نرک (ہندومت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہندو مذہب میں جہنم کے لیے نرک (سنسکرت: नरक) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔ اور تمام دیگر مذہبی عقائد کے مطابق ایسی جگہ جہاں مرنے کے بعد گہنگاروں کو بھجا جائے گا۔[1] ہندو مت میں نرک موت کے دیوتا یَم کی رہائش گاہ بھی کہی جاتی ہے جو کائنات کے جنوب پاتال کے نیچے واقع ہے جہنم کے ناموں کی تعداد اور اس میں گناہوں کے اعتبار سے بھیجے جانے والے کہنگاروں اور درجات کی تعداد کے حوالے سے مختلف متن ہیں لیکن ان سب میں سے جس تعداد پر زیادہ اتفاق پایا جاتا اس کے مطابق نرک کے 28 درجات یا اقسام ہیں[1] کہ موت کے بعد یَم کا ایک ہر کارہ جسے یَم دوت کہا جاتا ہے تمام ارواح کو یَم کی عدالت میں پیش کرتا ہے جہاں پہ یم لائے جانے والی تمام ارواح کے کردار زندگی اور اعمال کا جائزہ لے کے نیکی اور بدی کا حساب کرتا ہے اور پھر نیکوکاروں کو سورگ میں اور بروں کو نرک میں بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ایسا کہا جاتا اور یہ عقیدہ رکھاجاتا ہے کہ نرک اور سورگ میں قیام اعمال کی بنیاد پر ایک مخسوس مدتِ وقت کے لیے ہوگا جو گناہوں کی سزا یا نیکوں کر جزا پوری ہونے پر ختم ہو جائے گا اور وہ روح پھر سے اچھائی یا برائی کا کردار لیے پیدا ہو جائے گی۔[1]

مقام[ترمیم]

بھگوت پران کے مطابق نرک زمیں کے نیچے پاتال میں ہے جو سات زیرِ زمین اقلیموں اور گربھودت ،ساگر کے بعد ہے جو کائنات کا زیریں ترین حصہ ہے یہ کائنات کے جنوب میں پتر لوکا میں واقع ہے جہاں مردہ اجداد اور اگلس واتا کی رہائش بھی یہیں ہے نرک کا سردار بھی اپنے چیلوں چانٹوں کے ساتھ یہیں رہتا ہے۔[2] دیوی بھگوت پران کے بقول نرک کائنات کے جنوبی حصہ میں زمین میں سب سے نیچے لیکن پاتال سے اوپر ہے۔[3] وشنو پران میں کہا گیا ہے کہ کائناتی پانیوں سے نیچے کائنات کی تہ میں واقع ہے[4] ہندو دیو مالا اس بات پہ متفق ہے کہ نرک جنوب میں ہے وہ سمت جس پہ یم کی حکمرانی ہے اور اسے موت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ پتر لوک یم کا دار الخلافہ کہا جاتا ہے جہاں پہ وہ اپنے انداز سے عدالت لگاتا ہے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Anna L. Dallapiccola۔ "Naraka"۔ Dictionary of Hindu Lore and Legend۔ Thames & Hudson۔ آئی ایس بی این 978-0-500-51088-9۔ (رکنیت درکار)
  2. Prabhupada۔ "Bhagavata Purana 5.26"۔ The Bhaktivedanta Book Trust International, Inc.۔ مورخہ 2012-11-13 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Mani, Vettam۔ Puranic Encyclopaedia: A Comprehensive Dictionary With Special Reference to the Epic and Puranic Literature۔ Delhi: Motilal Banarsidass۔ صفحات 368–70۔ آئی ایس بی این 0-8426-0822-2۔
  4. Horace Hayman Wilson۔ "Chapter VI"۔ The Vishnu Purana (Translation)۔ London: Trubner & co.۔ صفحات 207–11۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. Hopkins, Edward۔ Epic Mythology۔ Motilal Banarasidass۔ صفحات 108–9۔