ ایک اداکار کو بطور حضرت عباس منتخب کیا گیا اورانکے بعض مناظر بھی عکسبند کیے گئے۔ مگر گوناگوں وجوہات کی بناءپر ان مناظر کو حذف کر دیاگیا۔ اس دوران میں بہت سے بنیادپرست اسلامی عناصر نے علماءکرام اور فقیہان کرام سے اس بابت فتویٰ حاصل کرنے کی گرض سے رجوع اور بعض نے مختلف نوعیت کے فتاویٰ بھی حاصل کیے۔ بعد ازاں داؤدمیرباقری نے ان مناظر کو سلسلے وارکھیل میں شامل نہیں کیا اور ان مناظر کو بطور نسخہ برائے ہدائتکارجاری کیا گیا۔ اس نسخے میں درج ذیل واقعات کو عکسبندکیاگیاہے: عباس عہ جب اہل بیت کے لیے فرات سے پانی لیجانے کی غرض سے آتے ہیں جبکہ شمر ملعون انکو منع کرتاہے اور پانی کے مشکیزے میں سوراخ کرکے بالاخر حضرت عباس کو شہید کردیتاہے۔
مزید معلومات کے لیے یہاں دیکھیں

مناظر کشی برائے عکس بندی[ترمیم]

جہاں اس ڈرامے کو عکسبند کرنے کے لیے اداکار چننے میں نہائت مہارت سے کام لیاگیاہے وہیں اس سلسلے وار ڈرامے کے عکسبندی کے لیے تاریخی ماحول اور مناظر بھی مصنوعی طور پرتخلیق کیے گئے تھے۔ ایک بڑی مقدار میں قدیم لباس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قدیم انداز کے مکانات و رہائشگاہیں بھی بنائی گئیں حتیٰ ایسے تاریخی واقعات جو خانہ کعبہ کے اندر یا اردگرد واقع ہوئے تھے انکی عکسبندی کے لیے مصنوعی طور پر شہر مکہ تعمیر کرکے وہاں مصنوعی طور پر ایک کعبہ بھی بنایاگیا تاکہ سارے واقعات کی عکسبندی میں حقیقت کے قریب تر رنگ بھراجاسکے۔ تمام اداکاروں کے لیے اس منظر کا نظارہ انتہائی دلکش اور جاذب نظر تھا۔ جعفر دھقاں اور دیگر اداکاروں کے نزدیک یہ منظر ان کے لیے نہائت زبردست تھا اور ان کے دل میں کعبہ کا احترام اور عقیدت مزید بڑھ گئی۔ عاشورہ کے واقعات کو عکسبند کرنے کے لیے مصنوعی طور پر ایک صحرا میں منظر کشی کی گئی جہاں ایک ایک کی لڑائی، گھمسان کی لڑائی اور حضرت حسین رضہ کی آخری نماز کے مناظر بھی عکسبند کیے گئے۔ مریم بوبانی ان مناطر کی عکسبندی کے دوران میں بطور زوجہء زهیر بن قین کربلا کے میدان میں موجود تھیں وہ کہتی ہیں کہ جب ان مناظر کی عکسبندی کی جا رہی تھی اور ایک ایک کرکے تمام اہل بیت اور اصحاب اہل بیت شہید ہوئے تو مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں حقیقت میں رونے لگی اور میرا کلیجا غم حسین سے پھھٹنے لگا حالانکہ یہ مصنوعی مناظر تھے مگر میں تاریخ کی بھول بھلیوں میں بھٹکتی ہوئی اصل میں لاشعوری طور پر کربلا کے میدان پر پہنچ گئی اور حسین عہ کے پسماندگان کے غم کو بڑی حد تک محسوس کیا۔

ماخذ[ترمیم]

اس ڈرامے کو درج ذیل کتب تاریخ سے اخذ کیاگیاہے:
تاریخ طبری،تالیف ابوجعفر محمد بن جریر بن رستم طبری
ترجمہ ابوالقاسم پایندہ ،تهران ،اساطیر،
کامل، تاریخ بزرگ اسلام و ایران ،ابن اثیر،ترجمہ عباس خلیلی، موسسہ مطبوعات علمی،مروج الذهب، ابوالحسن مسعودی، ترجمہ ابوالقاسم پایندہ، تهران،
مقتل ابومخنف، ترجمہ حجت اللہ جودکی تهران ،
قیام توابین، ابراهیم بیضون، ترجمہ کریم زمانی، قم،
سرگزشت کشتہ شدگان از فرزندان ابوطالب ترجمہ مقاتل الطالبیین،ترجمہ حجت السلام و المسلمین رسولی محلاتی، تهران ،
مختارنامہ، چاپ سنگی، نفس المهموم،آیت ا۔۔. شهرانی
صلح امام حسن، شیخ راضی آل یاسین،ترجمہ آیت ا۔۔. سید علی خامنہ ای، تهران،
ماهیت قیام مختار، ابوفاضل رضوی اردکانی، قم ،
در سوگ امیر آزادی ترجمہ مثیر الاحزان،ترجمہ علی کرمی، قم،حاذق،
جلوہ تاریخ در ترجمہ شرح نهج البلاغہ ابن ابی الحدید، ترجمہ محمود مهدوی دامغانی،تهران،نشر نی،
تاریخ سیاسی اسلام از رسول جعفریان،قم،
آثار استاد علامہ عسکری

حوالہ جات[ترمیم]

داستان مختار ثقفی اموسوم مختار نامہ برائے ٹی وی۔ منابع و ماخذ
مختار نامہ کی 40 اقساط اردو زبان میں ملاحظہ فرمائیں
مختار نامہ کی دفتری تعارفی سائٹ بزبان اردو
امیر مختار

نگار خانہ[ترمیم]