بریڈفورڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بریڈفورڈ شہرکی مرکزی شاہراہ سن برج روڈ، رات تاریکی کا ایک خوبصورت منظر
الحمرا تھیٹر کی عمارت کا بیرونی منظر

بریڈفورڈ (انگریزی: Bradford) شمالی برطانیہ کے ریجن یارکشائر کا ایک شہر ہے، جو ماضی میں اون کی ملوں، اونی کپڑوں کی صنعت اور حال میں پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کی اکثریت کے باعث مشہور ہے۔ یہ وہ شہر ہے جسے پورے برطانیہ میں سب سے پہلے ایشیائی، مسلم اور پاکستانی محمد عجیب کو 1985 میں لارڈ مئیر بنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ بریڈفورڈ کا ایک تعارف مایہ ناز رائٹر فیملی برونٹے سسٹرز بھی ہیں جوکہ بریدفورڈ کے علاقے ہاورتھ میں رہائش پذیر تھی۔ ان میں ایک Emily Brontë's ہیں جن کا شہرہ آفاق “ناول ودرنگ ہائیٹس“ بہت معروف ہھے۔ اس شہر کے اور بھی کئی اعزازات ہیں۔ مثلا آج کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کا قیام اسی شہر میں ایک وولن مل لسٹر ہل مل میں عمل میں آیا۔ اسکولوں میں بچوں کے لئے کھانا پہلے اسی شہر کے اسکولوں سے شروع کیا گیا تھا جبکہ اسی شہر کو برطا نیہ بھر میں سب سے پہلے مسلمان بچوں کےلئے حلال کھانا 1984 میں فراہم کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں کچھ لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ بریڈفورڈ میں ہی سب سے پہلے حلال گوشت کی فروخت شروع کی گئی تھی تاہم اس دعویٰ کا ثبوت نہیں ہے۔ البتہ یہ طے ہے یہاں پر ایک تاجر غلام حسین شاہ المعروف گلاسی شاہ کو جون 1950 میں حلال گوشت کا لائسنس دیا گیا تھا۔ غلام حسین بریڈفورڈ میں حلال گوشت فروخت کرنے والا پہلا تاجر تھا۔ یہ برطانیہ کا واحد شہر ہے جس میں اب تک تین مسلمان اور پاکستانی لارڈ مئیر منتخب ہوچکے ہیں جن میں محمد عجیب، رنگزیب چوہدری اور کونسلر غضنفر خالق شامل ہیں۔ اس شہر میں مسلمانوں کے کونسلر اپنی آبادی سے زیادہ ہیں۔ کل ایشیائی و مسلم کونسلروں کی تعداد تادم تحریر 21 ہے (شہر کے کل کونسلروں کی تعداد اس وقت 90 ہے)۔ جن میں زیادہ ایشیائی کونسلرز لیبر اور دوسرے نمبر پر کنزرویٹو پارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوئے ہیں البتہ 2 کونسلر لبرل پارٹی کے پلیٹ فارم سے بھی منتخب ہوئے ہیں۔

لسٹر پارک کا کارٹ رائٹ ہال

محل وقوع[ترمیم]

بریڈفورڈ شہر دیکھنے والے اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ شہر ایک پیالے میں بنا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ پیالے کے ابھرے کناروں کی طرح چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر بستیاں آباد ہیں۔ اور ان بستیوں کے دامن میں پیالے کے پیندے کی مانند جگہ پر سٹی سینٹر واقع ہے۔ غالبا اسی لئے اس شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کوئی بھی شخص راستہ نہیں بھول سکتا، اگر کوئی ڈھلوان سے نیچے کی جانب اترنا شروع کردے تو وہ سیدھا سٹی سینٹر پہنچ جائے گا اور اپنا راستہ پالے گا۔

بریڈفورڈ سٹی سینٹر کا کلاک ٹاور

زمانہ قدیم کا بریڈفورڈ[ترمیم]

قدیم زمانے میں یہاں چراگاہیں اور جنگل تھے جہاں پر قرب و جوار کے جاگیر داروں اور نوابوں کے جانور چرتے تھے۔ علاقے کے بیشتر رقبے پر جنگل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں گیمل Gamel نامی ایک شخص گھومتا پھرتا آگیا جسے اس خطہ کی خوبصورتی، قدرتی حسن، بہتے چشمے اور بل کھاتی ندیاں بہت پسند آئیں اور اس نے یہی مستقل قیام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ گیمل نے اپنے گزراوقات کے لئے بھیڑ بکریاں رکھ لیں اور گیمل کی زندگی آرام سے کٹنے لگی۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں قربانیاں پیش کرنے والوں کی ایک یادگار

بریڈفورڈ کے مختلف علاقے جو آجکل مکمل رہائشی علاقے ہیں جن میں لیڈز روڈ، کلیٹن، ھیٹن، لیجٹ گرین، انڈر کلف، تھانٹن روڈ، مانچسٹر روڈ وغیرہ چراگاہیں تھیں۔ اطراف سے ندی نالے نکلتے تھے جو کہ اس جگہ پر جمع ہوتے تھے جس جگہ پر آجکل سٹی ہال ہے۔ یہ ندی نالے اب بھی زیر زمین موجود ہیں اور کئی مقامات پر ان سے پانی بہتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب ندی نالے ایک جگہ جمع ہوئے اور ان کے گھاٹ میں وسعت آئی تو لوگوں نے اس علاقے کو Broadford کہنا شروع کردیا۔ BROAD کا معنٰی چوڑا اور FORD کے معنٰی گھاٹ یعنی چوڑا گھاٹ کا نام دیا جو بعد ازاں BRADFORD کے نام میں تبدیل ہوا۔ ماضی کے اس گھاٹ کے اونچے ٹیلے پر جاگیر دار نے اپنی حویلی تعمیر کروائی۔ اس حویلی کو جانے والے راستے کا نام آج بھی MANER ROW یعنی جاگیردار کی حویلی کو جانے والا رستہ شہر میں موجود ہے۔ یہ سڑک اب سٹی سینٹر سے چیپ سائڈ کہلاتی ہے۔

بریڈفورڈ سٹی ہال کا داخلی دروازہ

شہر میں آبادی کی شروعات[ترمیم]

شہر میں جاگیر دار یعنی نواب کی حویلی تعمیر ہونے کے بعد اس کے مزارعوں اور اس کی غریب رعایا نے اپنی جھگیاں قائم کیں۔ یہ چھوٹی سے بستی اس جگہ پر قائم کی گئی جہاں آج کل خوبصورت مارکیٹس بنی ہوئی ہیں جن میں کرک گیٹ مارکیٹ، جان اسٹریٹ مارکیٹ (جس کا نام اب کونسل نے بدل کر قویصلر رکھ دیا ہے) شامل ہیں۔ بستی آباد ہونے پر ایک دکان ایوء گیٹ IVE GATE پر کھولی گئی اور بعدازاں حکومت کا ایک سرکاری دفتر اک مکان میں قائم کیا گیا۔ اس طرح شہر کی بنیاد رکھی گئی۔

بریڈفورڈ، برطانیہ کے عظیم ڈامہ نگار، ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور براڈ کاسٹر جے-بی پرسٹلے کا مجسمہ

بریڈفورڈ کی فروخت[ترمیم]

تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں بریڈفورڈ کو ایک مرتبہ فروخت بھی کیا گیا جب سولہویں صدی میں چارلس اول نے اپنے والد کا قرض چکانے کے لئے لندن کے باسیوں کو بریڈفورڈ فروخت کردیا۔

متبرک چشمے[ترمیم]

بریڈفورڈ میں پانی کے کئی چشمے موجود تھے جن کے نام سے اب بھی شہر کی گلیاں منسوب ہیں۔ اکثر متبرک چشموں یعنی HOLY WELL پر پادریوں کا قبضہ تھا اور وہ ان کا پانی فروخت کرتے تھے۔ یہ پادری عوام کو بتلاتے کہ ان کے چشمہ کا پانی متبرک ہے اور اس میں مختلف امراض یعنی کسی میں آنکھوں کے امراض، کسی میں جلدی بیماریوں وغیرہ کی شفاء ہے،مگر آج کل ان چشموں کے پانی کو مضر صحت قرار دیا جاتا ہے اور کوئی ان کا پانی پینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ دیگر چشموں میں معروف جیکب ویل ہے جہاں آج کل مقامی حکومت کے دفاتر قائم ہیں۔ جیکب کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس کے گھر کے تہہ خانے میں چشمہ نکل آیا جس نے جیکب کو مستتقل آمدنی فراہم کی۔ جیکب پانی شہر میں فروخت کرکے اپنی روزی کماتا تھا۔